بانسری والا

aijaz

آج استاد محترم ڈاکٹر اعجاز انور کی سال گرہ ہے۔ اس خوشی کے موقع پر استاد کی لکھی ایک محبت کی کہانی پڑھنے والوں کے لئے مناسب تحفہ ہے کہ استاد نے زندگی بھر محبت ہی پھیلائی ہے۔ دیکھئے ایک خفتہ محبت نے اس افسانے میں کیا رنگ بھرے ہیں۔ 

لاہور جیسے شہر میں 45 برس پرانی بات کچھ ایسی پرانی بھی نہیں ہوتی۔ گہرے سانولے رنگ اور تیکھے نین نقش والا بابا مجھ سے اپنے ابا کے نام خط لکھوانے کے بعد اپنا پتا لکھوا رہا تھا۔ جھگیاں، مسجد دائی انگہ، لاہور اسٹیشن ۔ لفظ اسٹیشن کے اتنے بہت سے شوشے دیکھ کر اس نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ ’یہ اسٹیشن لکھا ہے‘۔ اس نے کہا ’ٹھیک ہے‘ اور پھر اسٹیشن کے الف پر انگلی رکھ کر بولا کہ یہ رہا سگنل ڈاﺅن۔ پھر اس نے کہا، ’کیسی شرم کی بات ہے کہ میں علی گڑھ سے آیا ہوں اور لکھ پڑھ نہیں سکتا اور آج تم سے خط لکھواتے ہوئے تمہیں اپنی ذاتی باتیں بتانے پر مجبور ہو گیا ہوں‘۔ بابا پاکستان بننے کے بہت برس بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لاہور میں آ بساتھا۔ یہاں اس نے دائی انگہ کی مسجد کے پاس پیپل کے درختوں تلے دو جھگیاں اسی روپے میں خرید لی تھیں۔ بانسری بہت اچھی بجاتا تھا۔ سارا دن بانسریاں بناتا اور شام ڈھلے ایک بانس پر بانسریاں سجائے، اپنی بانسری بجاتا شہر کی طرف نکل جاتا۔ انار کلی پہنچ کر بھونڈ پورہ کے بانسری بجانے کو دیکھ کر منہ سے اپنی بانسری نکالتا اور اس میں جمع تھوک کو یوں جھٹکتا جیسے تھرما میٹر کو جھٹکے دیے جاتے ہیں۔ ’ساون کے بادلو ‘ والا گیت وہیں رہ جاتا کیونکہ دوسری طرف سے پاکستانی فلم نوکر کے گیت ’راج دلارے، میں توواری واری جاﺅں‘ کی لے سنتے ہی اس نے ’بھاگاں والیو ، نام جپو مولا دا‘ کی تان اڑا دی۔ دونوں استادوں میں لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی کیونکہ میرا بابا فیاض علی شاہ بانسری بجاتے بجاتے وہاں سے نکل لیا اور میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ میں نے اپنی ڈائینمو اور بید کی ٹوکری والی ہرکولیس بائیسکل سے اتر کر اس سے پوچھا’استاد جی، آپ میدان کیوں چھوڑ آئے؟‘ اس نے کہا ’میں نے آج اڑھائی روپے میں دو بانسریاں بیچ لی ہیں۔ باقی اس کی قسمت!‘ میں نے سوال کیا، ’ آپ کسی کو شاگرد بھی بناتے ہیں اور کتنی فیس لیتے ہیں۔‘
پانچ روپے مہینہ اور اور ایک روپیہ بانسری کی قیمت۔
میں ایک روپے میں بانسری خرید کر گھر آ گیا۔ ساون کے بادلوں کی رات تھی اور پورا چاند گاہے گاہے بادلوں کی اوٹ سے جھلک دے رہا تھا۔ میں نے قلعی گر کی مشک کی طرح چھاتی پھلا کر وہ سر نکالے کہ مالک مکان کی بیٹی، جسے دیکھنے کے لیے دور دور سے لڑکے ہماری گلی میں پہنچتے تھے، چیخ کر بولی، ’بانسری بند کرو‘۔ میں یہ سوچ کر چپکا ہو رہا کہ 34 برس سے اپنے مکان کا کرایہ نہ بڑھانے والا مالک مکان بانسری بجانے پر ہمیں گھر سے نہ نکال دے۔
دوسرے روز میں پگڑی، گڑ اور آٹا دینے کی بجائے پانچ روپے دے کر فیاض علی شاہ کا شاگرد ہو گیا۔ سا نی دا پا ما گا رے سا ۔ محلے والوں نے کہا ’یہ کیا نئی aijaz anwer paintingمصیبت نازل ہو گئی‘۔ اس سے پہلے کہ کوئی وفد آ کر مالک مکان سے ملتا، وہ خود ہی مکان چھوڑ کر نئی کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔ مجھے گویا کھلی چھٹی مل گئی۔ فیاض علی شاہ کو گھر کا پتہ دے دیا۔ شام ڈھلے وہ پہاڑی راگ چھیڑے اندازے ہی سے چلے آئے کہ جہاں بھی ہوں گا، بانسری سن کر خود ہی باہر نکل آﺅں گا۔ میں نے بالکونی میں کھڑے ہو کر ایک ایسا راگ بجانا شروع کر دیا جس پر اس زمانے کے نوجوانوں اور آج کے بزرگوں میں دھینگا مشتی کی حد تک بحث ہوتی تھی کہ وہ بھیرویں تھا یا مالکونس۔ پھر سب میں صلح اس اتفاق رائے پر ہوتی تھی کہ یہ ایک بے حد ڈراﺅنا راگ تھا۔ ’بانسری بند کرو‘ کی وہ دھاڑ یونہی تو سنائی نہیں دی تھی۔ میں نے اوپر سے فیاض علی شاہ کو دیکھا اور انہوں نے مجھے نیچے سے دیکھا۔ میں پستی میں تھا ور وہ بلندی پر۔ لال، پیلی اور کالی بانسریاں بانس پر سجا رکھی تھیں۔ مرشد کا در پر چلے آنا تو تصوف کے رموز سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے میرا سر ٹھیک کرنے کے لیے بانسری کی مدد سے کچھ تکرار کی۔ میں نے جواب میں ضد کی۔ ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ موٹر سائیکل رکشا ، جو ان دنوں نئے نئے چلنا شروع ہوئے تھے، ٹھہر گئے ۔ پاکستان ٹائمز کے فوٹو گرافر چوہدری غیاث مرحوم ہماری فوٹو لینے کے لیے رکے اور اپنا پینتھر موٹر سائیکل سٹینڈ پر چڑھانے کی کوشش میں ہانپ گئے۔ میں نے نیچے آ کر بڑا دروازہ کھول دیا۔ سیڑھیاں چکر دار تھیں۔ فیاض شاہ آدھے راستے میں رک گئے۔ ماتھے پر پسینہ اور منہ سے ’ساون کے بادلو، ان سے یہ جا کہو‘ کی تان برآمد ہو رہی تھی۔ یہ بات مجھے بہت بعد میں تب سمجھ آئی جب بابا نے اپنے والد کو خط لکھواتے ہوئے مجھ سے کہا ”یہ بھی لکھو کہ جب تک تم میرے خط کا جواب نہیں دیتے، تم پر کھانا پینا حرام ہے۔“ یہ خط بھیجنے کے ایک ہفتہ بعد انہوں نے مسجد دائی انگہ کے قریب اپنی جھگی کے باہر مجھ سے گلے مل کر بتایا کہ دس سال بعد ان کے والد نے انہیں خط بھیجا ہے اور لکھا ہے کہ ’بیٹا پاکستان جانے کا تمہارا فیصلہ ٹھیک تھا۔ ہم تو یہاں قید میں بھی ہیں اور بھوکے ننگے بھی‘۔ مگر یہ بات تو بعد میں ہوئی تھی۔ اس شام میں نے کہا بابا اوپر چلتے ہیں یہاں سیڑھیوں میں بہت گرمی ہے۔ انہوں نے کہا ”یہاں آواز گونج کے ساتھ واپس آتی ہے، میرے علی گڑھ سے“۔ ہم برآمدے میں بیٹھ گئے۔ کچھ درس لیا۔ ان کے جانے کے بعد میری والدہ ناراض ہوئیں کہ ہمارے خاندان میں ناچ گانا نہیں ہو سکتا۔
میں کھانا کھائے بغیر ہی سوگیا۔ کچھ دیر بعد میری ماں نے مجھے ہلا کر جگایا اور کہا اٹھ کر بھنڈی کھا لو۔ مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بیوی تو شاید یہ کہتی کہ بھوک لگنے پر خود ہی کھا لے گا۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ماں کا کوئی بدل نہیں۔
میں نہیں مانتا لیکن گزشتہ دنوں نیشنل جیوگرافک نے بھی یہ انکشاف کیا جو عام لوگ ہزاروں برس سے جانتے ہیں کہ لڑکپن کی عمر ہی لاابالی ہوتی ہے۔ سڑک کے پار میرا دوست گاتا ”نہ یہ چاند ہوگا نہ تارے رہیں گے“ اور ادھر میں بانسری سے دھن نکالنے کی کوشش کرتا ”ساری ساری رات تیری یاد ستائے، اک تو بلم تیری یاد ستائے دوجے چندا.... “ جہاں بول بھول جاتے وہاں لے سے کام چلا لیتے۔
fluteابھی ہم نئے نئے کوہ قاف کی کہانیوں سے نکلے تھے جہاں ہر شہزادہ بغداد سے نکل کر جنگل کا رخ کرتا تھا اور گلفام پری کو تلاش کرتے کرتے بالآخر کوہ قاف پر پہنچ جاتا تھا۔ لال جن بڑی بے باک سبز پری سے کہتا تھا کہ حسن تو ہوتا ہی گستاخ ہے۔ تین پہیوں کی بڑی سی سائیکل پر جنوں اور پریوں کی کتابیں سجائے ایک بابا بٹالہ سکول کے باہر گویا آنہ لائبریری کھولے کھڑا ہوتا تھا۔ ایک روز جب اس نے مالک کے بغیر سرپٹ دوڑتے تانگے کو گھوڑے کی باگیں پکڑ کر روک لیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ وہ یقیناً اڑنے والے گھوڑے کا سائیس ہے۔ ایک روز یونہی آوارہ گھومتے میں فلیمنگ روڈ پر 1929ءمیں تعمیر ہونے والی عزیز منزل کے بہت خوبصورت بخارچے کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ بڑے سے دروازے میں اوپر سے نیچے تک پرانی اور نئی فلموں کے گانوں کی کتابیں سجی تھیں۔ قیمت فی کتابچہ ایک آنہ۔ ہر فلم میں سات آٹھ گانے ضرور ہوتے تھے۔ ان گانوں کے بول نیوز پرنٹ کے ایک ورق پر دونوں طرف چھاپ کر اسے تہہ کرنے سے چہار ورقی کتابچہ تیار ہو جاتا۔ سرورق پر جلی حروف میں فلم کا نام چھپتا۔ میں نے دیکھا کہ دروازے کے اندر سے وہی بابا باہر نکلا جو سکول کے باہر نظر آتا تھا۔ میں نے پوچھا ”ساری ساری تیری یاد ستائے“ گانے کی فلم کا کیا نام ہے تو بولا ”اجی بس شکریہ“ ہر انسان اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے۔ کچھ برس پہلے دہشت گردی کے ایک افسوس ناک واقعے میں قتل ہونے والے بے لوث سکالر ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ نے ایک لیکچر میں کہا تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں صرف ایک جگہ زمانے کی قسم کی کھائی ہے۔ ”قسم ہے زمانے کی، انسان سراسر خسارے میں ہے“۔ ہم بھی خسارے کے اس سودے میں وقت ضائع کرتے چلے گئے۔ ہر روز میکلوڈ روڈ پر سینماﺅں کے بورڈ پڑھتے، ”جلد آرہا ہے“ اور پھر ”آج شب کو“۔ اگلے روز بابا سے سات لاکھ، کوئل، سردار، نگار، چنگیز خان، پاٹے خان، سیاں اور تیس مارخان جیسی فلموں کے گانوں کی کتاب مانگتے۔
نویں جماعت کا امتحان پاس کرنا زمانے کے لڑکوں کے لیے بہت سخت مرحلہ ہوتا تھا۔ آج بھی میرا ایک پرانا دوست جو ملک کا ایک بہت بڑا صنعت کار بن چکا ہے اپنے نام کے ساتھ لکھتا ہے MABF یعنی Matric Appeared But Failed۔ یعنی میٹرک کا امتحان دیا لیکن اس امتحان میں ناکامی بھی گویا تعلیمی اہلیت کا ایک درجہ تھا۔ مگر مجھے تو برازیل والے چچا کے سپرد کر دیا گیا تھا جو اس برس ایم ایس سی میں فیل ہوتے ہوتے بچے کیونکہ انہوں نے اپنے دن رات مجھے پڑھانے میں صرف کر دیے تھے۔ میں نے میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو چچا نے کہا مجھے تم سے اس سے بہتر نمبروں کی امید تھی۔
چھت پر ایک برساتی کمرہ قرار دے کر میرے سپرد کر دی گئی کیونکہ ہمسایہ مالک مکان اپنی نئی کوٹھی میں چلے گئے تھے۔ رات کو مجھے جلاد چچا کو بھگتنا پڑتا تھا۔ دن کو میں سکول جاتا اور میری ماں جمعدارنی کو ساتھ لے کر کمرے کی ایسی صفائی کرواتی کہ ڈیسک کے خفیہ خانوں سے نسیم حجازی کے ناول اور چھت کی کڑیوں میں چھپائی بانسریاں برآمد ہو جاتیں۔
فیاض علی شاہ کے ہاں میں اب بھی جاتا تھا۔ پورے بازﺅوں والی قمیض میں یا پھر پتلوں کی جیب پھاڑ کر اس کے اندر سے بانسری جراب میں چھپا لیتا۔ ہمسائے سے سائیکل مانگ کر ایک ٹانگ سے چلاتا ہوا جاتا۔ چچا گھر میں سائیکل کھڑی دیکھ کر خوش ہوتے کہ میں اوپر برساتی میں بیٹھا مسئلہ فیثا غورث حل کررہا ہوں۔ استاد کی بیوی مجھے بیٹا کہتی تھی اور مجھے دیکھتے ہی ساتھ والی جھگی میں چارپائی پر بیٹھنے کو کہتی۔ ایک مرتبہ اس نے مجھے کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ بہت لذیذ مرغا پکایا گیا تھا اور گھر کے تندور سے روٹیاں اتاری گئی تھیں۔ معلوم ہوا کہ گھر میں کئی برس بعد مرغا پکایا گیا تھا۔ اس زمانے میں مرغی اور گندم دیسی ہی ہوتی تھیں۔ بابا اور ان کی بیوی میرا انتظار کررہے تھے کہ میں آﺅں تو میرے ساتھ کھانا کھائیں۔ ہم نے کھانا کھا لیا تو بچے کھچے سالن میں پانی ڈال کر پھر سے پکایا اور بچوں کو کھلا دیا۔
لوگ آج کل کی موسیقی سے اکتا کر کہتے ہیں کہ گانے والا تپتے فرش پر ننگے پاﺅں ٹاپ رہا ہے یا پھر اس کی قمیض میں بھڑ داخل ہوگئی ہے۔ اس زمانے کے گانوں سے بھی کچھ ایسا ہی احساس ہوتا تھا جیسے گانے والا مالک مکان کے رخصت ہونے کے بعد میٹرک کے امتحان کی تیاری کر رہا ہو۔ اپنے زمانے کے کسی خوبصورت بزرگ کو خاموشی سے جاتے دیکھ کر ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے یہ بھی اپنے زمانے کا بہت بڑا عاشق تھا۔ پھر جب نورجہاں نے گایا ”آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے، چلنے کو اب فلک سے تاروں کا کارواں ہے“ تو ہم ہر بابے کو غور سے دیکھنے لگے۔ ایک سارنگی نواز بابا بڑی لڑاکا مائی وزیرن کے ٹاٹ کے باہر کھڑا گا رہا تھا ”ساجن سے نین لڑائے ہیں“ ہم محمود علی خان فوڈ کنٹرولر کی سرکاری جیپ کے پیچھے چھپ کر تماشہ دیکھنے کا انتظار کرنے لگے۔ مائی وزیرن باہر نکلی اور اس نے بابا کے ہاتھ پر ایک آنہ رکھ دیا۔

بانسری والا” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 9, 2015 at 4:13 PM
    Permalink

    بھت خھوب -مزا آگیا پڑھ کر

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *