جاگیر داری اور تشدد کی ثقافت

مجاہد حسین

mujahid hussainانسانی تاریخ ایک لحاظ سے سماجی اداروں کی تشکیل و تخریب کی ایک طویل داستان ہے ۔ ہزاروں برس پر محیط یہ طربیہ و المیہ تہذیبی نغمہ انہی دھنوں پر تخلیق ہوتا رہا ہے ۔ جب بھی سماج کو کسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے ، اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ادارہ جنم لیتا ہے تاہم جب وقت کا دیوتا آگے بڑھ کر نئے تہذیبی مسائل پیش کرتا ہے تو پرانے ادارے اپنا جواز کھو بیٹھتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان فرسودہ اداروں سے طاقتور طبقات کے مفادات وابستہ ہو جاتے ہیں اور وہ انہیں مٹانے کی ہر کوشش کے خلاف مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔مغرب میں کلیسا کا ادارہ صدیوں تک معاشرے پر مسلط رہا اور اس سے چھٹکا را پانے کے لئے مفکرین کے ایک طویل سلسلے کو اپنی ذہنی توانائیاں صرف کرنا پڑیں ۔ بہت سوں نے تو اس جدوجہد میں اپنی جان تک قربان کر دی، تب جا کر اس سے معاشرے کی جان چھوٹی اور کاروان زندگی کو آگے بڑھنے کے لئے نئی تخلیقی توانائی میسر آئی۔
کچھ ادارے نا گزیر ہوتے ہیں جن کے بغیر سماج کا وجود ممکن نہیں ہوتا۔ وقت کے تقاضوں کے پیش نظر ان کی عملی شکل میں ترامیم و اضافے ہوتے رہتے ہیں مگر وہ خود قائم رہتے ہیں۔ حاکمیت کا ادارہ اس کی ایک مثال ہے جو ازل سے قائم ہے اور قبائلی سردارسے لے کر بادشاہ اور فوجی آمر کے راستے سے ہوتے ہوئے جمہوریت کی شکل میں آج بھی موجود ہے ۔ ایسے ادارے جو مسلسل انسانی تاریخ میں اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہوں، ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ اس کے برعکس ایسے ان گنت ادارے ہیں جو ایک متعین وقت میں اپنا کردار ادا کر کے ختم ہو گئے ۔ اس کی ایک مثال غلامی کاادارہ ہے جو آج دنیا سے مٹ چکا ہے جبکہ دو صدیاں پہلے تک یہ دنیا کے ہر گوشے میں موجود تھا۔
زندہ معاشرے میں مفکرین اور مصلحین پیدا ہوتے رہتے ہیں جو نیم مردہ اداروں کے وجود پر نہ صرف سوال اٹھاتے ہیں بلکہ نئے اداروں کے خدو خال بھی واضح کرتے ہیں۔ جبکہ قدامت پسند معاشرے فرسودگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے رینگتے رہتے ہیں اور آخر کار تہذیبی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ معاشرہ اپنے وجود کا مسلسل جائزہ لیتا رہے تاکہ غیر ضروری بوجھ پرے پھینک کر سفر تیز تر کیا جا سکے ۔ اسی اصول کے تحت اگر پاکستانی معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں دو ایسے ادارے نظر آتے ہیں جنہوں نے ایک وقت میں اس خطے کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم جدید دور میں یہ اپنی افادیت کھو بیٹے ہیں اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہماری قومی زندگی کی کئی قیمتی دہائیاں ان کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہیں۔
سب سے پہلا ادارہ جاگیرداری کا ہے جس کے منفی اثرات ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں مگر چونکہ یہ پنجاب کے بہت بڑے حصے سے غائب ہو کر اندرون سندھ اور بلوچستان تک محدود ہو چکا ہے اس لئے ہماری تنقیدی نگاہ سے محفوظ ہو چکا ہے۔ بہت سے ترقی پسند دانشور بھی اب اس پر بات کرنا پسند نہیں کرتے ۔جب بھی جاگیرداری کی بات ہوتی ہے تو جواب یہ ملتا ہے کہ یہ نیم مردہ ادارہ اب معاشرے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے معاشی اثرات اب اسقدر نقصان دہ نہ رہے ہوں لیکن اس ادارے کو قائم رکھنے کی جس قدر سیاسی و سماجی قیمت ہم دے رہے ہیں اس کا مکمل ادراک نہیں کیا جا سکا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جاگیر داروں کو شامل کئے بغیر اقتدار میں نہیں آ سکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے آغاز سفر میں عوامی طاقت سے سیاسی کامیابی ضرور حاصل کر لی تھی مگر وہ بھی زیادہ دیر اس طاقتور طبقے سے لاتعلق نہیں رہ سکے تھے۔ یہی سبق دھیرے دھیرے عمران خان صاحب بھی سیکھ رہے ہیں۔ جاگیردار آج جمہوریت کے راستے ریاست پر قابض ہو گیا ہے اور معاشرے کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہواہے ۔

جاگیردارانہ نظام کی سماجی قیمت اس کی سیاسی قیمت سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ نظام جن بنیادوں پر کھڑا ہے اس کی سب سے پہلی اینٹ کا نام احساس ملکیت ہے۔ زمین اور اس پر بسنے والے مویشی اور انسان ایک شخص کی ملکیت ہوتے ہیں اور ملکیت کے اسی احساس سے نہ صرف ایک خاص اخلاقیات جنم لیتی ہے بلکہ سماجی اقدار اور معاشرتی رویئے بھی متعین ہوتے ہیں۔ یہ اقدار اور روئیے دیہی علاقوں میں توپوری توانائی کے ساتھ کارفرما ہیں تاہم شہری آبادیاں بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ شہر وں میں بھی غیرت کے نام پر قتل کئے جاتے ہیں جو حقیقت میں عورت کو اپنی جاگیر سمجھنے کی نفسیات کا شاخسانہ ہے ۔ اسی طرح بڑے شہروں کے مضافات میں اینٹوں کے بھٹوں پر پورے خاندان کو مقید کر دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے بھی یہی احساس ملکیت ہوتا ہے ۔ اپنے بچوں پر تشدد ہمارے معاشرے میں ایک عام بات ہے ۔ اس کی جڑیں بھی اسی سوچ میں پائی جاتی ہیں۔اس طرح کی بیشمار مزید مثالیں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ جب تک ان رویوں سے نجات نہیں ملتی ، ہم بطور قوم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔
ہمارے ملک میں ریاست کی رٹ کمزور ہے اور طاقتور حلقے قانون کی پیروی کرنا پسند نہیں کرتے ۔ یہ جاگیرداری نظام سے پیدا کردہ احساس تفاخر کی ایک اور مثال ہے ۔ جاگیرداراپنے علاقے میں خود ہی قانون اور خود ہی منصف ہوتا ہے ۔ اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی۔ چونکہ عوام اپنے حاکموں کی نقالی کرتی ہے ، اسی لئے قانون کی جانب حقارت کا رویہ پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے ۔اور یوں معاشرے میں ریاست کی عملداری خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے ۔پاکستان میں یہ صورتحال ہر جگہ موجود ہے۔ جاگیر داری کو یورپ کم از کم دو سو سال پہلے ترک کر چکا ہے جبکہ ہم ابھی تک اسی گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے مکمل خاتمے کے بغیر جدید دنیا سے ہم آہنگ ہونے کا خواب کبھی حقیقت سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔
دوسرا ادارہ مذہبی تعلیم کا ہے جس کا ظہور ہم ملک کے طول و عرض میں پھیلے مدارس کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔چونکہ یہ ایک ایسا دارہ ہے کہ جس سے ہماری تہذیبی شناخت کے بہت سے پہلو منسلک ہیں اس لئے جاگیرداری کے برعکس اس کا مکمل خاتمہ نہ ممکن ہے اور نہ ہی مطلوب ۔اس کی اصلاح البتہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا مکمل تجزیہ یہاں ممکن نہیں ہے تاہم ایک طائرانہ نظر ہمیں بتاتی ہے کہ جو کچھ ان مدارس میں پڑھایا جاتا ہے وہ آج سے سینکڑوں سال پہلے معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔اپنے دور میں یہ ایک ترقی پسند سوچ تھی مگر آج یہ ایک فرسودہ نظام فکر بن چکا ہے ۔ ہم ایک یکسر مختلف دور میں جی رہے ہیں جس کے مسائل اور چلنجز بھی مختلف ہیں ۔ اس لئے اس ادارے کی اصلاح آج کی سب سے اہم ضرورت ہے اور یہ صرف حکومت اور علما کی باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہے ۔
تاریخ کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ جس سماج پر فرسودہ ادارے مسلط ہوں وہاں قانون قدرت کے تحت ہمیشہ تشدد جنم لیتا ہے کیونکہ روح عصر کا اصرار ہوتا ہے کہ نئی دنیائیں تخلیق کی جائیں اور طاقتور حلقے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے اس کی شدید مزاحمت کرتے ہیں۔آج کی دنیا میں جہاں بھی دور قدیم کے ادارے موجود ہیں وہاں تشدد کی آگ بھڑک رہی ہے ۔ بادشاہت اور فوجی آمریت دونوں فرسودہ ادارے ہیں اور جس خطے میں بھی یہ موجود ہیں وہاں مسلسل جنگ کی آگ بھڑکتی رہتی ہے ۔مشرق وسطی کی ریاستیں اور افغانستان کی سرزمین، دونوں میں جمہوریت کا فقدان بھی ہے اور فرسودہ مذہبی تعلیمات کا دور دورہ بھی۔ اسی وجہ سے یہاں وہ امن و سکون ناپید ہے جو ہمیں مغربی معاشروں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ آج کل پاکستان میں دہشت گردی اور کرپشن، دو سب سے بڑے مسائل ہیں اور دونوں کا ارتکاز انہی علاقوں میں ہے جہاں یا تو مذہب کی قدیم تعبیر کو قبول عام حاصل ہے یا پھر وہاں جاگیرداری نظام مضبوط ہے ۔ بلوچستان اور سندھ تشدد اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں یونکہ ان دونوں صوبوں میں جاگیردارانہ نظام اپنی مختلف شکلوں میں موجود ہے ۔ جبکہ فاٹا کے علاقے دہشت گردی کی آماجگاہ بنے رہے ہیں جس میں مدارس سے پھیلنے والی مذہبی تعبیرات کا بنیادی ہاتھ ہے ۔ جب تک ریاست ان دونوں اداروں کے ضمن میں کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھاتی، ترقی کے سب خواب ادھورے ہی رہیں گے ۔

جاگیر داری اور تشدد کی ثقافت” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *