جہادی کہاں ہیں؟

muhammad Shahzad”پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ مسجدیں کعبہ کی بیٹیاں ہیں۔ عافیہ صدیقی ملتِ اسلامیہ کی بیٹی ہے۔ ہم ہندوستان سے ہزار برس جنگ کریں گے مگر اسلام پر آنچ نہ آنے دیں گے۔ ہم جہاد کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں اسلام کا پرچم لہرائیںگے اور دنیا سے ظلم کو مٹا دیں گے۔ اگر حجاج بن یوسف اسلام کی ایک بیٹی کی عزت بچانے کی خاطرسندھ پر حملہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں عافیہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ ملک میں شریعت نافذ کرو ورنہ لال مسجد کے مجاہدین سڑکوں پر آ کر خود نافذ کر دینگے۔ جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اسکے لئے کسی حکومت کی اجازت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ ہندو فوجی ہماری مسلمان ماﺅں بہنوں کی روزانہ سر عام عزت لوٹتے ہیںان کی عزت بچانے کیلئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جہادِ کشمیر میں عملی حصہ لے۔ “
اگر آپ مملکتِ خداداد پاکستان کے با خبر شہری ہیں تواوپر بیان کئے گئے مکالمے آپ کے لئے نئے نہیں ہوں گے۔ اکثر آپ کی آنکھوں سے گذرتے ہوں گے۔ کوئی بھی اخبار اٹھا لیں، کسی بھی دن کا ۔ اس نوعیت کے مکالمے آپکو بکثرت ملیں گے۔ پریس ریلیز کی صورت میں یا انٹرویوز میں۔ آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کس قبیل کے لوگ اس قسم کے مکالمے بے تکان دہراتے ہیں۔ جی ہاں ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما یا جہادی تنظیموں کے لیڈر جن کا اسلام کی روح سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔کسی بھی مذہبی اجتماع یا ریلی میں شرکت کر لیں۔ اس قماش کے لوگ اسی نوعیت کی گفتگو فرمائیں گے۔ کسی مولوی کا خطاب سن لیں۔ یہی رٹے رٹائے جملے طوطے کی طرح ایک ہی سانس میں اگل رہا ہو گا۔
چنیوٹ میں 15سالہ بچی کی اجتماعی زیادتی۔ بچی کی وڈیو پورے گاﺅں میں پھیل گئی۔ پولیس پرچہ درج کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ قصور میں سینکڑوں بچوں سے جنسی زیادتی اور انکی وڈیو بنانے والا گروہ گرفتار۔ ڈسکہ میں ووٹ نہ دینے پر امیدوار نے میاں بیوی کا منہ کالا کر کے تشدد کیا۔ جام پو رمیں ووٹ نہ دینے پر80 سالہ بزرگ کو مارا پیٹا گیا اور ناک اور کان کاٹ دئے گئے۔ پسند کی شادی کرنے پر باپ نے بیٹی کو قتل کر دیا۔ترنول میں ووٹ ڈالنے پر بھائی نے بہن کو گولی مار کے ہلاک کر دیا۔ رشتہ سے انکار پر لڑکے نے لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔
آئے دن ہم سب اس قسم کی خبریں بھی پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔کبھی کسی جہادی یا مذہبی رہنما یا مولوی نے اس قسم کی خبروں کی پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے تلوار یا بندوق نکالی اور مجرم کو سزا دی؟ قوم کو حجاج بن یوسف کی مثالیں دینے والوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے جب پاکستان میں کسی بچی کی عزت پر ڈاکہ پڑتا ہے۔ کیا جہاد صرف اس وقت ہی فرض ہوتا ہے جب کسی کشمیری عورت کی عزت لٹے؟ حجاج تو عرب میں تھا۔ سندھ کی لڑکی کی عزت بچانے یہاں آجاتا ہے۔ حجاج کے چاہنے والے اس کی قصیدہ گوئی کرنے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں جب ان کے سامنے ان ہی کی بیٹی کی عزت لٹ رہی ہوتی ہے۔ ان واقعات پر جہادی کالم نویس جو عافیہ کو مجاہدہ بنانے پر تلے ہوتے ہیں، خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ لال مسجد کا مولوی ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اسلام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا جب کسی کی بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ یا اسے قتل کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی ہے۔ یا مدرسے میں کوئی بدبخت مولوی کسی بچے سے جنسی زیادتی کرتا ہے۔
کوئی جہادی رہنما کوئی ریلی نہیں نکالتا جب پاکستان کے لوگ ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ اگر ایک بھی تلوار سونت کر یا کسی بھی طرح کسی ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیتا تو آج ظالم ظلم کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ کاش مسعود اظہر یا حافظ سعید یا مولوی عزیز ایک دھمکی یہ دے دیں کہ ان کے خود کش بمبار ایسے ظالموں کو اڑا دیں گے جوعورتوں ، بچوں اور بزرگوں پر ظلم کریں گے۔ اگر یہ ہو جائے تو پورا پاکستان ان جہادیوں کو اپناسچا لیڈر تسلیم کریگا۔ مگر ایسا ہر گز نہ ہوگا۔ ان سب حضرات کا اسلام یا جہاد سیاسی ہے۔یہ ان ہی کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے جو انکو ہڈی ڈالتے ہیں۔ مظلوموں کو ہی ان کے اور ان کے آقاﺅں کے خلاف علم جہاد بلند کرنا پڑے گا۔ اور کوئی حل نظر نہیں آتا....

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.comاس ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)

جہادی کہاں ہیں؟” پر بصرے

  • دسمبر 16, 2015 at 5:28 PM
    Permalink

    افسوس کہ صد افسوس آپ کے سوچ پر اور آپ کے علم پر - حالا نکہ میں کوئی عالم یا اسطرح کا لیڈر نہیں ہوں ۔ہاں بس اسطرح کےلوگوں کے بارے میں یا ان کے علم کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہوں۔ کل تو اپ کو گلیوں کے کتوں کو مارنے کیئے ب،کاکروچ ختم کرنے کیئے ، ھی ان جیسے حضرات کی ضرورت ہوگی اور جب یہ سب اسطرح کا کچھ نہیں کریں گے تو پھر آپ کے سوچ کے مصداق بنیں گے. اور ابھی بھی اگر کوئی اسطرح جس طرح اپ چاہتے ہیں کریں تو وہ تو حکومت پاکستان کے رٹ کو چیلنج کرنے کے پاداش میں اپنے ابا و اجدا کی زمیں پر چین سے بیٹھنے کون دے گا۔ اپ امریکہ کہ کہنے پر میرے گھر پر ڈرون گراؤ۔یا ٹینک چھڑاؤ وہ آپ کا قانونی حق ھے۔اور اپ کو تو پھر دونوں جہانو کے پھل بھی ملتے ہیں ڈالر تو کیش میں اور جنت مرنے(شھید ہونے ) کے بعد، اور جو اپنےیا اپنے سوچ ( اپکے دل کی خواہش) خاطر مرے گا۔ تو اس دنیا میں بھی خوار اور دوسرے دنیا میں بھی یہاں سے ہلاک ہو کے جائے گا۔

    شکر ہے اللہ کا کہ اپ اسطرح کے عالم نہیں ھیں۔۔ ورنہ 1965 ،1979، 1998 میں بھی اپ ان عوام کو ہلاک کر لیتے ۔ اور تو اور شکر ہے کہ اپ فلسطین کے عوام کے ہلاک کرنے سے بچھے ہوئے ہیں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *