باتیں زہرہ نگاہ سے (۱)

sajaad-pervaiz-writerزہرہ نگاہ جن کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہے، 14 مئی1937ء کو شعرو سخن کی بستی بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ زہرہ نگاہ کے آباو اجداد تلاشِ معاش کے سلسلے میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گئے تھے۔ زہرہ نگاہ کی چھ بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ اور ان کے خاندان کا ہر فرد اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان رکھتا ہے۔ زہرہ نگاہ جو خود ایک ممتاز شاعرہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد زہرہ نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں اپنی تعلیم مکمل کی۔ زہرہ نگاہ کو شعرو سخن ورثے میں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا زمانہ طالب علمی سے ہی شروع کر دی تھی۔ ابتدائی دور میں پاکستان میں بڑے بڑے مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں وہ بھی برابر کی شریک ہوتی تھیں۔ ان مشاعروں میں جب زہرہ نگاہ اپنا کلام ترنّم سے سناتیں تو محفل میں سماں بندھ جاتا، اور ’واہ ،واہ سبحان اللہ‘ سے پنڈال گونج اٹھتا تھا۔ اور جب وہ اپنا کلام سنا لیتیں تو سامعین کا پر زور اصرار ”ایک اور ایک اور “ ہوتا تھا۔ کلام کے ساتھ ساتھ زہرہ نگاہ کی آواز میں بھی بڑا سوز و گداز پایا جاتا ہے۔ ’جدید اردو غزل‘ میں زہرہ نگاہ کا اپنا مقام ہے ان کی شاعری میں انفرادیت ہے جس کی خصوصیات بے پناہ خلوص اور تاثیر ، سادگی اور پرکاری اور سب سے بڑھ کر اس کا سیاسی رنگ ہے۔ جو اب پختہ تر ہو گیا ہے۔ گل و بلبل، وطن اور چمن ،رہبر اور رہزن، قفس اور آشیانے کے پردے میں وہ بڑے بڑے سیاسی حقائق بیان کر جاتی ہیں اور سیاست پر بھر پور طنز کرتی ہیں۔ جس کا اثر عرصہ تک زائل نہیں ہوتا ہے۔اس طرح وہ پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ زہرہ نگاہ کے اب تک تین مجموعہ کلام ”شام کا پہلا تارہ“ ”ورق“ اور ” فراق“ شائع ہو چکے ہیں۔
س۔ زہرہ آپا، آپ نے چودہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اس زمانے میں ادب کے میدان میں خواتین کی آمد بہت کم ہوتی تھی۔تو ذرا بتائیے کہ کیسا ادبی ماحول تھا اس زمانے میں؟
ج۔ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ عورتیں نہیں نکلتی تھیں کیونکہ بہت ساری خواتین ادب کے میدان میں تھیں۔ پھر ترقی پسند مصنفین کی جماعت نئی نئی ابھر رہی تھی اور اس میں بہت سار ی خواتین لکھ رہی تھیں۔ شروع میں رشید جہا ں اس کے بعد عصمت آپا، اس کے بعد بہت ساری خواتین شاعری میں البتہ کم تھیں لیکن ادا جعفری کا پہلا جو دیوان تھا۔ جو میرے خیال میں 1946ء میں یا 1947ء میں چھپا اور اس کا قاضی عبدالغفار نے دیباچہ لکھا تھا جو اپنے وقت کے بہت بڑے ادیب تھے۔ لیکن میں نے اگر کچھ کام کیا تو وہ یہ کیا ہے کہ میں نے شانہ بشانہ مرد شاعروں کے ساتھ جا کر مشاعرے میں شرکت کی۔ اس سے پہلے شاید کچھ خواتین نے کی ہو ،لیکن پردے میں کی ہو تو میں نے جب مشاعرے میں جا کر پڑھنا شروع کیا اس وقت تک زیادہ خواتین کوئی آتی نہیں تھیں یا پردے میں بیٹھ کر سنتی تھیں یا سامعین میں بیٹھی ہوتی تھیں پھر پاکستان بننے کے بعد بڑے اچھے اچھے مشاعرے ہوئے ہیں۔ بہت عمدہ، بہت اعلیٰ۔ اگرچہ انتظامات وغیرہ بہت معمولی ہوتے تھے۔صرف میں سٹیج پر بیٹھنے سے ذرا گریز کرتی تھی پہلی لائن میں بیٹھ جاتی تھی اور ناظمِ مشاعرہ سے کہہ دیتی تھی کہ جب میرا نمبر آئے تو آپ مجھے ایک شاعر سے پہلے بلا لیجئے گا۔اس زمانے میں ماحول ایسا تھا کہ میری تو جو نوجوان شعرا تھے انہوں نے بھی ، جو جوان تھے انہوں نے بھی اور جو بزرگ شعرا تھے سب نے بڑی پذیرائی کی اور سب نے بڑی عزت ،محبت اور احترام کے ساتھ میرا استقبال کیا۔ تو مجھے توکوئی نہ کسی قسم کی شکایت ہوتی اور نہ کسی نے میرے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا بڑے عزت و احترام کے ساتھ مجھے سنا اور مجھے بے حد پذیرائی ملی۔ اور پھر اس کے بعد شروع شروع میں جب آدمی شعر کہتا ہے تو اپنے اوپر کم بھروسہ محسوس کرتا ہے۔لیکن یہ ہے کہ پھرفوراََ ہی میرے مشاعرے میں جانے کے بعد اس وقت جو مقتدر رسالے تھے معتبر جیسا کہ ’سویرا ‘ تھا۔ الہٰ آباد سے ’ نئی زندگی‘ نکلتا تھا ’شاہراہ‘ نکلتا تھا اور’ فنون ‘ بعد میں آیا ’ نقوش ‘ تھا ان سب میں میری غزلیں چھپی تھیں۔ اس سے مجھے بڑی ڈھارس ہوئی اور حوصلہ افزائی ہوئی کہ بھئی اچھا شعر ہے نا کچھ ہے اس میں جبھی تو یہ لوگ چھاپ رہے ہیں ورنہ بہت سارے میرے ساتھ کے شاعرجو تھے وہ مجھ سے شکایت کرتے تھے کہ بھئی تمھاری تو غزل چھپ گئی ہمیں تو انہوں نے کہا کہ ابھی اور لکھئے۔تو اس طرح کی باتوں سے بڑی حوصلہ افزائی ہوتی تھی اور پھر گھر والوں نے بھی بہت ہمت بندھائی اور اس وجہ سے میں نے شاعری کو ترک نہیں کیا بلکہ 1اس کو جاری ہی رکھا۔
س۔اور یہ سلسلہ ماشااللہ اب تک جاری ہے ؟
ج۔کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہوں لےکن مشاعروں میںبہت کم شرکت کرتی ہوں لیکن یہ فیسٹیول جو ہے آکسفورڈ یونیورسٹی کا یہ اب ایک تاریخی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگ بڑے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ کراچی کے فیسٹیول میں تو ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔لاہور میں بھی جو فیسٹیول ہوا۔لٹریری فیسٹیول اس میں بہت سارے لوگوں نے شرکت کی۔ دیکھنے کے قابل مجمع تھا اور جیسے لوگ کہتے ہیں نا کہ ” تھالی پھینکو تو سروں پر جائے “ اس طرح سے لوگ جمع ہو رہے تھے تو ان حالات میں جب پاکستان وقتی طور ایک نہایت مشکل دور سے دو چار ہے ایسے ماحول میں ادبی جلسے یا ادبی میلوں کا انعقاد جو ہے وہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ لوگوں میں ابھی جینے کا، شعروادب کو سننے کا اور اپنی تہذیب کو جاننے کا شوق ہے۔
س۔آپ کے گھرانے کا ہر فرد اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے تو جب اس کہکشاں کے تحت سارے ستارے اکھٹے ہوتے ہیں تو گھر کا کیا ماحول ہوتا ہے؟
ج۔بات یہ ہے کہ وقت وقت کہ بات ہوتی ہے کہ جس زمانے میں ہم پلے بڑھے۔اس زمانے میں گھر میں عام طور سے ہم نے ایک ادبی ماحول دیکھا۔ جس کی وجہ سے ہم میں یہ ہمت پیدا ہوئی یہ ذوق پیدا ہوا اور جب سارے اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر انور ہنساتے ہیں۔کبھی ہم لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کبھی پیروڈی بھی کردیتے ہیں میرے اشعار کی۔ اورآج کل تو وہ ڈراموں میں مصروف ہیں ان کے ڈرامے بڑے اچھے ہو رہے ہیں بلکہ مجھے بڑی خوشی ہو ئی جب نصیرالدین شاہ نے یہ کہا کہ پاکستان میں ڈرامے کو ایک اچھی صنف میں لانے کے لئے انور مقصود کا بڑا ہاتھ ہے اور بجیا ہیں، انہوں نے اپنی پوری زندگی ٹیلی و یژن کے لئے وقف کر دی۔اور جتنے اچھے سیریل انہوں نے دیئے اور جس طرح کے ڈائیلاگز انہوں نے لکھے۔ وہ ایک ایک ڈائیلاگ پر یقین مانیئے گھنٹوں محنت کرتی تھیں اس کے بعد وہ اس سے مطمئن ہوتی تھیں۔پھر سارہ نقوی BBC پہلی براڈکاسٹر تھیں، جنہوں نے وہاں پر نیوز پڑھیں اور ان کا آج بھی نام بہت محنت اور عزت سے لیا جاتا ہے وہا ں پر اور یہ سب باتیں کچھ تو اس میں بزرگوں کی دعائیں اور دوسرا بزرگوں کی تربیت بھی شامل تھی۔
جیسے میں نے عرض کیا کہ یہ خاندانی ماحول کا اثر ہوتا ہے کہ انور تو تصویر میرا خیال ہے کہ 14 یا 15 سال کی عمر سے بنا رہے ہیں۔ان کی پہلی نمائش فرنچ ایمبسی میں ہوئی تھی۔ فرنچ سفیر نے اس کا افتتاح کیا تھا کراچی میں۔ اور اس وقت سے وہ تصویر بنا رہے ہیں اس کے بعد وہ ڈرامے کی طرف آئے اور انہوں نے کراچی ٹیلی ویڑن کے لئے بہت لکھا اور بجیا نے بھی ایسا ہی کیا۔ زبیدہ نے کھانا پکانا شروع کر دیا بلکہ میرا ان کا اکثرمذاق چلتا ہے جب وہ مجھے بتاتی ہیں کہ میری Cookery Book جو ہے اس کی رائلٹی اتنی آتی ہے۔ آپ کی کتابوں کی کتنی آتی ہے۔ میں نے کہا کہ میری کتابوں کی تو آج کوئی رائلٹی مجھے نہیں ملی تو انہوں نے کہا کہ 2دیکھئے میری کتاب کی تو بہت آ رہی ہے تو میں ان کو چھیڑتی ہوں کہ ’شہر میں مضمون نہ پھیلا اور جوتا چل گیا‘ تویہ تو تم آلو بگھار کر اس قدر شہرت حاصل کر رہی ہو۔ ہم چالیس برس سے شاعری کر رہے ہیں اور ہمیں کوئی اس کی رائلٹی وغیرہ نہیں ملی تو ہم لوگ ہنستے ہیں آپس میں باتیں کر تے رہتے ہیں۔انور کو بھی میں بہت چھیڑتی ہوں ابھی انور نے ایک جگہ ’جنگل کا قانون‘ میری نظم ہے وہ سنائی۔ تو لوگ سمجھے کہ یہ انور کی نظم ہے تو کسی نے اس کو Facebook پر ان کے نام سے شائع کر دی۔تو انور نے کہا کہ تمہاری نظم میرے نام سے شائع ہو گئی ہے۔تو میں نے کہا کوئی بات نہیں، تردید کر دو۔ انہوں نے کہا میں نے سوچا فیملی کا عاملہ ہے تو کون تردید کرتا پھرے۔ اس طرح کا چلتا رہتا ہے سلسلہ۔ لیکن بات یہ ہے کہ تقسیم کے بعد لوگوں نے تکالیف بہت اٹھائیں اور اس میں ہمارا خاندان بھی شامل رہا لیکن ان تکالیف میں ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ امید دلائی تھی کہ آج تکلیف اٹھا لو ، کل آرام ہی آرام ہو گا۔افسوس اس کا ہے کہ یہ بات اب ہم اپنے بچو ں کے لئے کہتے ہوئے ذرا جھجکتے ہیں۔لیکن یہ ہے کہ امید تو ابھی باقی ہے۔ دیکھئے آج جب میں نے یہ سیشن کر لیا شاعری کے بارے میں۔تو ایک سولہ سترہ سال کے لڑکے نے مجھے میری تیس پینتیس سال پرانی غزل مجھے یاد دلادی کہ آپ مجھے وہ سنا دیجئے کہ تو مجھے حیرت تو ہوئی کہ جو غزل مجھے نہیں یاد، وہ اسے کیسے یاد ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ بھئی یہ تمہیں کیسے ےاد ہے۔تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے گھر میں سنی ہے۔یقینا ان کے والد نے یا ان کے کسی عزیز نے اس کو سنائی ہوگی۔ لیکن یہ اس کی خوبی تھی کہ اسے یہ یاد رہی ورنہ آج کل تو صحیح شعر پڑھنا ہی مشکل ہے۔لوگ گرا دیتے ہیں وزن میں اور انہیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ تو لکھنا پڑھنا یا شعروادب خاص طور سے ایک ہی بات ہے تو یہ زندگی کو سنوارنے اور تہذیب کو اجاگر کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ سائنس کی ترقیاں اپنی جگہ ہوتی ہیں لیکن تہذیبی شعور تو لکھنے پڑھنے سے بیدار ہوتا ہے اور ادب کا بہت بڑا حصہ اس میں شامل ہے۔
س۔آپ نے دیارِ غیر میں خاصا وقت گذارا لیکن آپ کی شاعری کا انداز آپ کو دیگر خواتین شاعرات سے ممتاز بناتا ہے اور آپ کی شاعری میں غمِ دوراں یا غمِ جاناں کی بجائے اہم عالمی حالات و واقعات کا اثر نمایاں نظر آتا ہے مثال کے طور پر برِصغیر کی تقسیم کے واقعات ، افغان وار وغیرہ تو اس حوالے سے کیا فرمائیں گی؟
ج۔میں پاکستان سے تقریباََ 15ےا 20 سال باہر رہی ہوں۔شادی کے بعد چلی گئی تھی باہر۔ ایک تو اپنے میاں کی نوکری کے سلسلے میں وہیں رہی تو پھر وہاں جا کر ثقافتی محرومی جسے کہتے ہیں۔ایک اپنی ثقافت کی، اپنی تہذیب کی زیادہ آدمی کو کمی محسوس ہوتی ہے کہ کوئی اپنی باتیں کرنے والا ہو۔اپنے شعر سنائے کسی کے شعرسنے کسی اچھے لکھنے والے کو پڑھے تو یہ چیزیں تو رہی ہیں لیکن میں یہ بتا رہی تھی آپ کو کہ تقسیم کا جو دکھ تھا وہ بہت گہرا تھا اس میں کئی جانیں بھی ضائع ہوئیں ،خاندان کے جو سرپرست تھے اللہ کو پیارے ہو ئے۔ لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ میری ماں کا بڑا حصہ رہا ہے ہم سب کی تعلیم و تربیت میں۔ انہوں نے ہم سے یہ بات کہی کہ نا امید کبھی نہ ہونا اور یہ مت سوچنا کہ آج اگر برا ہے تو کل بھی برا ہو گا ، یہ سوچو کہ کل اس سے بہتر ہو گا۔ پرسوں اس سے بھی بہتر ہوگا۔تو ان کا یہ جو سبق تھایہ ہمیں بہت سہارا دیتا۔ اور ایک سروے رپورٹ کے مطابق تقسیم کے بعد وہ خاندان زیادہ اچھے رہے جن کی مائیں زیادہ دیر تک زندہ رہیں۔ کیونکہ ماں سے جو ایک رشتہ ہوتا ہے اس میں محبت کے علاوہ ایک بڑی گہری وابستگی ہوتی ہے۔باپ تو معاشی سلسلے میں اپنی نوکریوں کے سلسلے میں اس میں اتنا وقت اس زمانے میں بچوں کو نہیں دیتے تھے لیکن ہم نے تو جو کچھ سیکھا وہ اپنے گھر کی بزرگ خواتین سے سیکھا۔
س۔آپ کی شاعری میں ہمیں اِستعارہ اور تشبیہات کا استعمال بڑا نظر آتا ہے ؟
ج۔ استعارہ و تشبیہات تو ہمارے ہاں شاعری کے زیور ہیں اگر ہم انہیں چھوڑ دیں گے تو ہمارے لئے شاعری کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن میں کوشش یہ کرتی ہوں کہ میں مشکل الفاظ کا استعمال نہ کروں سادہ زبان میں شاعری کروں۔ بہت سی نظمیں میری آپ اگر پڑھیں گے تو اس میں کوئی مشکل لفظ نہیں۔ لیکن جہاں تک غزل کا سوال ہے اس میں استعارہ اور تشبیہ کے بغیر کام نہیں چلتا ہے۔غزل وہ صنف ہے کہ اگر اچھی لکھنا چاہیں تو انگلیاں فگار ہوتی ہیں۔بری غزل لکھنا چاہیں تو آپ دن میں دس لکھ لیجئے۔
س۔ آپ ماشااللہ ایک طویل عرصے سے شاعری کر رہی ہیں لیکن صرف تین مجموعہ کلام ، جبکہ یہاں تو حالات یہ ہیں کہ لوگ ہر چھ ماہ بعد ایک نیا مجموعہ کلام منظر عام پر لے آتے ہیں؟3
ج میں نے خود لکھا بھی بہت کم ہے۔جب دل چاہا، جب بہت د ل چاہا تبھی لکھا ورنہ اگر آپ کو الفاظ کو ترنّم کے ساتھ بحر میں پرونا آتا ہے تو پھر شعر لکھنا آپ کے لئے اتنا مشکل نہیں رہتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے ک جب تک اندر سے کیفیت نہ ہو کسی بات سے آپ حد سے زیادہ متاثر نہ ہوں اپنے ماحول کا اثر آپ کے اوپر نہ ہو کوئی واقعہ کوئی حادثہ آپ کودیر تک پریشان نہ کرے اس وقت تک اچھا شعرنہیں کہہ سکتے۔دیکھئے غالب نے اچھی شاعری کو تین الفاظ میں بیان کیا ہے عبارت،اشارت اور ادا۔ اگر تینوں باتوں کا لحاظ رکھا جائے تو پھر شاعری اپنی صورت نکھارتی ہے۔اور سنورتی ہے اور سجتی ہے اور اگر ہم یہ کہیں کہ ذود گوئی ویسے بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ دیکھئے بڑے اچھے اچھے شاعر جو ہمارے پرانے ہیں جیسے میر ہیں ، سودا ہیں ،آتش ہیں، ناسخ ہیں، ان سب کی کلیات اگر آپ دیکھیں تو ان کو ہاتھ میں اٹھانا مشکل ہے اس میں سے شعر نکالنا پڑتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا یہ تھا کہ پورا وقت ان کی اوڑھنا بچھونا شاعری ہی تھی ان کی ذریعہ آمدنی بھی شاعری ہی تھا نوکری بھی شاعری کے توسط سے ہی ملتی تھی اس لئے ان کو بہت سارے شعر کہنا پڑتے تھے۔ایک زمین میں کوئی دس غزلیں کہہ رہا ہے کوئی بیس غزلیں کہہ رہا ہے ،کوئی پندرہ کہہ رہا ہے لیکن اس میںبڑے بڑ ے آبدارموتی چھپے ہوئے ہیں ہم انہیں جب چھانتے ہیں دیکھتے ہیں اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور بہت کچھ اس میں سے چھان کرنکالا بھی ہے۔ جنہیں میں اکثراپنے اشعار ےا تقریر میں Quote کرتی رہتی ہوں۔
س۔فراق گورکھ پوری ، جگر مراد آبادی،اور فیض احمد فیض یہ تینوں ااپنے عہد کے بڑے نام تھے اور آپ کی ان تینوں ادبی شخصیات کے ساتھ بڑی نشستیں رہیں، اس حوالے سے اپنی یادوں کے دریچوں سے کچھ تو ہمارے ساتھ شیئر کیجئے؟
ج۔دیکھئے وہ تینوں بڑے شاعر تھے۔ بڑا شاعر ہونا بڑی مشکل بات ہوتی ہے برس ہا برس اس میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس میں خوش نصیبی بھی شامل ہوتی ہے۔ اور پھر قبولیت کا جو مرحلہ ہے وہ بڑی دیر میں جا کر پورا ہوتا ہے جیسے فراق صاحب جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے تنقید نگار بھی تھے۔ اچھا فیض صاحب کا بھی یہی تھا کہ فیض صاحب کی کتاب ’میزان‘ اگر آپ پڑھیں تو ان کی شاعری کی تہہ در تہہ سمجھ آتی ہے کہ وہ کتنے بڑے تنقید نگار تھے۔ فیض صاحب نے عربی اورانگریزی میں ایم۔اے کیا تھا۔فارسی ان کے گھر میں بولی جاتی تھی۔ان تین زبانوں پر تو ان کو کافی عبور تھا۔ فراق صاحب کا یہ تھا کہ علاوہ ان تین زبانوں کے وہ سنسکرت سے بھی واقف تھے۔تو جب آپ اتنی زبانوں سے واقف ہوتے ہیں تو آپ کی شاعری میں ان تمام زبانوں کا رس آجاتا ہے۔ اچھا، جگر صاحب کا یہ تھا کہ انہیں پرانے زمانے کے مطابق عربی ، فارسی اور اردو کی کلاسیکی شاعری پر عبور حاصل تھا اور اپنے استاد اصغر گونڈوی صاحب کا ان کے اوپر بڑا اثر تھا تصوف کے جو ان کی شاعری میں آپ کو نشانات ملتے ہیں وہ ا صغر صاحب کے ہیں۔ اور ہر زمانے میں ہر شاعر اپنے زمانے کے بڑے شاعر کے جادو سے نہیں نکل سکتا اس کو بڑی مشکل سے توڑ کر اپنے آپ کو نکالنا پڑتا ہے۔آپ دیکھئے کہ خود فیض صاحب کہتے تھے کہ ہم سب کے اوپراقبال اور اختر شیرانی کا بڑا اثر تھا۔اور ہم نے بڑے دنوں تک ان کی طرح شاعری کرنے کی کوشش کی۔تو یہ چیزیں ہوتی ہیں زمانے کے ساتھ ساتھ۔ لیکن پھر بڑی شاعری ا ن تمام یعنی سلگتے ہوئے راستوں سے جس میں کانٹے بھی ہیں اور پتھر بھی ہیں۔ وہاںسے گزر کر پڑھنے والے کے سامنے باغ کھلا دیتی ہے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *