اسلامی اتحا د کا سعودی خواب

muhammad Shahzadجگ بھر میں اپنا تماشا لگوانے اور اپنا مذاق اڑوانے میں اگر کوئی ہے جو ثانی نہ رکھتا ہو تو وہ ہے سعودی عرب۔ اگر یہ جھوٹ ہوتا تو سعودیوں پر سکھوں کی طرح لطیفے نہ بنتے۔ سعودی ملا بن بازنے کہا کہ زمین سورج کے گرد نہیں بلکہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بن باز کا کوئی پیٹی بھائی تھا جس نے یہ درفطنی چھوڑی کہ سعودی عرب میں ڈرائیونگ عورتوں کے لئے بلا وجہ ممنوع نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ایسی عظیم الشان حکمت ہے جسے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ڈرائیونگ عورتوں کی بچہ دانی تباہ کر دیتی ہے ۔ اگر عورتوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو نسل انسانی کی مزید افزائش نہ ہو سکے گی۔ ایک اور سعودی مولوی نے یہ فتوی جاری کیا کہ شوہر اپنی بیوی کا گوشت کھا سکتا ہے اگر کھانے کو کچھ اور میسر نہیں۔ ایک سعودی ماہر حیاتیات کی تحقیق کے مطابق کینسر جیسی موذی بیماری سے انسان منٹوں میں چھٹکارہ پا سکتا ہے اگر نہار منہ اونٹ کا پیشاب پینا شروع کر دے۔ حال ہی میں سعودی بہت دور کی کوڑی لائے ہیں بالکل ایسے جیسے ہمارے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار صاحب لے کر آتے ہیں۔ درحقیقت سعودیوں نے تو چوبدری صاحب کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چوہدری صاحب تو دہشت گردی سے موبائل فون سروس معطل کر کے نمٹتے ہیں جو کہ ایک ہنگامی بندوبست ہے مگر سعودیوں نے اس مسئلہ کاstate of the art حل پیش کیا ہے۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پیش نہیں کیا بلکہ ایجاد کر کے نافذ بھی کر دیا ہے۔ سعودیوں نے 34اسلامی ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل دیا ہے دہشت گردی کے خلاف۔
یہ خبر سن کر ذہن میں جو پہلی چیز گونجی وہ تھی ’شعلے‘۔ جی ہاں گبر سنگھ والی ۔ جب ٹھاکرگبر سے لڑنے کیلئے ویرو اور جے جیسے نوسربازوں کی خدمات حاصل کرتا ہے تو گبر کہتا ہے: ’ٹھاکر نے گبر سے لڑنے کیلئے ہیجڑوں کی فوج بنائی ہے!‘
مسلمان اور اتحاد ! یہ ممکن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ مسلم معاشرہ اتنا تقسیم زدہ ہے کہ فی زمانہ کوئی مسلمان اپنے علاوہ دوسروں کو مسلمان ماننے کیلئے تیار ہی نہیں۔ فیس بک پر ایک دلچسپ سچ پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دے چکے ہیں۔صرف کفار ہی ہمیں مسلمان گردانتے ہیں۔ لہذا اس امر پر حیران ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ سعودیوں نے اس اتحاد میں ایران، عراق اور شام جیسے مسلم ممالک کو کیوں شا مل نہیں کیا۔سعودی علما شیعہ کو مسلمان نہیں مانتے۔ ویسے منافقت میں بھی سعودیوں کا جواب نہیں۔ حج عمرے کے سیزن میں سعودی شیعہ کو مسلمان مانتے ہیں۔ کعبہ میں آنے دیتے ہیں۔ پیسہ جو آرہا ہوتا ہے! اسلامی اتحاد بناتے وقت شیعہ کافر ہو جاتا ہے۔
سعودیوں کی ان ہی دانشمندانہ حکمت عملی کی بدولت یہ تاریخی اتحاد سرکس کا خاص آئٹم لگتا ہے۔ اور لگے بھی کیوں نہ۔ اتحاد قائم ہوئے چوبیس گھنٹے بھی نہ گذرے تھے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ (جسکا خارجی امور کا علم بھی بن باز جیسا ہی ہے) نے یہ بیان داغ دیا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ہیر عورت ہے یا مرد۔اگر سعودیوں نے مرد ٹھہرایا تو مرد، عورت قرار دیا تو عورت اور اگر اس کے درمیان کچھ طے پایا تو الماس بوبی۔ سعودی صرف نام کے شہنشاہ نہیں۔ انکی حرکتیں بھی شہنشاﺅںوالی ہیں۔ کوئی سعودی شہزادہ سو گیا ہو گااور رات کو خواب میں چونتیس ممالک کے اتحاد کا خواب آ گیا ہو گا۔ کسی بھی ملک سے نہ پوچھا نہ گچھا، بس شاہی فرمان جاری ہو گیا کہ اتحاد بن گیا ہے۔ اتحادی بھی انتہائی فرمانبردار۔ کسی میں اتنی ہمت کہاں کے بتلا دے کہ بادشاہ تو ننگا ہے۔ سرکس کا ہر مسخرہ ایسی حرکتیں کر رہا ہے کہ جس سے تماش بینوں کو یہ پتہ نہ چلے کہ کسی بھی مسخرے کو کسی بھی قسم کا سکرپٹ دیا ہی نہیں گیا۔ سرکس کے مالک کو بھی نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔ مالک دوبارہ سوئے گا۔ پھر سے خواب آئے گا۔ اگر خواب میں ہر مسخرے کے کردار کا پتہ چل گیا تو بتلا دیا جائے گا۔ تب تک اسی طرح اچھل کود جاری رہے گی، دہشت گردی ، داعش اوراتحاد کا سرگم جاری رہے گا اور تماش بین تالیاں پیٹتے رہیں گے۔
ذرا بتاﺅ سعودیوں سے ایک کرین تو سنبھالی جاتی نہیں۔ان کا پھوہڑ پن سینکڑوں لوگوں کی جان لے لیتا ہے۔ بھگدڑ قابو کر نہیں سکتے۔ پھر سینکڑوں جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ 1979ءمیں مٹھی بھر شرپسند کعبے کا گھیراﺅ کر لیتے ہیں۔ ان نالائقوں سے یہ لونڈے سنبھلتے نہیں۔ کعبہ کا قبضہ چھڑانے کیلئے کافروں کی یعنی فرانسیسی اور امریکی فوج کی مدد لی جاتی ہے۔ اب چلے ہیں دہشت گردی کیخلاف اتحاد کی رہنمائی کرنے۔ ارے بھئی فلسطینی مر رہے ہیں ۔اسرائیل سے بڑا دہشت گرد کون ہو گا؟ اس کے خلاف کیوں نہیں بناتے اتحاد۔ اسے تو تیل دیتے ہو جس سے یہ معصوم فلسطینیوں کو مارتا ہے۔ بسا اوقات میراثی اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ نشے میں چوہدری بن جاتا ہے۔ سعودیوں کا بھی یہی حال ہے۔ اپنے آپ کو امریکہ سمجھ رہا ہے اور اپنے کاغذی اتحاد کو نیٹو۔ سعودی اگر دہشت گردی کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ریاستی دہشت گردی ختم کریں جو انہوں نے اپنے عوام اور اقلیتوں کیخلاف شروع کی ہوئی ہے۔ عورتوں کو عزت دیں۔ انسان کو انسان سمجھیں۔ اس اتحاد میں اگر کسی ملک میں دم خم ہے تو وہ ہے پاکستان۔ مگر اس میں اب اتنا بھی سانس نہیں باقی کہ لال مسجد کے ایک معمولی مولوی سے نمٹ سکے جو کہ داعش کے امیر بغدادی کا ایک معمولی سا کارندہ ہے۔ داعش سے کیسے لڑے گا پاکستان اور وہ بھی ایک ایسی جنگ جو کہ اس کی نہیں۔ نہ اس کی زمین پر۔ افسوس ہوتا ہے۔ ہماری غلامانہ ذہنیت سائے کی طرح ہمارے پیچھے لگی رہتی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا محور یہ ہے کہ سعودی شہزادوں کو تلور کا شکار پاکستان میں کھیلنے دو اس سے دو طرفہ معاملات خوشگوار رہیں گے۔ اندھے کو بھی معلوم کہ یہ اتحاد کس لئے ہے۔ سعودیوں کو اپنا اقتدار خطرے میں دکھ رہا ہے۔ عرب سپرنگ نے نیندیں حرام کیں۔ اب حوثی باغی اور داعش بھی میدان میں کود پڑے۔ سعودیوں کو ڈر ہے کہ سعودی جوان داعش میں شمولیت اختیار کر لینگے اور انکے محلات زمین بوس ہو جائیں گے۔ دہشت گردی تو ایک بہانہ ہے۔ ورنہ سعودی عرب سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو سکتا ہے۔ہمیں فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے والا کوئی اور نہیں یہی سعودی عرب ہے۔۔امریکہ اور اسرائیل کی داشتہ! افسوس کہ ہم نے ابھی تک دوست اور دشمن میں تمیز کرنا نہیں سیکھا۔ اس بیکار کے اتحاد پر لبیک کہہ کر ہم اپنے پیر پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ ہمیں ایران سے تعلقات اچھے بنانے ہیں تا کہ ہم IPIکو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ سعودیوں کا اتحاد ایک نیا عفریت ہے فرقہ واریت کا۔ اس سے ایران ناخوش ہو گا۔ اندرونی طور پر فرقہ واریت کو مزید تقویت ملے گی۔ سعودیوں کی مفادات کی جنگ میں ہمیں سوائے مزید رسوائی اور تباہی کے کچھ نہیں ملنے والا۔ ہم امریکہ کو اپنا دوست مانتے ہیں کاش اس سے کچھ سیکھ ہی لیتے۔ سیاست میں دوستیاں مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔ امریکہ نے تو سعودی عرب کی ایک نہ سنی شام کے معاملے میں۔ ایران کے حوالے سے بھی امریکہ نے سعودیوں کو کوئی لفٹ نہیں کروائی۔ امریکہ تو ایران سے تعلقات بہتر بنا رہا ہے اور سعودی عرب کو اسکی اوقات یاد دلا رہا ہے۔ اور ہمارے ہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے )

اسلامی اتحا د کا سعودی خواب” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 25, 2015 at 2:57 PM
    Permalink

    اس کالم کا حاصل کلام یہ ہوا کہ
    پاکستان کی وزارتِ خارجہ اسلامی اتحاد کے جنس کے تعین کےلئے سعودی جواب کے انتظار میں ہے کہ وہ اس کو مرد ٹھہراتا ہے یا عورت اور اگر اس کے درمیان کچھ طے پایا تو الماس بوبی۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *