ڈائیلاگ

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

’’السلام علیکم! ‘‘
’’آپ کے سلام کا جواب دینا جائز نہیں ،آپ کافر ہیں،بہرحال فرمائیے کیا خدمت کی جائے آپ کی؟‘‘
’’جی نہیں شکریہ،ہم آپ سے مذاکرات کے لئے حاضر ہوئے ہیں،یقیناًیہ آپ کے اور ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔‘‘
’’ہوں…دھوم 3دیکھی ہے آپ نے ؟‘‘
’’جی؟؟؟ کیا فرمایا آپ نے ؟‘‘
’’ہم نے پوچھا کہ دھوم 3دیکھی ہے آپ نے ؟ سنا ہے سنیما گھروں میں اس کی ٹکٹ بلیک ہو رہی ہے !‘‘
’’جی …ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر اس کا مذاکرات سے کیا تعلق؟‘‘ ’’بہت گہرا تعلق ہے......اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پوری قوم کافر ہو چکی ہے ،جس ملک میں مساجد مومنوں سے بھری ہونی چاہئیں وہاں سنیما گھروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔‘‘ ’’آپ بجا فرما رہے ہیں حضرت ،مگر ساری قوم تو ایسی نہیں،الحمد للہ مساجد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مدارس میں لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں ،ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ......۔‘‘
’’یہ سب باتیں ہمیں مت سمجھائیں ،ہم اچھی طرح جانتے ہیں کون مسلمان ہے اور کون مسلمان کے روپ میں کافر ......کام کی بات کریں ۔‘‘ ’’جی بہتر ......حضرت،گذارش یہ ہے کہ خون خرابا بہت ہو گیا ،اس میں کسی کا فائدہ نہیں،تو کیوں نہ اس خوں ریزی کوختم کیا جائے ،اب تک جو ہوا سو ہوا،اگر آپ اپنی کارروائیاں بند کر دیں تواس کے بدلے حکومت آپ کو عام معافی دینے کے لئے تیار ہے ۔‘‘ ’’ہاہاہا ......آپ کی عام معافی ہمارے کس کام کی ؟ آپ تو یوں بھی ہمیں سزا دینے کی ہمت نہیں رکھتے ...... ہم اپنے جن ساتھیوں کو جیل سے چھڑانا چاہتے ہیں، باآسانی چھڑا لیتے ہیں ،دو دفعہ تو آپ کو یہ کام کر کے دکھا چکے ہیں ،آئندہ بھی جب ضرورت محسوس ہوئی ہم یہ کر گذریں گے ،آپ کی معافی کا ہم نے اچار ڈالنا ہے !‘‘ ’’بات تو آپ کی درست ہے مگر پھر بھی ،مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آپ کے خلاف کوئی فوجی آپریشن بھی نہیں کیا جائے گا!‘‘ ۔’’ہوں فوجی آپریشن کی بھی ہمیں چنداں پروا نہیںالبتہ اگر آپ ڈرون حملے بند کروانے کی ذمہ داری لیں تو کچھ سوچا جا سکتا ہے ۔‘‘
’’دیکھئے حضرت آپ اچھی طرح جانتے ہیں یہ ہمارے بس سے باہر ہے ،تاہم اگر آپ اپنے علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکال دیں اورپاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں کارروائیاں بند کرنے کی یقین دہانی کروائیں تو پھر امریکیوں کا منت ترلا کیا جا سکتا ہے ۔‘‘
’’یہ افغانستان اور پاکستان کی بات آپ نے خوب کہی ، آپ کے نزدیک یہ دو ملک ہوں گے ،ہم تو بارڈر وغیرہ میں یقین ہی نہیں رکھتے ،اوررہی بات امریکہ کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کی تو اس کے خلاف تو جہاد فرض ہے بلکہ ہم تو آپ کو بھی دعوت دیں گے کہ اگر آپ سچے مسلمان ہیں تو اس جہاد میں ہمارا ساتھ دیں ۔‘‘
’’الحمد للہ ،ہم مسلمان ہیں ،مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اس جنگ میں بے گناہ مسلمانو ں کی جانیں ضائع ہوں، اگر آپ ہماری گذارش مان لیں اور ہتھیار پھینک کر آئین پاکستان کو تسلیم کر لیں تو ہمیں یقین ہے کہ ڈرون حملے بند ہو جائیں گے ،اس کے بعد آ پ پر امن انداز میں اپنے علاقے میں رہ سکیں گے ۔‘‘ ۔ ’’ہمیں تو یقین ہی نہیں آ رہا ہے کہ آپ حکومتی نمائندے ہیں ،کیونکہ نہ صرف آپ کی باتیں بچگانہ ہیں بلکہ آپ کی شکل پر بھی کترینہ کیف جیسی معصومیت ہے ......ہم آپ کے آئین او ر جمہوریت کو باطل اور کفریہ نظام سمجھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں شریعت نافذ کی جائے لہٰذا آپ ہم سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے یہ بتائیں کہ آپ اسلام آباد کس تاریخ کو خالی کریں گے تاکہ ہم اپنی سوچ کے مطابق شریعت کا آغاز کریں!‘‘ ۔ ’’حضرت،اس قسم کے مطالبات تو مذاکرات میں ڈیڈ لاک۔میرا مطلب ہے کہ تعطل پیدا کر دیں گے ۔کیوں نہ ہم پہلے کچھ دیگر باتوں پر اتفاق کر لیں جن پر آپ کا اور ہمارا موقف ملتا جلتا ہے !‘‘ ۔ ’’چلئے یوں ہی سہی ۔آپ بتائیے کس بات پر اتفاق ہو سکتا ہے ؟‘‘
’’ہمارا خیال ہے کہ اگر آپ پولیو مہم کی اجازت مرحمت فرمائیں تو مہربانی ہوگی ،جن علاقوں میں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا رہے ،وہاں معصوم بچے معذور ہو رہے ہیں ۔‘‘
’’یہ قطرے امریکیوں کی سازش ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے یہ قطرے پئیں اور پھر نا مرد بن جائیں ۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے ،ہم نے لیبارٹری میں بارہا چیک کرواکے تسلی کر لی ہے اور ویسے بھی اگر بچے یہ قطرے نہیںلیں گے تو معذوری انہیں آن لے گی !‘‘
’’آپ ہم سے مذاکرات کرنے آئے ہیںتواپنے مطالبا ت بیان کرنے کی بجائے ہمارے مطالبات سنئے ......پورے ملک میں پولیو مہم پر پابندی لگائی جائے، لڑکیوں کے سکول بند کئے جائیں ،کوئی عورت محرم اور برقع کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے ،خلاف وزری کی صورت میں اسے موقع پر سزا دی جائے ،تمام بنک بند کر دئیے جائیں، امریکہ اور نیٹو ممالک سے تعلقات ختم کرکے اعلان جنگ کیا جائے ،ایئر فورس کا نظام ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم خود ڈرون گرائیں ،پورے ملک میں حجاموں کی دکانیں ،بیوٹی پارلر،سی ڈی اور فلمیں فروخت کرنے والی دکانیں ختم کر دی جائیں، سنیما گھر، کلب، شادی ہال، شاپنگ مالزاور ایسے تمام فحاشی کے اڈے فوری طور پر بند کئے جائیں، تمام ٹی وی چینلز پر پابندی لگا کر صرف شرعی نیوز چینل کی اجازت دی جائے ،غیر مسلک اور غیر مذہب لوگوں کو کافر قرار دے کر ان کی عبادت گاہیں مسمار کر دی جائیں، عدالتیں بند کرکے قاضی مقرر کئے جائیں اور اسمبلیاں ختم کر کے ملا عمر کو خلیفہ مان یا جائے ۔بس یہی ہمارے مطالبات ہیں ۔‘‘۔ ’’وہ تو ٹھیک ہے حضرت ،مگر اس کے بدلے آپ ہمیں کیا دیں گے ؟‘‘
’’پہلے آپ ہمارے ان مطالبات پر عمل کرنا شروع کریں ،جوں جوں ہمیں لگے کہ آپ اس عمل میں مخلص ہیںتوں توں ہم اپنی کارروائیوں میں کمی کرتے جائیں گے فی الحال آپ کی تسلی کے لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں آئندہ کسی خود کش دھماکے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہلاک نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ۔ ’’جی بہت شکریہ تو پھر اعلامیہ جاری کیا جائے کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ؟‘‘
’’ہاں ......ایک منٹ ......یہ کارروائی لائیو دکھائی جائے گی تومیں ذرا چہر ے پر پف کروا لوں !‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *