رینجرز کے اختیارات کا جھگڑا

kaleemخواجہ محمد کلیم

اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرنے والوں کو معلوم نہیں کون ساپتھر اپنی طرف آتا دکھائی دیا ہے کہ وہ اب سمندر پا ر جا براجے ہیں۔ اپنے پیچھے جن کو وہ چھوڑ گئے تھے ان میں سے بھی بہت سے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دبئی پہنچ چکے ہیں۔ بعض کو دبئی کے ہوائی اڈے پرہی یہ انکشاف ہوا کہ وہ تو بہت ہی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان بیماریوں کے علاج کے لئے پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر قدم رکھنا حفظان صحت کےلئے سخت نقصان دہ ہے۔ جو بچ گئے ہیں ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ معاملات کو کیسے سدھارا جائے ۔ سنا ہے سابق حکومت کے ایک اہم وزیر نے راولپنڈی کے بہت سے دروازے کھٹکھٹائے ہیں لیکن جواب کا بھاری پتھر ہی چومنا پڑا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ سعودی عرب کی زیارت کے باوجود مرشد پاک کے بقول وڈے سائیں کی طبیعت ناساز ہے اور وہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر پاکستان آنے سے قاصر ہیں۔ وہی برسوں پرانا عذر۔ دوسری طرف یوں لگتا ہے کہ سندھ کا دارالحکومت کراچی سے دبئی منتقل ہو گیا ہے، جلاوطن حکومت تو سنتے آئے تھے لیکن جلاوطن دارالحکومت کی سمجھ اب آئی ہے۔کوئی معاملہ ہو وڈے سائیں تالی بجاتے ہیں اور قائم و دائم سائیں فورا اپنی کابینہ سمیت جلاوطن دارلحکومت میں حاضر دربار ہوجاتے ہیں۔غضب خدا کا.... کرپشن کو تو اب کوئی برائی سمجھا ہی نہیں جا رہا بلکہ اپنے دامن پر لگے غلیظ کیچڑ کو غیر متنازع اکابرین کی قبروں پر اچھالنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔ قائد ملت لیاقت علی خان جیسے رہنما پر کرپشن کا الزام عائد کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ چاند پر تھوکنے کی کوشش کریں۔ پروٹوکول کی بیسیوں گاڑیوں کے جلو میں تھر میں بھوک سے مرتے عوام کا مذاق اڑانے کے لئے جانے والے بادشاہ نہیں جانتے کہ اپنی ساری کمائی حکومت پاکستان کے حوالے کر نے والاجب اس دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے پھٹے کپڑوں پر پیوند لگانے کے لئے شائد سوئی دھاگہ بھی میسر نہیں تھا کہ ان کو سی لیا جاتا۔ چہ نسبت خا ک را....
ایک ایسا شخص جو طوطے کی طرح سب کچھ بول چکا ہے اور اس کے خلاف گواہی بھی موجود ہے سائیں سرکار کی شہ پا کر ملکی سلامتی کے اداروں پر کھلم کھلا کیچڑ اچھال رہا ہے۔ سپیکر سندھ اسمبلی درانی صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کو اختیارات حکومت نے دینے ہیں، سندھ اسمبلی کا کیا کردار؟دوسری طرف مولا بخش چانڈیو صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ سندھ اسمبلی میں پیش کرنا آئینی تقاضا ہے ۔ بندہ پوچھے بھولے بادشاہو!یہ خیال آپ کو ذرا جلدی نہیں آگیا ؟چلیں مان لیا یہ آئینی تقاضا ہے تو اب ذرایہ فرما دیں کہ اس سے پہلے آپ اس آئینی تقاضے سے انحراف کرکے جس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں اس کی کوئی وجہ ہی بیان فرمادیں ۔بہرحال وڈے سائیں کے حکم پر قائم و دائم سائیں قائم رہے کہ رینجرز کو اختیارات سندھ اسمبلی کی قرارداد کے بعد ہی دیں گے ۔ لیکن برا ہو قسمت کا کہ جو قرارداد پورے زورو شور سے پیش کر کے بڑے کھڑاک سے منظور کرائی گئی تھی رینجرزکے ایک انکار نے اس کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ظاہر ہے ہاتھ پیر باند ھ کر اگرآپ کسی سے کہیں گے لڑو تو وہ کیا کرے گا۔
پیپلزپارٹی کے کسی کارکن کا یہ مسئلہ نہیں کہ ڈاکٹر عاصم کے ساتھ کیا ہورہاہے۔ ایک عام کارکن کو اس معاملے میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں اور تو اورجن رہنماو¿ں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو ایک خاص انداز سے اچھالیں اور سندھ کارڈ کھیلنے کی بھرپور کوشش کریں صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی زبان ان کے دل کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک پیپلزپارٹی کے کسی بھی رہنما کا بیان اٹھا کر دیکھ لیں ایک ہی بات کی گردان ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ تلملاہٹ کی وجہ یہ نہیں کہ ڈاکٹر عاصم کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا گیا ہے بلکہ استدلال یہ ہے کہ ہماری ہی کرپشن پر نظر کیوں؟ایک بات تو صاف ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی بے گناہی کی قسم کھانے والا کوئی نہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سندھ پولیس نے جس طرح چودہ کو چار کیا، اس سے قانون کے رکھوالوں کی طرف سے قانون کے ساتھ کیا جانے والا کھلواڑ سب نے دیکھ لیاہے۔ صرف ایک شخص کو بچانے کے لئے کراچی کے د و کروڑ عوام اور ملک کی معاشی شہ رگ کی سلامتی کو داو¿ پر لگا دیا گیا ہے۔ اور تو اور خورشید شاہ جن کے اپنے دامن پر کم از کم کرپشن کا کوئی داغ نہیں وہ بھی آستینیں چڑھا کر میدان میں اترے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’ ہم نے چوڑیاں نہیںپہن رکھیں‘۔ وزیر داخلہ کی طرف سے ایک سخت بیان کے بعد قومی اسمبلی میں شاہ صاحب نے کھڑے ہو کر چودھری نثار کی پریس کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ شاید یہ وزیراعظم کی مرضی کے خلاف کی گئی لیکن شاہ صاحب کا یہ بیان ایسے ہی ہے جیسے وہ خو دزرداری صاحب کی صوابدید پر، ان ہی کی پالیسیوں کے مخالفت میں سامنے آ جائیں ۔ سیاسیات کا طالب علم کے ناطے میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اس معاملے میں وزیراعظم کی مرضی کے برعکس کچھ کیا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا کوئی بھی رہنما اس بات پر زور نہیںدیتا کہ ڈاکٹرعاصم بے گناہ ہیں بلکہ ان کی تان صرف اس بات پر آکر ٹوٹتی ہے مسلم لیگ ن کے رہنماو¿ں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ اس حوالے سے خاص طور پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا نام لیا جاتا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ میں ملوث تھے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پیپلزپارٹی کی راہ میں ایسی کیا رکاوٹ ہے کہ وہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف کوئی ریفرنس دائر کر کے انہیں عدالت سے نااہل قرار دلوا کر ایک بڑی سیاسی کامیابی سمیٹ لے۔ قومی اسمبلی میں شاہ صاحب کے خطاب میں وہ جوشیلا پن بالکل ندارد تھا جس کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو توقع تھی بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ چاروں طرف سے پانی میں گھرا ہوا شخص بے یقینی کے عالم میں ہاتھ پیر مار رہا ہے ۔ قائد حزب اختلاف نے یہ تو فرمایا کہ بات بہت دور تک جائے گی لیکن ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ میںوہ گھن گرج نہیںتھی جو بات کو دور تک لے جانے کے لئے درکار ہوتی ہے ۔صاف نظر آرہا ہے کہ پیپلزپارٹی ایک شخص کو بچانے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کرکے نڈھال ہو چکی ہے لیکن اس دوران پیپلزپارٹی کی قیادت نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عمل سے کراچی میں قیام امن کے لئے جاری آپریشن کو کس قدر نقصان پہنچے گا اور اس کے ملکی سیاست اور معیشت پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔رینجرز کوا ختیارات نہ دینے کے پیچھے صرف اور صرف ایک سوچ کارفرما ہے کہ وفاق اور قومی سلامتی کے اداروں پر دباو¿ ڈال کر آپریشن کا دائرہ کاراتنا محدود کردیا جائے کہ اس کا مقصد ہی فو ت ہوجائے ۔ خواہش یہ ہے کہ رینجرز اپنے اصل مقصد یعنی کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور ان کے معاونین کی سرکوبی کی بجائے اپنی توجہ صرف سامنے نظرآنے والے معمولی مہروں تک محدود رکھے لیکن ظاہر ہے رینجرز فوج کا حصہ ہے اور انہیں اپنے مشن ادھورے چھوڑنے کی تربیت نہیں دی جاتی ۔ آپریشن کے اس مرحلے پر جب پیپلزپارٹی کے علاوہ سندھ کے تمام سٹیک ہولڈرز رینجرز کو اختیارات دینے کے حق میں ہیں، رینجرز کو اختیارات نہ دینے کا مطلب کراچی میںقیام امن کی راہ میں روڑ ے اٹکانا ہے ۔ لیکن پیپلزپارٹی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خطے کے حالات اور مستقبل کی ضروریات ،خاص طور پر اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے کراچی میں قیام امن نہ صرف پاکستان کی ضرورت ہے بلکہ خطے کی ایک بڑی طاقت بھی کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی راہ میںکوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی ۔ اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ وفاق کو اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے پر مجبور نہ کیاجائے ورنہ سندھ حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی ۔

رینجرز کے اختیارات کا جھگڑا” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 24, 2015 at 12:23 AM
    Permalink

    یہ بڑا دلچسپ عنوان ہے، ''رینجرز کے اختیارات کا چھگڑا'' گویا کالم میں محض ان محرکات کی نشان دہی کی جانی ہے جو اس جھگڑے کی اساس ہیں لیکن کالم پیپلز پارٹی کے تناظر میں سندھ کی مجموعی سیاسی صورتحال کو محیط ہے گویا سارا جھگڑا ہی پیپلز پارٹی کے کارن ہے۔ اگرچہ متن میں یہ بات نہ سہی لیکن زیر متن تو اسی احساس کو ہوا دے رہا ہے۔ اصل میں تو یہ احساس عوام میں پہلے ہی سے موجود بھی ہے۔ صرف ڈاکٹر عاصم ہی کے معاملے کو ٹیسٹ کیس بنا کر مشاہدہ کریں۔ انہیں بچانے کے لیے حکومت نے بوکھلاہٹ میں جس قدر بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا ہے اس سے وہ عوام کی نظر میں عدالتی فیصلے سے قبل ہی عاصم سے آصم (گناہ کار) ہو گئے ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *