متحدہ کے نامزد میئر کراچی سمیت 25 رہنماﺅں کے وارنٹ گرفتاری جاری

waseem akhtar انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اشتعال انگیز تقریر میں معاونت کے الزام میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین، سینئر رہنما فاروق ستار اور کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر سمیت 25 رہنماو¿ں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے.
یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے رواں برس 12 جولائی کو لندن سے ایک ٹیلیفونک خطاب میں رینجرز کو سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے فوج پر شدید تنقید کی تھی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک میں مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے چارج شیٹ پیش کی، جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے 25 رہنماو¿ں کو کرمنل پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 12 کے تحت چارج کیا گیا.
جن رہنماو¿ں کے نام چارج شیٹ میں شامل کیے گئے ان میں ایم کیو ایم قائد الطاف حسین،کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر، سینئر رہنما فاروق ستار، رشید گوڈیل، خواجہ اظہار الحسن، رو¿ف صدیقی، قمر منصور، سلمان مجاہد بلوچ، ریحان ہاشمی، خالد مقبول صدیقی، کیف الوریٰ اور دیگر شامل ہیں.
سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی کے جج بشیر احمد کھوسو نے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین، سینئر رہنما فاروق ستار اور کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر سمیت 25 رہنماو¿ں کے اگلے ماہ 2 جنوری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی.
یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپہ مار کر نیٹو کا اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ کئی سزا یافتہ مجرمان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا، بعد ازاں جولائی میں رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا.
اس خبر کے آنے کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ فوج کے ضابطہ اخلاق میں کہیں یہ لکھا ہے کہ فوج یا اس کے نیم فوجی ادارے مثلاًرینجرز کسی سیاسی جماعت کے خلاف کوئی چارج شیٹ جاری کریں؟ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز ایک سکیورٹی فورس ہے یا سیاسی پارٹی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *