تعلیم جاری رہے تو اچھا ہے ....

jamshe iqbalبات چھڑ گئی ہے کہ تعلیم کسی کا کچھ بگاڑ سکتی ہے یا نہیں۔ کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ ہاں بگاڑ سکتی ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس بحث میں ہم یہ بات یکسر نظر انداز کررہے ہیں کہ تعلیم سے ہماری کیا مراد ہے۔ وہ تعلیم جو ہمارے ہاں رائج ہے اور جس کا مقصد ماہرین تعلیم کے نزدیک چنیدہ نظریات کا غلام بنانا رہا ہے ؟ وہ تعلیم جس کا مقصد نئی نسل کو صدیوں پرانی عداوتیں منتقل کرنا رہا ہے؟ کیا ہمارے ہاں تعلیم کا کوئی ایسا تعلیمی ماڈل رائج رہا ہے جو سوچ کو دائروں میں قید کرنے کی بجائے صرف سوچنے کا ڈھنگ سکھائے اور پھر فکر نئی راہیں تلاش کرے تو اس کا احترام کیا جائے ؟ یا پھر وہ تعلیم جو ابھی دی جانی باقی ہے ؟
اگر دشمن کے بچوں کو ایسی تعلیم دینی ہے جو ہم آج تک دیتے آئے ہیں تو چند برسوں میں دشمنوں کی پہلے سے زیادہ منہ زور فصل تیار ہوجائے گی۔
لیکن پھر بھی ضروری ہے کہ معیاری تعلیم کی منزل تک پہنچنے تک تعلیمی عمل جاری رہے۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ تعلیم نے اگر کسی کا کچھ بگاڑا ہے تو وہ نصابی نہیں، غیر نصابی تعلیم تھی۔ اگر کچھ بگاڑا ہے تو اس ناک نے جس میں مقتدرہ کی خواہش اور شبانہ روز کاوشوں کے باوجودسونگھنے کی کچھ صلاحیت باقی رہ گئی تھی ۔ جو یہ محسوس کرسکتی تھی کہ کچھ گل سڑ رہا ہے۔ اگر تعلیم کچھ بگاڑ پائی ہے تو ان کا بگاڑ پائی ہے جو کسی نہ کسی طرح وجہ میں اثر اور علت میں معلول دیکھنے کی صلاحیت باقی رہ گئی تھی۔ جو ہوشیار ہوگئے تھے کہ ان کی ہستی کے پلڑے صرف ان کی عملی وراثت بھاری کرسکتی ہے ۔ ورنہ سرکاری یا غیر سرکاری سطح پردی جانے والی تعلیم کا مقصد ہمت ِ انکار تو دور کی بات ہے کبھی بھی حریت فکر اور جرات تحقیق بھی نہیں رہا۔ ایسے میں تعلیم صرف ان کا کچھ بگاڑ پائی جو یہ جان گئے کہ اپنی آنکھ خود کھولنی پڑے گی۔ ورنہ مقتدر حلقوں کی طرف سے خیرات کی گئی تعلیم آنکھ پر پردے کا وہ پہاڑ چھوڑتی ہے جو بقول غالب اٹھائے نہ بنے۔
صنعتی انقلاب کے بعد اگر تعلیم عام کی گئی تو اس کا مقصد عام لوگوں کو ایسا علم دینا ہرگز نہیں تھا جو انہیں آزاد کر سکے۔ صنعت کار لوگوں کو اس لئے تعلیم دینا چاہتا تھا کیونکہ کھیتی باڑی کے برعکس مشین چلانے کے لئے بنیادی تعلیم ضروری تھی۔ ہم اسے تعلیم نہیں، خواندگی اور گنتی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات صنعت کار بھی نہیں جانتا تھا کہ مشینیں چلانے کے لئے دی جانے والی معمولی تعلیم لوگوں کے فکری افق وسیع کرسکتی ہے۔ وہ تو محض لوگوں کو اسمبلی لائن پر ایک ہی جیسا عمل بار بار دھرانے کے قابل بنانا چاہتا تھا۔ وہ تو انہیں ٹھنڈی مشین کے ساتھ کھڑی سانس لیتی مشین بنانا چاہتا تھا۔ وہ تو یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ مشینوں کے شور میں اس کے دل کی دھڑکن بھی سنائی دے۔لیکن کچھ ایسا ہوا جو صنعت کار کے بھی وہم گمان میں نہیں تھا۔ لوگوں کو کچھ خطرناک تصورات کا علم ہوگیا۔ ایسے تصورات جن سے اہل اقتدار کو ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے۔ یہ مساوات ، انصاف ، حقوق اور امن جیسے تصورات تھے۔
اس لئے تعلیم کا تسلسل لازم ہے۔
ہوسکتا ہے کوئی برٹرینڈرسل کا نام سنے، اس کی تحریر کا ذائقہ چکھے اور پھر حریت فکر کا علمبردار بن جائے۔ ہوسکتا ہے کوئی ہیلن کیلر سے دیکھنے کا ڈھنگ سیکھ لے۔ یہ بھی ممکن ہے کوئی جارج آرویل سے ہاتھی کے قتل کا واقعہ سنے ، یہ جان لے کہ قائدین پیروکاروں کی پیروی کرتے ہیں اور کسی کی آزادی سلب کرنے سے پہلے غاصب کو اپنی آزادی سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ کوئی داس کبیر سے جیون کی چادر جتن سے اوڑھنے کا ڈھنگ سیکھ لے۔کوئی میر سے یہ سیکھ لے کہ توہم کہ توہم کے اس کارخانے میں جو ہم مان لیں وہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ کوئی مارٹن لوتھر کنگ کی آنکھ سے اس کا خواب چرائے اور پھر مساوات ، انصاف، حقوق اور امن کے لئے جدوجہد شروع کردے۔
یہ سب ہوتا آیا ہے اور اب بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے تعلیم کا تسلسل لازم ہے۔
مساوات ، انصاف ، حقوق اور امن عام لوگوں کو تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کئے گئے اور تعلیم دینے والوں کو بھی ان سے خوف آتا تھا۔ دنیا بھر میں عوام کو ان کے لئے جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ لیکن ان تصورات کی عمل انگیز خوشبو تعلیم کے راستے پہنچی ہے۔ لہٰذا معیاری تعلیم کے لئے تگ و دو کے ساتھ ساتھ تعلیم کا تسلسل لازم ہے۔اس دوران اس پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں تعلیم ایسا نفسیاتی بم نہ بن جائے جس کی مدد سے طاقتور کو اگر جنونی درکار ہوں تو جنونی پیدا کرلے اور اگر راضی برضا مجہول درکار ہوں تو سکول ایسے انسان تیار کرنے کی فیکٹریاں بن جائیں۔لیکن تعلیم ضروری ہے۔ کیا خبر کون کب ٹوٹی پھوٹی کرسیوں اور پھٹے پرانے ٹاٹوں سے مساوات ، انصاف ، حقوق اور امن جیسے ’خطرناک ‘تصورات کا علمبردار بن کر اٹھے۔ ایسا ہوا ہے اور اب بھی ہوسکتا ہے۔

تعلیم جاری رہے تو اچھا ہے ....” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 19, 2015 at 12:30 PM
    Permalink

    جمشید اقبال صاحب نے امید کا نیا دیا جلانے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ آج بھی یہی صنعت کارو سرمایہ دار ہی تعلیم کی راہ میں روڑائے اٹکاتے ہیں وہ لوگوں کو اپنا غلام بناتے آئے ہیں اور بناتے رہیں گے تاہم یہ بھی قانون قدرت ہے کہ انہی ٹوٹی پھوٹی کرسیوں اور پھٹے پرانے ٹاٹوں سے مساوات ، انصاف ، حقوق اور امن کے علم بلند ہوتے ہیں جب ایسا ہوجائے تو یہ لوگ بد تمیز اور بد تہذیب ٹہرائے جاتے ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *