مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں ....

husnain jamal (2)ظریف الدولہ مشتاق احمد یوسفی ’شام شعر یاراں‘ میں لکھتے ہیں....
”بعض لوگ چاہتے ہیں کہ تہلکہ مچادینے والی تبدیلی اور انقلاب ان کے عزم و ارادے اور جدّوجہد کے بغیر ایکٹ آف گاڈ کی مانند واقع ہو۔ یعنی اگر کسی چہچہاتے اور .... سرخا سرخ انقلاب یا تربوزی سبز (یعنی باہر سبز، اندر لالوں لال) یا ہلدی اور یرقانی فکر سے بھی زیادہ زرد انقلاب کو آنا ہی ہے تو ایک خاکی رنگ صبح اچانک قدرتی و آسمانی آفت اور سونامی کی مانند محض مشیّت الٰہی سے آجائے، جو ناقابل دست اندازی انسان ہو۔
انقلاب آمد دلیلِ انقلاب
یہ لوگ ساری عمر اپنے پسندیدہ رنگ کے انقلاب کے، جو آپی آپ آجائے، متمنی و منتظر رہتے ہیں اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف اس کے آثار و علامتیں دیکھتے ہیں، مگر انقلاب ہے کہ کسی طرح آکے نہیں دیتا۔
بڑی تبدیلی لانے کی خواہش میں مضمر افراط و تفریط کے خطرات لیڈی ایسٹر نے، جو اپنے زمانے کی نہایت ممتاز و مقبول شخصیت ہونے کے علاوہ برٹش پارلیمنٹ کی پہلی خاتون ممبر بھی تھیں، کیسی چبھتی ہوئی بات کہی، جس کی کاٹ کو اپنے ترجمے سے کند کیے بغیر پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا:
the main dangers in life are the people who want to change .... nothing or everything. “
نہیں صاحبو، بالکل نہیں، آپ کا اندازہ غلط ہے۔ ہمارے ضبط نفس کو داد دیجیے کہ یوسفی صاحب کا ایسا کاٹ دار اقتباس دینے کے بعد بھی ہم کسی تحریک وغیرہ کا ذکر نہیں چھیڑیں گے۔ صرف ایک بات پوچھنا ہے، یہ فرمائیے، نئی نسل میں سے کتنے لوگ ہوں گے جو اس اقتباس کو پڑھ کر لطف اندوز ہو سکیں؟ اور ان کو بھی جانے دیں، آپ کے، ہمارے، سب کے جاننے والوں میں کل ملا کر کتنے نفوس پائے جاتے ہیں جو یوسفی صاحب کی تحاریر سے کماحقہ لطف اندوز ہو سکیں؟
یہ ناہنجار خیال کیوں کر آیا؟ عارف نے سوال سامنے رکھا کہ ہمارے نظام تعلیم کو ایک نظر دیکھو اور بتاو کہ عام زندگی میں یا کہہ لیجیے کہ ہمارے معاشرے میں اس کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے۔ اب جواب مضمون ایسا سیدھا تو تھا نہیں کہ وہیں کے وہیں بیان کر دیا جاتا، تو وقت لیا گیا اور یہ خامہ فرسائی سامنے آئی۔
فی الذمانہ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد اولیٰ بلکہ منتہیٰ بھی یہی ہے کہ اچھی نوکری کا حصول ممکن بنایا جائے۔ چلیے بہت اچھی بات ہے، اسی سے بات شروع کر لیتے ہیں۔
وطن عزیز میں بی اے تک کی تعلیم وہ اعلیٰ معیار ہے کہ جس تک پہنچنے کے بعد ہر کس و ناکس نوکری کا سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ میٹرک تک آپ رٹا سسٹم کے تحت پڑھائی کرتے ہیں، نصاب میں جو کچھ بھی موجود ہو اسے گھول کر پی جانا کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے اور حساب کے علاوہ ہر مضمون میں زیادہ سے زیادہ صفحات کالے کرنا اچھے نمبر لینے کا مروج طریقہ ہے۔ اگر آپ سائنس کے طالب علم ہیں تو بھی تھیوری کے سوالات میں یہ گنجائش نکال لی جاتی ہے اور پریکٹیکل جو ہمارے دور میں سفارش کے ذریعے پورے نمبر لینے کا بہترین ذریعہ تھا، یقیناً آج بھی اس کے حالات وہی ہیں۔ طالب علم سے انگریزی یا اردو میں مضمون لکھنے کا کہا جاتا ہے، وہ پہلے سے یاد کیے گئے مضامین میں سے کوئی دو تین کو ملا کر، رندا لگا، چولیں بٹھا، پیش کر دیتا ہے۔ خلاصے کی بات کیجیے، تشریح کی بات کیجیے، اسلامیات میں کسی سورت کی تشریح ہو یا معاشرتی علوم کا سوال، ہر چیز خلاصوں میں موجود ہے، وہاں سے یاد کیجیے اور نمبر پورے نہ آئیں تو ہم سے کہیے گا ۔ ہمارے باوا کے دور میں بھی وہی نصاب تھا، ہمارا بھی وہی ہے، ہمارے بچے بھی وہی پڑھیں گے۔ ذرا ایک نظر دیکھیے اور فرمائیے کہ ابو بن ادھم اور ڈیفوڈلز ابھی تک نصاب میں موجود ہیں یا نہیں؟ پرزنر آف زینڈا کس کس صوبے میں اب بھی پڑھایا جا رہا ہے؟ یہ المیہ تین سوالوں کو جنم دیتا ہے؛
سوچنا کیا سکھایا گیا؟
خود سے کہنا کتنا آیا؟
نصاب میں کیا نیا اور کارآمد مضمون شامل ہوا؟
ذرا اگلی جماعتوں کی بات کر لیجیے۔ اگر آپ سائنسی مضامین رکھتے ہیں تو چار پانچ مشہور پروفیسروں کے تیار کیے گئے نوٹس آپ کی مغفرت کے واسطے کافی ہیں۔ اگر آرٹس سے متعلق آپ کے مضامین ہیں تو پھر کیا ہی کہنے! پنجابی، عمرانیات، اکنامکس، عربی، فارسی، شہریت، الغرض بی اے تک کی پڑھائی کا ہر سال آپ سے صرف دو سو صفحات فی مضمون کا متقاضی ہے۔ یہ بھی محتاط رہ کر بات کی گئی ہے ورنہ عبدالحمید تگہ صاحب کی عمرانیات تو ایسی مختصر ہے کہ تعویز بنا لیجیے۔ مزے کی بات یہ کہ بھئی کم از کم بیس برس سے امتحانات کے سوال نامے بھی اسی تنگنائے کے اسیر ہیں۔ بہ خدا حیرت ہوتی ہے ان بچوں پر جو بے چارے اس سب میں بھی کامیاب نہیں ہو پاتے۔ چلیے اب خیر سے آپ گریجویٹ ہو گئے۔
یونیورسٹی تشریف لائیے۔ چاہے سائنسی مضامین ہوں یا آرٹس، آپ کا نظام تعلیم کتنے ایسے ایم اے پاس تیار کر رہا ہے جنہیں زندگی کرنے کا سلیقہ بھی آتا ہو اور اپنے مضمون پر کماحقہ گرفت بھی ہو۔ ابھی استاد گرامی وجاہت مسعود صاحب کا ایک گلہ سنیے، آج ہی کی بات ہے، چند بہ غرض ملاقات آئے طلبا سے دوران گفت گو کچھ بنیادی سوالات کیے، جواب نہ پا کر مایوس ہوئے اور یوں کالم کناں ہوئے؛
”راجن پور سے کچھ نوجوان گزشتہ ہفتے لاہور آئے۔ بہت سے اصحاب علم نے ثقیل موضوعات پر گفتگو کی۔ درویش نے ایک سادہ طریقہ اختیار کیا۔ آٹھ رضا کار چن لیے اور انہیں دعوت دی کہ سارک میں شامل ملکوں کی فہرست تیار کر دیں۔ اس آوٹ آف کورس سوال پر خاصی ہڑبڑاہٹ پھیلی۔ بالآخر ہاتھ میں پکڑے موبائل سے مدد لے کر اور طویل باہم مشاورت کے بعد آٹھ ملکوں کے نام چارٹ پر نمودار ہو گئے۔ عرض کیا کہ اب ان ملکوں کی آبادی بھی لکھ دیں۔ ان خواتین و حضرات میں سے سات افراد ایم اے اور ایک بی ایس آنرز تھا۔ بھوٹان کی آبادی چار کروڑ اور سری لنکا کی آبادی آٹھ سے دس کروڑ بتائی گئی۔ معلوم ہوا کہ جغرافیہ وغیرہ تو ’سخن فہمی عالم بالا‘ کا مضمون ہے البتہ یہ خواتین و حضرات سیاست پر بات کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔“
اب فقیر گریبان میں جھانکتا ہے تو بھوٹان اور سری لنکا کی آبادی خجل کرتی ہے۔ کیا کیجیے.... تم ہو جہاں کے، ہم بھی وہیں کے ہیں۔
ایم فل پی ایچ ڈی اور تخصص (درس نظامی) کی بات کر لیجیے تو آپ کے مقالہ جات کا معیار دنیا بھر میں چھوڑیئے خود پاکستان میں کیا ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر اخبارات کا جائزہ لیجیے۔ اندرونی صفحات پر فلاں فلاں کے پی ایچ ڈی ہونے کی خبر ہو گی۔ باہر یہ رونا ہو گا کہ جامعات کے وائس چانسلر کا مقالہ بھی چوری شدہ نکلا۔ اور جو کبھی قسمت سے خواجہ علقمہ جیسے لوگ میسر آ جائیں تو وہ ایسے نشان عبرت بنتے ہیں کہ کسی قابل آدمی کی سات پشتیں اس پہاڑ کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہو جائیں۔ جانے دیجیے، وہ موضوع الگ کالم میں اٹھایا جائے گا، افسوس بہرحال یہ کہ میڈیا ابھی تک اس کیس کی یک رخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ خیر، تو یہ معاملہ بھی اسی کروٹ بیٹھتا ہے۔
نجی تعلیمی اداروں میں صورت حال کچھ مختلف ہے۔ وہاں آپ کا بچہ پڑھتا بھی ہے، اچھی نوکری کا حصول بھی نسبتاً ممکن رہتا ہے۔ انگریزی بھی خاطر خواہ سکھائی جاتی ہے لیکن پانی مرتا ہے زندگی کرنے کے سلیقے پر۔ آپ بات کر کے دیکھ لیجیے، ایک اچھی تصویر سے لطف اندوز ہونا، موسیقی کے رموز جاننا، اچھا ادب پڑھنا، اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تحمل اور رواداری، ان تمام نعمتوں سے ایک کثیر تعداد محروم ہو گی۔ ادب آداب، لباس کا سلیقہ، کچھ بھی نہیں ملے گا۔ لمز اور حبیب یونیورسٹی کراچی کی صورت حال یقیناً بہتر ہے لیکن پوری امت کا قیاس ان پر کیسے کیجیے گا۔ شلوار قمیص پہنے ہیں تو ہاتھ جائے مخصوصہ کی طرف لپک لپک جائیں گے۔ پتلون قمیص ہے تو رنگوں کا کوئی جوڑ نہیں ہو گا۔ نکٹائی لگائے ہیں تو وہ پیٹ تک آتے آتے دم توڑ جائے گی۔ جوتے پالش کرنا یاروں کے مسلک میں حرام ہو گا۔ بھئی، خدارا پرسنیلٹی گرومنگ کے لیے مہینے میں ایک دن مختص کر دیجیے، کچھ تو جان پائیں ہمارے بچے۔ اور پھر گلہ ہی کیا جب اساتذہ کی اکثریت بھی اسی شعار کی حامل ہو۔
سوالات پھر وہی ہیں، یاد کیجیے؛
سوچنا کیا سکھایا گیا؟
خود سے کہنا کتنا آیا؟
نصاب میں کیا نیا اور کارآمد مضمون شامل ہوا؟
تو اب ان کا حل کیا ہو؟
نوٹس، خلاصے، امرت دھارا کتابیں، ور دیگر اس نوعیت کی چیزوں پر اگر سخت پابندی لگا دی جائے تو شاید آپ کے بچے دماغ سے سوچنے کے قابل ہو سکیں۔
ہر سال چند نئی غیر نصابی کتب سکول کالج وغیرہ میں پڑھنے کے لیے منتخب کی جائیں۔ جماعتوں کے حساب سے ان کا انتخاب ہو اور ایک زمانے میں ہونے والی این سی سی کی طرح یہ تربیت بھی لازمی قرار دی جائے۔
تھیٹر اور ڈرامے کی روایت کو سکولوں کی سطح تک فروغ دیا جائے۔
ٹرین دا ٹرینر پروگرام کی طرز پر چند اساتذہ کو پرسنیلٹی گرومنگ کی تربیت دی جائے جو واپس آ کر اس سلسلے میں طلبا کی رہنمائی کر سکیں۔
علاقائی زبانوں کا واویلا کچھ عرصے کے لیے بند کیجیے۔ اردو بھی اب تو صاحب علاقائی زبان ہی رہ گئی ہے کجا سندھی، سرائیکی یا پنجابی۔ نفاذ اردو کے بجائے سنجیدگی سے انگریزی کی طرف مزید توجہ کیجیے، دنیا بھر کا ادب اور سائنس سب کچھ آہستہ آہستہ اسی میں منتقل ہو رہا ہے۔
نوکری کے لیے بچوں کو پڑھانا ہے تب بھی نرا نصاب ناکافی ہے، بہرحال انہیں اچھا انسان آپ کی تربیت اور ادب کی کتابیں ہی بنائیں گے۔
رہی بات شروع میں دیے گئے اقتباس کی، تو بھئی جو غیر نصابی کتب پڑھے گا، خدا اسے ذہنی کشادگی بھی عطا کرے گا، وہ حظ بھی اٹھائے گا اور ذوق لطیف کا سزاوار بھی ہو گا۔ اور اس انقلاب کا متمنی و منتظر بھی نہ رہے گا کہ آپ اس کی ذات اس سب کا مظہر اعلیٰ ہو گی۔
پس نوشت: دیکھیے مناسب لباس کا انتخاب اور اسے برتنا یا بقول شخصے کیری کرنا سلیقے کا محتاج ہے، کم آمدن میں بھی یہ کام بہ خوبی سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ خوش لباسی یا جامہ زیبی بہرحال معلم اور طالب علم کے اعلیٰ جمالیاتی اقدار کا مظہر ہوتی ہے۔ اسے صاف ستھرا سفید شلوار قمیص کہہ لیجیے یا سلیٹی کوٹ، سفید قمیص اور نیلا پتلون جان لیجیے۔ آپ کی شخصیت کا پہلا نمائندہ آپ کا لباس ہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *