ریحام خان ، پائلٹ اور کاک پٹ

muhammad Shahzadتوبہ ہے! ہمارا میڈیا کسی کے پیچھے پڑ جائے تو شیطان بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہو جائے۔ ہر non-issueکو issueبنانے میں جواب نہیں ہمارے میڈیا کا۔ بھئی اس بات کا ذکر کرو کہ غریبوں کے پاس نہ کھانے کو روٹی ہے نہ پینے کو پانی نہ سر پہ چھت نہ بدن چھپانے کیلئے کپڑا۔ ان غریبوں میں پی پی پی کے جیالے بھی شامل ہیں اور مسلم لیگ کے متوالے بھی اور وہ بھی جو بھائی کے وفادار ہیں اور وہ بھی جو نہ جیالے ہیں نہ متوالے ہیں نہ بھائی کے چاہنے والے ہیں۔ مگر میڈیا کو تو ہر وقت شرارت سوجھ رہی ہوتی ہے۔ ملک انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہوتا ہے۔ اسلام کا قلعہ یعنی پاکستان خطرے میں گھرا ہوتا ہے اور وہ بھی چاروں طرف سے۔ کفار، یہود و ہنود و نصاری ہمہ وقت ہمارے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہو
تے ہیں مگر میڈیا کا شغل کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ کبھی شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی، کبھی ہمارے بزرگوارعمران خان کی آنٹی ریحام خان سے شادی، پھر ان میں طلاق کی پیش گوئیاں، پھر طلاق کا ذکر، کیوں ہوئی، کیسے ہوئی اور پھر حلالے کے آپشن پر بحث چھیڑ دی جاتی ہے۔ لوگ بھی ایسی خرافات کی بہت شوق سے پذیرائی کرتے ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ کون کسے خراب کر رہا ہے۔ میڈیا لوگوں کو یا لوگ میڈیا کو۔
ابھی بابا جی عمران خان اور آنٹی ریحام خان کی طلاق کااونٹ میڈیا پر پوری طرح سے کسی بھی کروٹ سے نہیں بیٹھا تھا کہ ایک نیا قصہ شروع ہو گیا۔ کیا جی؟ کہ ایک پائلٹ نے آنٹی ریحام کو کاک پٹ پہ بٹھا کر ہوائی سفر کروا دیا۔ بیچارے پائلٹ کی انکوائری شروع ہو گئی۔ دلیل یہ کہ بین الاقوامی ضابطوں کے تحت کاک پٹ پہ صرف ہواباز بیٹھ سکتا ہے یا جہاز کا مجاز عملہ۔ ارے بھئی ہم قرونِ اولی کے مسلمان ہے کسی بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتے ۔ ہم تو اپنے لوکل قوانین نہیں مانتے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کس چڑیا کا نام ہیں؟ اب ہراخبار، چینل اور چیتھڑے پہ یہی موضوع زیرِ بحث ہے۔
ارے بھائی آپ کو اور کوئی کام نہیں؟ کیا بیکار کی بحث میں قوم کو الجھا رکھا ہے۔ ملتِ اسلامیہ خطرے میں ہیں۔ بجائے اس کے کہ قوم کو یہ سبق پڑھایا جائے کہ جہاد کے لئے گھوڑے گدھے خچر بیل گاڑی وغیرہ تیار رکھی جاویں اور حافظ سعید صاحب کو یہ اطلاع دی جاوے کہ ایک نسل پرست، مذہب پرست اور شدت پسند ہندو عورت اپنا ناپاک وجود لئے اسلام کے قلعے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور ہمارا پاک و صاف وطن ’ناقابل اشاعت‘ حالت میں ہے۔ لہذا آپ فوراً مریدکے سے اپنے مجاہدین اکھٹے کریں، چوبرجی سے واپڈا ہاﺅس تک روڈ بلاک کریں اور ہندوستان کو چار پانچ گرجتے ہوئے انداز میں دہمکیاں دیں، ہمارا میڈیا اس موضوع پر بحث کر رہا ہے کہ ہواباز نے آنٹی ریحام کو کاک پٹ پہ کیوں بٹھایا۔ کیا احمقانہ سوچ ہے! ارے بھائی وہ ہواباز تھا۔ اگر کاک پٹ پہ نہ بٹھاتا تو اور کہاں بٹھاتا؟ اب صوفہ تو آنے سے رہا کاک پٹ میں۔ جو لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں ان کو تو یہ بات بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ کاک پٹ انتہائی تنگ جگہ ہوتی ہے۔ محاورتاً سوئی کا ناکہ ہوتا ہے۔
اب سوچیں کہ آپ اپنی گاڑی میں اکیلے جا رہے ہیں کہیں۔ راستے میں کوئی حسین آنٹی آپ سے لفٹ مانگتی ہے۔ اگر آپ لفٹ دے دیتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آنٹی آپ کے پہلو میں ہی بیٹھے گی۔ اگر پیچھے بیٹھے گی تو آپ اسکے شوفر لگیں گے۔ تو جہاز کا تصور کریں۔ اب ہواباز تو اپنی سیٹ چھوڑ کے آنٹی ریحام کے پہلو میں موجود سیٹ پر تو بیٹھنے سے رہا۔ اگر ایسا ممکن ہو جاتا تو پھر جہاز کون اڑاتا؟ کامن سینس کا اگر استعمال کر لیا جاوے جو کہ ہم لوگ شاذونادر ہی کرتے ہیں تو یہ گتھی خود بخود سلجھ جاتی ہے کہ آنٹی کو کاک پٹ پہ ہی بٹھانا عقلمندی تھی۔ پائلٹ سیٹ پر بھی بٹھایا جا سکتا تھا اگر آنٹی کو جہاز اڑانا آتا۔
لہٰذا ہماری رائے میں ہواباز نے مسافروں کی سلامتی کو مدِنظر رکھا انہیں کسی خطرے سے دوچار نہیں کیا۔ ویسے بھی آج کل ہوائی جہازوں کے حادثے بہت ہو رہے ہیں اور اچھی اچھی ائر لائنوںکے ہو رہے ہیں۔ ہمارے پائلٹ کو شاباش دینی چاہیے کہ وہ خود باہر آکر آنٹی کے پہلو میں نہیں بیٹھا۔ ایسا کرنے سے اسلام کی سرِجہاز رسوائی ہو سکتی تھی۔ دوسری صورت میں اگر وہ جذبات کی رو میں بہ جاتا تو آنٹی کو احتراماً اپنی سیٹ پر بٹھا کر جہاز کو کریش بھی کروا سکتا تھا اور ایسی صورت میں کوئی مائی کا لال اس کی انکوائری نہیں بٹھوا سکتا تھا۔ اس نے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا اور آنٹی کے لیے کاک پٹ کا انتخاب کیا۔ کہتے ہیں کہ مسجد توڑو، مندر توڑو پر کسی کا دل نہ توڑو کیونکہ دلوں میں اللہ تعالیٰ رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں پائلٹ ایک سچا مسلمان تھا۔ ایک مجاہد تھا بالکل حجاج بن یوسف کی طرح جس نے ایک لڑکی کی پکار پر سندھ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور نظریہ پاکستان کے لیے وافر مقدار میں سمینٹ اینٹ بجری ریت اور سریا فراہم کیا جسکی بدولت ہم نے مخدوش اسلام کو ایک مضبوط قلعہ فراہم کیا۔ حجاج کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس پائلٹ نے.... جو کہ بجا طور پر اس بات کا مستحق ہے کہ اسے موجودہ دور کا محمد بن قاسم لکھا اور پڑھا جائے بلکہ اس کے بارے میں ہمار ی آنے والی نسلوں کو بھی بتایا جائے اور نصابی کتابوں میں اس کے بارے میں مضامین شامل کئے جائیں.... ایک ڈھلتی عمر کی آنٹی کی خواہش کا احترام کیا اور انہیں کاک پٹ میں بٹھا کر ہوائی سیر کروائی تا کہ محترمہ اپنا غم شرعی طریقے سے غلط کر لیں ۔ اگر یہ پائلٹ ایسا نہ کرتا تو ہو سکتا ہے کہ آنٹی غم غلط کرنے کے لئے کچھ ایسی راہ اختیار کر لیتیں جس سے اسلام کے قلعے میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہوتا ۔
ٰایسے عظیم پائلٹ کو تو عصرِ حاضر کا سب سے بڑا اسلامی ہیرو قرار دینا چاہیے۔ مگر ہم نے اپنے اسلاف کی کبھی قدر نہ کی۔ یہ ہمارا المیہ ہے۔ اس پائلٹ کی خدمات ہم جیسی جاہل قوم سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہم نادان اسے بھی ارسطو کی طرح زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن فکر نہ کر اے مجاہد پائلٹ۔ تجھے جنت میں ایک پرائیویٹ جیٹ ملے گا اور بہتر حوریں ہوں گی جن میں سے ہر ایک تیرے ساتھ کاک پٹ میں بیٹھنے کے لئے بے تاب ہو گی۔ تو نے اپنے خلاف انکوائری شروع کروا لی پر آنٹی کا دل نہ توڑا۔ تیری یہ نیکی رائیگاں نہیں جائے گی۔ تو اب غم نہ کر ۔ تیرا نام بھی کبھی نہ کبھی تاریخ میں آئے گا اگر کسی غیر جانبدار تاریخ دان کے ہاتھ یہ کالم لگ گیا تو!

محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

ریحام خان ، پائلٹ اور کاک پٹ” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *