دشمن کے بچے اور اپنے عوام ....

muhammad Shahzadمودی آئے اور حسبِ معمول کام چالو ہو گیا۔ جتنے نام نہاد قلمکار، اتنے کالم۔ کچھ کے نزدیک اسلام کے قلعے میں دراڑیں پڑ گئیں۔ پاک سرزمین ناپاک ہو گئی۔ زیادہ پہنچے ہوئے لکھاریوں نے سازشیں سونگھ لیں۔ مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ قوم کو اعتماد میں لیا جائے کہ کیا بات ہوئی۔ کرائے کے جہادیوں اور اصلی فسادیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ مودی کے آنے پر احتجاج کیا۔ مودی آئے، کسی کی جان نہیں گئی۔ بلاول آئے اور ایک شیر خوار بچی پروٹوکول جیسی لعنت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ کسی جہادی کی غیر ت نہیں جاگی۔ ان کی غیرت جاگتی ہے عافیہ صدیقی جیسی دہشت گرد عورتوں کے واسطے۔ اور ہماری فیشن ایبل عورتوں کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ کالے شیشے والی عینکیں لگا کر اور سرخی پاﺅڈر تھوپ کر سڑک کے کنارے چند پلے کارڈ لے کر ایک چھوٹا موٹا احتجاج کر دیتیں بلاول کی سیکورٹی کے خلاف۔ شاید اس کام کے لئے کسی غیر ملکی ادارے نے پیسے نہیں دیے ہوں گے ورنہ ضرور کرتیں۔ ہاں اگرمعاملہ گینگ ریپ والا ہوتا تو بہت سے بدیسی ادارے جھٹ پٹ پیسہ بہانے کو تیار ہو جاتے۔ اسی طرح پنجاب میں ایک زمیندار نے ملازم کے ہاتھ کاٹ دیے کیونکہ بیچارہ مزدوری مانگ بیٹھا تھا۔ اگلے دن فوج کے حاضر سروس میجر نے واپڈا کے لائن مین کو گولی مار کے ہلاک کر دیا کیونکہ بے وقوف پرانا بل مانگ بیٹھا تھا۔ یہ سب واقعات اوپر تلے رونما ہوئے مگر کوئی نہ بولا ان میں سے جنہیں بے تکان بولنے کی بیماری ہے۔ کشمیر یا افغانستان میں جہاد کرنے کا مروڑ جن کے پیٹ میں ہر وقت اٹھتا رہتا ہے کاش وہ بے عمل واعظ ایک جہاد کی کال اس زمیندار، اس میجر یا بلاول کے خلاف بھی دے دیتے!ان میں سے کسی کا بھی بس کمہار پر نہیں چلتا۔ یہ صرف گدھے کے کان ہی اینٹھ سکتے ہیں۔
مودی جس طرح آئے، ہر کوئی اس طرح نہیں کر سکتا۔ جب مودی نے ہمارے وزیرِ اعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی تو یاد ہے کتنی مشکل سے اجازت ملی تھی بھارت جانے کی۔ کتنا واویلہ مچا تھا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر۔ مودی نے ہمت دکھائی۔ ڈرامائی انداز میں آ کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایک جمہوری ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔ اپنے ریاستی اداروں کے تھلے نہیں لگے ہوئے۔ کیا ہمارا وزیرِ اعظم ایسی جرات کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟
جتنی مرضی گالیاں دے لو ہندوستان کو مگر ایک بات تو ثابت ہے۔اقلیت کا کوئی بھی رکن چاہے سکھ ہو یا مسلمان آئینی طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ ملک کا وزیرِ اعظم یا صدر بن سکے۔ مسلمان صدر رہ چکا ہے۔ سکھ وزیرِ اعظم رہ چکا ہے۔ ہمارے جاہل دانشور اب یہ کہیں گے کہ کٹھ پتلی وزیرِ اعظم تھا۔ کٹھ پتلی صدر تھا۔ گو کہ یہ غلط تاثر ہے مگر لمحے بھر کو مان لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اقلیت سے تعلق رکھنے والا کٹھ پتلی وزیرِ اعظم یا صدر بن سکتا ہے؟ یہاں تو کوئی احمدی سکول کا ہیڈماسٹر نہیں لگ سکتا! ہمارے مسلمانوں کے جتھے زندہ آگ لگا دیں گے اسے اور اپنا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔ جتنی مرضی نفرت بھر دو درسی کتابوں میں ہندوستان کے خلاف مگر یہ بات تو بر حق ہے کہ اس ملک کے رہنماﺅں نے جاگیریں راجواڑے ختم کئے۔ اپنی فوج کو اس کے دائرے تک ہی محدود رکھا۔ 69 برس ہو چلے ہیں کسی طالع ٓزما جرنیل کی جرات نہیں ہوئی کہ بھارت کی جمہوری حکومت کے خلاف شبِ خون مار سکے۔ دنیا کی دس بڑی معیشت میں ہندوستان دسویں نمبر پر ہے۔ ہم تو کسی گنتی ہی میں نہیں۔ ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چکر میں آدھا پاکستان گنوا بیٹھے۔ بچے کھچے پاکستان میں رٹ جہادیوں کی چلتی ہے۔
کسی بھی ملک سے پر امن تعلقات رکھنے کے لئے سب سے پہلے اپنے معاشرے امن پیدا کرنا ضروری ہے۔ صرف امن پسند نغموں سے امن قائم نہیں ہوتا۔ ہاں روح کی تسکین ضرور ہو سکتی ہے بشرطیکہ موسیقی ڈھنگ کی ہو اور گانے والا بھی سر اور لے میں ہو۔یار لوگوں کی جگتوں کا نشانہ آجکل فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹِننٹ جنرل عاصم باجوہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ دشمن کے بچوں کو پڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بھولے اتنے کہ یہ بھی یاد نہیں کہ ان میں سے ایک بھی بچہ دشمن کا نہیں ۔ جنہوں نے پشاور کے آرمی سکول میں بچوں کو مارا وہ ہمارے اپنے ہی وہ بچے تھے جنہیں افغانستان و کشمیر فتح کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ ان بچوں کے روحانی والدین مولانا عبدالعزیز، حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر جیسے جہادی ہیں جن کے آگے حکومت بے بس ہے۔ دشمن کے بچے تو پہلے سے ہی دنیا کی بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ آکسفورڈ، یہ کیمبرج، یہ ہارورڈ وغیرہ ان ہی یہود و نصاریٰ کے تعلیمی ادارے ہیں جنکے بارے میں ہم ہر دم یہی زہرپھیلاتے رہتے ہیں کہ یہ سب قران کی رو سے مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔فوج اگر اپنے پروردہ عناصر کو صرف انسانیت ہی پڑھا لے تو بھی بہت ہے تا کہ غریبوں کے بچے ناحق یتیم ہونے سے بچ جائیں اور بجلی چوری نہ ہو۔
بات مودی سے شروع ہوئی تھی۔ اس ملک کے حکمران اور طاقتور لوگ اگر عام لوگوں کو انسان کا درجہ دے دیں تو ہندوستان سے تعلقات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ صرف مودی نہیں بلکہ میں اور آپ جب جی چاہے ہندوستان یا پاکستان جا سکیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یورپی یونین سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یورپ کے ممالک میں لوگ بلا روک ٹوک ایک دوسرے کے ملک میں جا سکتے ہیں۔ کام بھی کر سکتے ہیں۔ دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اور ہم اتنے ہی پیچھے۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے دو۔ دکھ درد بانٹنے دو۔ تعلقات مضبوط ہوتے جائیں گے۔ مودی صاحب نے بڑا پن دکھایا۔ ہمارے وزیرِ اعظم صاحب کی نواسی کی شادی میں شرکت کی۔ اس بات کو سراہنا چاہیے نہ کہ اس میں سازشی پہلو تلاش کئے جائیں۔ دنیا کو معلوم ہے کہ سازشوں کے تانے بانے بننے میں ہم سے بڑھ کر کوئی قوم نہیں۔ پر اب کچھ کام بھی کر لیا جائے تو اچھا ہے۔ ایسا کام جس سے انسانوں کا بھلا ہو۔ ہمارے آرمی چیف کو حال ہی میں یہ احساس ہوا کہ اب وقت ہے تعلیم پر پیسہ خرچ کرنے کا۔ ان سے گذارش ہے کہ فوج کے موجودہ بجٹ سے چند دھیلے کٹوتی کریں اور یہی ٹکے بچوں کی تعلیم میں لگائیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.comپر رابطہ کیا جا سکتا ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *