2016میں حکومت کو درپیش چیلنجز

najam     اس سال وزیر ِاعظم نواز شریف تین بحرانوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ اُن کے خلاف آجاتا تو اُنہیں مستعفی ہو کر تازہ انتخابات کا اعلان کرنا پڑتا۔ اگر پی ٹی آئی پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرلیتی تو حکومت پر ایک مرتبہ پھر ان الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی کہ اُس کے نادیدہ ہاتھ نے 2013کے عام انتخابات چرا لیے تھے، چنانچہ عمران خان کو نئے منتخب ہونے والے افراد اور ان کے حامیوں کے ساتھ مل کر پنجاب میں دھرنے دینے کا ایک اور موقع مل جاتا ۔ اگروزیر ِا عظم سندھ میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورت ِحال اور انڈیا اور افغانستان کی سرحدوں پر پیش آنے والے واقعات کے دوران سول ملٹری تعلقات میں توازن رکھنے میں کامیاب نہ ہوتے تو اُن کی حکومت شدید قسم کے سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہوجاتی۔ کیا وزیر ِاعظم 2016 کو اپنے لیے بہتر امکانات کا حامل پاتے ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والا سال بہتری کی امید لے کر آئے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ، وزیر ِا عظم صاحب کوبہت سے نئے چیلنج درپیش دکھائی دیتے ہیں جو اُن کی سیاسی مہارت کا امتحان لیں گے۔ تاثر ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کچھ اتار چڑھاﺅ دکھائی دے گا۔ اس کے تین پہلو اہم ہوں گے۔ پہلا یہ کہ اسٹبلشمنٹ افغانستان، انڈیا اور امریکہ کے ساتھ روابط میں فری ہینڈ چاہتی ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ نواز شریف صاحب اس کے طے کردہ خطوط کے اندر رہیں ۔ فی الحال وزیر ِ اعظم پاکستان کی طرف سے اس ضمن میں کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا ہے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ عسکری ادارے بھارت کے ساتھ امن کے امکانات کو موقع دیں۔ اُنہیں یقین ہے کہ معاشی ترقی اور عوامی بہبودکا ایجنڈا بھارت کے ساتھ امن قائم کیے بغیر ممکن نہیں۔ کئی مواقع پر اُنھوں نے بھارتی وزیر ِ اعظم کی طرف سے بڑھایا گیا دوستی کا ہاتھ تھامنے میں بہت جلد ی کی اور اس پر عسکری ہائی کمان کی طر ف سے قدرے ناراضی کا تاثر بھی ملا۔ حالیہ دنوں انڈیا کے سٹیل انڈسٹری کے ٹائیکون، ساجان جندال سے وزیر ِ اعظم کی ”دوستی“ پر راولپنڈی کی پیشانی شکن آلوددکھائی دی۔ ایسا لگتا ہے کہ عسکری ہائی کمان نے قومی مفاد کے ساتھ ”ذاتی کاروباری تعلقات“کے پروان چڑھانے کو پسندیدگی کی نگاہوںسے نہیںدیکھا۔ وزیر ِاعظم نوا زشریف کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب، نریندر مودی کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہوئے جی ایچ کیو کی وضح کردہ لائن کے اندر رہیں ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر مسٹر شریف کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ سفارت کاری کے میدان میں انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے اسے عظیم کامیابی سے ہمکنار کریں۔
دوسرا یہ کہ فوج دھشت گردی سے نمٹنے کے لیے فری ہینڈ چاہتی ہے۔ اس کی طرف سے پی ایم ایل (ن) کی حکومت پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کے سیاسی اور معاشی امور کو طے کرنے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان امور میں انتہا پسندی کی ترویج روکنا، مدرسہ اصلاحات کرنا،ان کی فنڈنگ پر نگاہ رکھنا، کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ روکنا، ان کے اثاثے منجمد کرنا، تفتیش، سزا، گواہوں کے تحفظ کے عمل کو بہتر بنانا، فاٹا میں اصلاحات لانا اور آئی ڈی پیز کی گھرواپسی شامل ہے۔ فوج چاہتی ہے کہ سندھ میں کریمنل مافیا کو بھی دھشت گردی کی صف میں شامل کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ دھشت گردوں کی مالی معاونت کرنے اور اُنہیں سیاسی چھتری کا تحفظ فراہم کرنے والے سیاست دانوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس پر پی پی پی کی حکومت ِسندھ مشتعل ہے۔ وہ فوج اور اس کی حمایت کرنے والی وفاقی حکومت کے خلاف سینہ تان کر کھڑی ہوگئی ہے۔ اس وقت آصف زرداری خودساختہ جلاوطنی کے ”مزے“ لوٹ رہے ہیں جبکہ ان کے مبینہ دست راست ڈاکٹر عاصم حسین حراست میں ہیں۔ اگر یہ مسلہ¿ پی پی پی اور فوج کی منشا کے مطابق حل نہیں ہوتاتو اس تناﺅ کی سب سے زیادہ تمازت نوازشریف صاحب کو برداشت کرنی پڑے گی۔ وہ نہ تو فوج کو ناراض کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی پی پی پی کو ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر اپنے خلاف صف بستہ ہوتے دیکھنا چاہیں گے۔ ایسا ہونے کی صورت میں سینٹ میں قانون سازی کا عمل رک جائے گا اور قومی اسمبلی بھی شورشرابے کی نذر ہوجائے گی۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ تینوں جماعتیں مل کر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کردیں اور یوں پی ایم ایل (ن) ایک مرتبہ پھر سازشوں کا شکار ہوکر گھر چلی جائے۔
تیسرا یہ کہ فوج افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے افغان اور امریکی حکومتوں کے ساتھ براہ ِراست اس طرح ڈیل کرنا چاہتی ہے کہ انڈیا کو کابل میں قدم جمانے کا موقع نہ ملے۔ یہ افغانستان کے حوالے سے جو علاقائی منظر نامہ تشکیل دے رہی ہے ، اس میں پاکستان، چین، افغانستان اور امریکہ ہیں، انڈیا نہیں ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن اور کابل غالباً نئی دہلی کے مفادات سے دست کش ہونے کے لیے تیار نہیں ہوںگے۔ انڈیا یقینا اس صورت ِحال پر مشتعل ہوگا اور اس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں خطرناک موڑ آتے رہیں گے۔ اس دوران افغانستان میں داعش بھی سراٹھا رہی ہے اور القاعدہ اور طالبان بھی طاقت پکڑرہے ہیں۔ افغان حکومت سے یہ توقع کرنا عبث ہوگا کہ وہ ان تینوں گروہوںسے بیک وقت لڑپائے گی۔ چنانچہ اسلام آباد کانفرنس میں وضح کیے جانے والے امکانات کی کامیابی معدوم دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ طالبان اور القاعدہ کو کمزور کیے بغیر افغانستان میں استحکام نہیں آئے گا اور نہ ہی پاکستان دھشت گردی کے عفریت سے نجات پاسکے گا۔ دھشت گردی پر قابو پائے بغیر معاشی خوشحالی کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہونا ممکن نہیں۔
نواز شریف صاحب کا خیا ل ہے کہ اُن کے سامنے اہم ترین چیلنج عوام اور صنعت کو بجلی کی فراہمی ہے۔ درست ، لیکن یہاں بھی بجلی کی لاگت ایک اہم ایشو ہے۔ اگر تکمیل کے مراحل میں منصوبوں کے بارے میں حسن ِظن رکھا جائے اور مان لیا جائے کہ ملک 2017 ءمیں لوڈ شیڈنگ سے مکمل طور پر نجات پاجائے گا تو بھی پیدا ہونے والی مہنگی بجلی صنعتی پیداوار کی لاگت اتنی زیادہ کردے گی کہ برآمدکنندگان عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپائیںگے۔ اس کی وجہ سے اُنہیںاپنی پیداوار کم کرنی ہوگی۔ اس سے عوام کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہو جائیںگے۔ نواز شریف کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہرسال کم از کم تیس لاکھ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مو اقع پید اکریں، لیکن موجودہ معاشی ڈھانچے اور ٹیکس کے نظام میں تبدیلی لائے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں، اور نوازشریف ٹیکس کے نظام میں تبدیلی لانے کے روادار نہیں ہیں، گویا اُنہیں درپیش معاشی مسائل کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ معاشی اور خارجہ پالیسی کے محاذوں پر اس سال بھی کوئی انقلابی پیش رفت دکھائی نہیں دے گی اور 2016 میں بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا جاری رہے گا۔ اس دوران کوئی اور ماڈل ٹاﺅن جیسا سانحہ، سندھ میں کوئی بھونچال، ممبئی حملوں کا اعادہ یا لائن آف کنٹرول پرکوئی چھیڑ خانی نواز شریف حکومت کو ہلا کر رکھ دے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *