مستقبل کے امکانات اور سیاسی بصیرت

Najam Sethi     گزشتہ ہفتے چار اہم میدانوں میں پیش رفت دیکھی گئی۔ پہلی یہ کہ مقامی حکومتوں کے لیے ہونے والے انتخابات نے یہ بات ثابت کردی کہ پی ایم ایل (ن) پنجاب میں، ایم کیوایم سندھ کے شہری علاقوں میں اور پی پی پی اندرون سندھ میں سیاسی توانائی رکھتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کو ان دونوں صوبوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑاہے۔دوسری پیش رفت یہ ہے کہ سندھ حکومت اور فوجی اسٹبلشمنٹ ، دونوں نے اپنی انتہائی پوزیشن سے قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے صوبے میں دھشت گردوں کے خلاف ہونے والے اپریشن کے لیے رینجرز کو توسیع دینے کے لیے کچھ لچک کا مظاہر ہ کیا ہے۔ تیسری اور انتہائی اہم پیش رفت پاک بھارت تعلقات میں جمود کی برف کا پگھلنا ہے۔ اس کا آغاز پیرس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات سے ہوا۔ اس کے بعد ان کے سکیورٹی ایڈوائزرز نے بنکاک میں ملاقات کی اور پھر بھارتی وزیر ِ خارجہ، سشما سوراج ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئیں ، جہاں اُن کی ملاقات وزیر ِ اعظم نواز شریف اور سرتاج عزیز سے ہوئی۔ چوتھی پیش رفت افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان آمد اور سول ملٹری قیادت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے امکانات کے لیے بات چیت کرنا تھی۔ ان چار امور میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے کیا ہم توقع کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اگلا سال، 2016، نہ صرف خطے میں استحکام لائے گا بلکہ پاکستان میں داخلی طور پر سول ملٹری تعلقات میں بھی بہتری دکھائی دے گی؟
مقامی حکومتوں کے لیے ہونے والے انتخابات نے عمران خان کی گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ طور پر ہونے والی دھاندلی کے خلاف چلائی جانے والی بے رحمانہ مہم کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔ عمران خان اس مہم کے ذریعے دراصل اپنی مقبولیت کے گراف میں تنزلی پر پردہ ڈالتے ہوئے عام انتخابات کو متنازع بنانا چاہتے تھے، لیکن ان انتخابات میں رہی سہی ”عزت ِ سادات“ بھی چلی گئی۔ پی ٹی آئی کو سندھ میں پی پی پی اور ایم کیو ایم اور پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کے ہاتھوں 2013ءکے انتخابات میں شکست ہوچکی تھی لیکن وہ نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ تاہم بعد میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور پھرمقامی حکومتوں کے لیے ہونے والے انتخابات نے تصدیق کردی کہ پی ٹی آئی انتخابی دوڑ میں کامیاب جماعتوںسے بہت پیچھے ہے اور اسے التباسات کے جال سے نکل کر حقائق کا سامنا کرتے ہوئے مناسب تنظیم سازی اورگراﺅنڈ ورک کی ضرورت ہے۔
ایک اچھی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب عمران خان کو حقائق کے ادراک نے مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کا ناقدانہ جائزہ لیں ، اس میں داخلی انتخابات کرائیں اور اسے فی الواقعی ایک انتخابی ٹائیگر بناکر 2018ءمیں ہونے والے عام انتخابات کے میدان میں اتاریں، لیکن یہ آسان کام نہ ہوگا۔ اس وقت پی ٹی آئی مختلف علاقائی گروہوں کے درمیان ہونے والے اختلافات کی شکار دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مثالیت پسندوں اور موقع پرستوں، اور اناپرست سیاست دانوں اور اس کی صفوںمیں شامل ہو کر آگے نکلنے کے خواہش مندوں کے درمیان کھنچاﺅ کی کیفیت طاری ہے۔ اس داخلی رسہ کشی سے نمٹنا کسی پارٹی کے لیے جوئے شیرِ لانے سے کم دشوار نہیں ہوتا۔ تاہم اگر عمران خان واقعی اس عمل کو سنجیدگی سے کریں تو آگے چل کر پارٹی کی اصلاح ممکن ہے۔ تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس دوران عمران خان داخلی مسائل میں الجھ کر گلیوں کی احتجاجی سیاست(جو تحریک ِ انصاف کی روح ِ رواں ہے)سے دور ہوںگے تو پی ایم ایل (ن) کو موقع مل جائے گا کہ سکون سے اپنی معاشی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے کچھ کارکردگی دکھائیں۔ اس طرح حکمران جماعت پر بھی کچھ کردکھانے کا بوجھ آجائے گا۔ وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ اُنہیں پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کچھ کرنے نہیں دیتی۔ بہرحال ، اس سے ملک اور جمہوریت کا بھلا ہوگا۔
سندھ میں رینجرز اپریشن کے حوالے سے تناﺅ کی کیفیت تھی، تاہم اس کا طریق ِ کار طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کالم کی اشاعت تک حکومت ِ سندھ نے رینجرز اختیارات میں توسیع نہیں کی لیکن اس ہفتے کے آغاز میں ایسا ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ امکان ہے کہ ر ینجرز کو ایم کیو ایم اور پی پی پی کے سیاست دانوں کی گرفتاری کی مشروط اجازت دی جائے گی۔ یہ اقدام سے رینجرز کو سیاسی دلدل میںپاﺅں رکھنے سے بچا لے گا اور اپرپش پر بھی کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔ تاہم اگر ڈیڈلاک جاری رہا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ اس کی وجہ سے وزیر ِ اعظم نواز شریف پر سخت دباﺅ آجائے گا۔ اگروہ فوج کا ساتھ دیتے ہیں تو پی پی پی اور ایم کیو ایم ان کے خلاف پی ٹی آئی کے ہمدقدم ہو کر پی ایم ایل (ن) کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کردیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر نواز شریف پر الزام آ جائے گا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے پنجاب کا رخ کرنے کے خدشے کی وجہ سے اسے سندھ میں روکنا چاہتے ہیں۔
اس دوران مودی سرکار بھی بہار میں ہونے والے انتخابات میں شکست کے بعد پاکستان دشمنی سے پیچھے قدم ہٹاتی محسوس ہوتی ہے۔ اس دوران میڈیا کی نظروںسے اوجھل کچھ خاموش سفارت کاری بھی ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ہم سرحدوں پر تناﺅ میں کمی دیکھیں گے اور ہو سکتا ہے کہ کھیل کود اور تجارتی روابط میں رفتہ رفتہ بحال ہوجائیں۔ تاہم یہ سب کچھ یک لخت نہیں، آہستہ آہستہ ہوگا۔ اس سے پاکستان کے سکیورٹی اداروںکو پوری یک سوئی سے افغان سرحد پر اور قبائلی علاقوں پر توجہ دینے کا موقع مل جائے گا۔ صدر اشرف غنی کا دورہ اہمیت کا حامل تھا۔ گزشتہ سال بھی فریقین نے وعدے کیے تھے لیکن دونوں کے اپنے مفادات آڑھے آئے بات چیت آگے نہ بڑھی۔ اس دوران ملاّ عمر کی وفات کی خبر نے بھی مری مذاکرات کے دوسرے دور کو غیر معینہ مدت کے لیے التوا میں ڈال دیا۔ ملاّعمر کی وفات کے بعد ملاّ اختر محمد منصور طالبان قائد بن گئے لیکن اُنہیں طالبان کے کچھ دھڑوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے۔ چنانچہ اُن کی داخلی صفوں میں تناﺅ کی کیفیت ہے۔ اس کا اثر زائل کرنے کے لیے طالبان افغان حکومت اور شہریوں کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔ اس صورت میں مذاکرات کی بحالی مشکل امر دکھائی دیتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ انڈیا، پاکستان، امریکہ اور صدر اشرف غنی، سب طالبان کے اُس دھڑے کی حمایت کریں گے جو بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔
اس پیش رفت کے لیے ایک چیز منفی ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کا تعلق پاکستان میں سول ملٹری تعلقات سے ہے۔ اگرچہ وزیر ِ اعظم نواز شریف اور آرمی چیف، جنرل راحیل شریف زیادہ تر معاملات میں ایک دوسرے سے اتفاق کرتے ہیں ،لیکن دونوں کی طرف سے دیے گئے عوامی بیانات تناﺅ کا تاثر دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *