قوم کے معمار مناسب خوراک سے محروم

hungrنیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کا ماننا ہے کہ ’اب بھی ہر 3 میں ایک پاکستانی کو غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے‘۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے قومی اسمبلی میں مالی سال 14-2013 کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کونسل نے موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ’حالیہ سالوں میں زراعت کے شعبے کی خراب صورت حال‘ کو قرار دیا. مذکورہ رپورٹ کونسل کے اہداف اور کارکردگی کے حوالے سے تیار کی گئی ہے، جس میں حکومت کے وژن 2025 کے نفاذ کے لیے سال 18-2013 کو پہلے 5 سالہ منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مطابق عوام کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زراعت کو مزید غریب دوست بنانا ہوگا. رپوٹ کے مطابق ’اس کو حاصل کرنے کے لیے زرعی اور غیر زرعی شعبوں میں مضبوط تعلق کی ضرورت ہے، جو زرعی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور بنیادی تعلم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی سے ممکن ہے‘۔ این ای سی کے مطابق حکومت کی جانب سے مقررہ اور واضح زرعی اہداف کے حصول اور صارفین تک رعایت شدہ گندم یا آٹے کی فراہمی اس مسئلے کا حل ہے۔ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بیان کیا جانے والا مسئلہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔

hungerان کے مطابق جس وقت حکومت گندم اور دیگر اہم اجناس کی امدادی قیمت میں اضافہ کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس اس حوالے سے کوئی پائیدار پالیسی موجود نہیں ہے۔ سال 1998 سے 2009 تک حکومت کے معیشت کے ترجمان رہنے والے اشفاق حسن خان کا کہنا تھا کہ ہر آنے والی حکومت امدادی رقم کے اعلان کے ذریعے اپنی زرعی پالیسیز کے حوالے سے توجہ گندم، چاول، کپاس اور گنا پر مرکوز کرتی ہے، جوکہ زرعی پیداوار کا صرف 30 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں گندم کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد بڑھ جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کو مذکورہ پیداوار حاصل کرنے میں جن اہم چیلنجز کا سامنا ہے ان میں توانائی کی قلت، سیکیورٹی، پانی کی ناکافی فراہمی اور ہنرمند مزدوروں کی عدم دستیابی شامل ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں کام کرنے والی معاشی ٹیم نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک فہرست پیش کی ہے، جس کے ذریعے فوری طور پر چیلنجز کا سامنا کرنے اور پاکستان کے عوام کی تعمیر و ترقی کے عمل کو مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے ایک جامع سماجی تحفظ کے نظام کو قائم کرتے ہوئے نمایاں طور پر بہتر معیار تعلیم اور صحت کی خدمات فراہم کرکے سماجی خسارے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

بشکریہ ڈیلی ڈان لاہور

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *