دہلی میں دسمبر کی ایک رات ....

zeeshan hashimدو دن پہلے زکام ہوا
بے احتیاطی جاری رہی
آج سہ پہر یہ شدید موسمی بخار میں بدل گیا ہے
تھوڑا سا چلنا بھی محال ہے
کھڑکیاں دروازے پنکھا اے سی سب بند ہیں ۔
ایک موٹے گرم کمبل کی حدت سکون دے رہی ہے-
باس کا فون آیا ہے اور ’جتنی چھٹیاں درکار ہوں‘ کرنے کی اجازت دی ہے
ابھی منہ کا ذائقہ کڑوا نہیں ہوا اس لئے اپنی ہی گرم سانسوں میں تحلیل ہوا جا رہا ہوں
مکمل تنہائی ہے کوئی آس پاس نہیں-
مگر مزہ آ رہا ہے ...
ایک دوست سے وٹس ایپ پر چیٹ ہو رہی ہے جس کے الفاظ بیمار وجود کے لئے مسیحائی کا خوشگوار احساس دلا رہے ہیں
لحظہ پھر کو فیس بک میں جا کودتا ہوں
ٹیکنالوجی تنہائی میں دوستی کا ساتھ نبھا رہی ہے
جانے کیوں مگر مزہ آ رہا ہے
اپنے ماضی کا جائزہ لے رہا ہوں
حال کی رگوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے-
سوچ رہا ہوں زندگی کتنی خوبصورت ہے
اگر مر گیا تو ؟
کیا مٹی ہو جاوں گا ؟
یا ویسا جیسا پیدا ہونے سے پہلے تھا ؟
کیا زمان و مکان کا رشتہ فرد سے منسوب ہے؟ فرد نہیں تو یہ دونوں نہیں؟
کیا کوئی اور جہاں بھی ہے جہاں کسی کو کسی کا امتحان مقصود ہے؟
پھر وہی سوال، میں کون ہوں ؟
فانی ہوں یا بقا سے جڑا ہوں؟
اگر میں فنا ہو گیا تو یہ پوری کائنات تو جھوٹی ٹھہری ؟
میں کون ہوں ؟
میرا وقت و جگہ سے کیا رشتہ ہے؟
میرے سب رشتے کیا میرے رشتے ہیں ؟
میں جب اپنی امی کو سوچتا ہوں تو لگتا ہے وہ میرے دھڑکن میں بستی ہیں
چھوٹا بھائی زمان ضدی ہو کر بھی ہر چیز سے پیارا ہے
یہ احساس محبت مجھے میرے ہونے کا احساس دلاتا ہے. ..
پھر میں اپنے شعور میں جھانکتا ہوں
وہاں کریدتے سوال میرے ذہنی وجود کو کرید رہے ہیں
یہ بھی ہونے کا احساس ہے
پھر میں ان جوابات پر نگاہ دوڑاتا ہوں
جن کی جستجو میں عمر کٹی
سوچتا ہوں کیا یہ بھی میرے مرنے سے مر جائیں گے
میرے سوالات ؟
اور میرے جوابات ؟
جواب ملتا ہے نہیں ....
من بدھا ہو جاتا ہے
ڈیکارٹ، نیوٹن، لاک اور جان سٹیورٹ مل میرے اندر تحلیل کر جاتے ییں
کوئی ہے جو مجھے تاریخ میں جا دھکیلتا ہے
وہاں میں ایڈم سمتھ کے ’نادیدہ ہاتھ‘ کو صرف معیشت میں نہیں بلکہ پوری سوشل سائنس میں دیکھ سکتا ہوں -
ڈارون کا مشاہدہ ہر ذرے میں دوڑتا نظر آتا ہے
میں مطمئن ہو جاتا ہوں
میری تشکیک کو یقین میسر آ جاتا ہے
میں تیار ہوں مرنے کو
اب بھی
یا پھر کبھی
کوئی غم نہیں
صرف سرشاری ، لذت و مستی ہے
شکریہ محبت ....
شکریہ ذہن....
شکریہ تاریخ....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *