بلوچ لڑتا کیوں ہے؟

abid mir’بلوچ لڑتا کیوں ہے؟‘اس سوال کا سامنا ہر اس پڑھے لکھے بلوچ کو بل چڑھی تیوری اور خشمگیں نگاہوں کے ساتھ کرنا پڑتا ہے جو سوئے اتفاق سے کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں کہیں کسی غیر بلوچ حلقے کے ہتھے چڑھ جائے۔’آخر آپ لوگ کب تک سرداروں کے ہاتھ میں کھیلتے رہیں گے؟ یہودی اور ہندو کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔ بلوچوں کو ان کے مفادات کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم پھر بھی مسلمان ہیں ،ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ بلوچوں کے پاس تو اچھے استاد،ڈاکٹر ،سائنس دان تک نہیں ہیں ،وہ کیسے ایک ملک چلا سکتے ہیں ....؟‘ یہ سب پھر ضمنی سوالات ہوتے ہیں ۔بلوچ بے چارہ اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کرتا ہے ، جواز تراشتا ہے، دلائل لے آتا ہے ، حقائق بتاتا ہے، تاریخی حوالے دیتا ہے ....پر جب نتائج پہلے سے متعین ہوں تو وہ بحث نہیں رہتی ،محض تبادلہ خیال بن جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ اکثریت والا کبھی ہار نہیں مانتا۔
اس طرح کے مباحث میں سوال کرنے والا ایک گھسی پٹی دلیل کے ساتھ اپنے پہلے سے طے شدہ نتائج یوں تھونپ دیتا ہے کہ؛ ’دیکھیں نا گھر میں اگر بھائیوں میں کسی بات پر ناچاقی ہو جائے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ایک بھائی ہمسائیوں کے ساتھ مل کر گھر کو تباہ کرنے پر تل جائے ‘.... یا.... ’اگر بچہ آگ میں ہاتھ ڈالنا چاہے تو اسے سمجھانے کے لیے ایک آدھ چانٹا تو لگانا ہی پڑتا ہے !‘ گویا یہ طے ہے کہ ہم (ہرصورت میں) بھائی ہیں (خواہ ایک فریق اس جبری رشتے کو ماننے کو تیار ہی ہو) ، دوم یہ کہ بلوچ بھائی ’ذرا سی ‘ ناراضی پر ’ہمسائیوں ‘ کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے ’گھر‘ کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔سوم یہ کہ وہ نادانی میں’آگ ‘کے ساتھ کھیلنے کی بچگانہ ضد کررہا ہے ،اس لیے سمجھانے کے لیے ایک آدھ ’چانٹا‘ تو کھانا ہی پڑے گا!
یہی دلائل اور طے شدہ حتمی نتائج بلوچ کے مقدمے کو تمام تر دلائل اور حقائق کے باوجود ،ابلاغ میں مانع ہیں۔اگر آپ واقعی بلوچ کی لڑائی کا سبب اور اس کا حل جاننے کے متمنی ہیں (خواہ وہ آپ کی خواہشات کے برعکس ہو اور ضروری نہیں کہ آپ اس سے اتفاق بھی کریں) تو ہمیں گفتگو کے آغاز میں ہی دو چار باتوں کا تعین کر لینا ہو گا۔اول ،یہ سوال واقعتا حقائق ( یا آپ اسے متاثرہ فریق کی آنکھ سے نظر آنے والے حقائق ہی کہہ لیں) کو جاننے کی غرض سے کیا گیا ہے نا کہ اسے اپنے پہلے سے طے شدہ نتائج تک لانے کے لیے۔دوسرا یہ کہ ہم سیاسی وطبقاتی مفادات سے بالاتر ہو کر واقعی مسئلے کے کسی حل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
اب ہم سوال کے پہلے حصے کی طرف آتے ہیں ،یعنی مسئلہ ہے کیا ،جس کے لیے بلوچ ہمہ وقت لڑنے کو تیار رہتا ہے۔اس کا آغاز اس بنیادی اختلافی نکتے سے ہوتا ہے جس کے مطابق ایک فریق، ایک قوم کو ’بھائی چارے ‘کے نام پر ضم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔بلوچ کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ....اب اگر یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے تو اس کو یوں کہہ لیتے ہیں کہ پاکستان کوئی ’نیشن اسٹیٹ‘ نہیں بلکہ اسے خطے کی چار قوموں (بنگالی،سندھی، پنجابی، پشتون) نے مل کر بنایا ،اور یہ ان چار قوموں پہ مشتمل فیڈریشن ہے ۔موجودہ حالت میں بنگال اس کا حصہ نہیں اور بلوچستان کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔اب یہ بنیادی نکتہ ہے کہ باقی چاروں اقوام اتفاق رائے سے جب اس فیڈریشن کی بنیاد رکھ رہی تھیں ،عین اسی وقت بلوچ ریاست ،قلات اسٹیٹ کے ایوانوں میں اس فیڈیشن میں ضم ہونے کی بجائے آزاد حیثیت بحال رکھنے کی قراردادیں منظور ہو رہی تھیں۔بعد ازاں نومولود مملکت کی افواج نے کس طرح بزورِ جبر اس آزاد ریاست پر قبضہ کر کے اسے اپنا حصہ بنایا ،یہ سب تاریخ کے پنوں میں محفوظ ہے۔اب جس تعلق کی بنیاد ہی جبر پر ہو، اس میں مفاہمت کی بجائے مخاصمت کا حاوی رہنا فطری سی بات بن جاتا ہے۔اور یہی وہ جبر ہے جو نہ تو بلوچ قائدین کو کبھی ’محب وطن‘ بنا سکا ،نہ مقتدرہ کبھی اُن کی حب الوطنی کو شک سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی اہل ہو سکی۔
جب آپ اس بنیادی تاریخی حقیقت کو جان اور مان لیں گے تو بلوچوں کا ’اغیار کے ہاتھوں استعمال ہونے والے‘ جھوٹ کا پردہ از خود چاک ہو جائے گا ۔ اس لیے کہ اسی کے نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ بلوچ مزاحمت کوئی دو چار برس کی بات نہیں بلکہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہے۔ بلوچستان پر قبضے کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور پھر مختلف وقتوں میں ،مختلف شکلیں بدلتی ہوئی ،کبھی تیز تو کبھی سست ،یہ حالیہ مرحلے تک پہنچتی ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ عالمی حالات سے بالکل ہی الگ تھلگ ہو ۔ ظاہر ہے کہ عالمی سیاست کے اثرات سے کوئی ملک ،خطہ اور تحریک متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے۔بلوچ اپنے سیکولر اور ترقی پسند مزاج کی بنا پر شروع سے ہی سوویت یونین کی طرف جھکاﺅ رکھتے تھے اور پاکستان نے اپنے قیام سے ہی امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا تھا ،اس لیے یہ ’یارانہ‘ بھی اس مخاصمت کو ہو ا دیتارہا۔ اس پہ طرہ یہ کہ پاکستان کو کبھی کوئی باشعور و بااصول قیادت میسر ہی نہ آ سکی جو معاملے کواصولی بنیادوں پر حل کرنے کی جانب کوئی پیش رفت کرتی۔ایک بھٹو صاحب تھے ، انھوں نے بھی بزنجو جیسی مفاہمانہ مزاج کی حامل شخصیت کی حکومت کو توڑ کر ڈکٹیٹر شپ نافذ کر دی۔تب بھی اکلوتا جالب تھا جو پنجاب کے چوراہوں اور جلسہ گاہوں میں ببانگِ دہل اپنے لوگوں کو جگاتا پھرتا تھا ....’جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا!‘
یہ ماننے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ بلوچ سماج ایک عرصے سے قبائلی نظام کے تحت چلا آ رہا ہے۔ انگریز کے زمانے سے یہاں سردارکے ،قبیلے کے سربراہ کے روایتی کردار کو ختم کر کے اسے ایک طبقے کی شکل دے کرپٹ بنا دیا گیا ۔ یہی کرپٹ سردارزمین اور وسائل کو لوٹنے میں ہمیشہ مقتدر قوتوں کا ساتھ دیتے رہے۔ ان قوتوں نے ان سرداروں کی ہمیشہ پشت پناہی کی لیکن جب کوئی سردار اپنے طبقاتی کردار سے منحرف ہو کر عوام کی بات کرنے لگا تو تمام تر برائیوں کی جڑ سردار اور سردار ی نظام کو قرار دے کر گلو خلاصی کر الی گئی۔ موجودہ حالات میں اب لے دے کے ایک ہی سردار مقتدرہ کا مخالف رہ گیا ہے۔ باقی اکتیس اضلاع میں ترقی کی رفتار سست ہونے کا کوئی اخلاقی جواز ان غیر اخلاقی قوتوں کے پاس نہیں رہ جاتا۔لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہر سماج کے اندرونی تضادات ہوتے ہیں ، یہ بلوچ سماج کا اندرونی مسئلہ ہو سکتا ہے ۔اس کا حل اس سماج کی باشعور قوتوں کو خود نکالنا چاہیے یا کوئی بیرونی قوت آکر اس کاتعین کرے گی!یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے امریکہ کے اس دعویٰ کو درست مان لیا جائے کہ کیوںکہ طالبان ،معصوم افغانوں کو تباہ کر رہے ہیں ،اس لیے وہ ان کا نجات دہندہ بن جائے گا۔یقین جانیے کہ سات سمندر پار کے فاصلے اور اضافی طاقت کے سوا ،ان قوتوں کے جبر کے درمیان اور کچھ مختلف نہیں ۔
اب یہاں ہمیں ایک نہایت تلخ سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ جب کراچی یا اسلام آباد کاکوئی ’روشن خیال‘ دانش وردوست بادل نخواستہ اِن تمام نکات پر اتفاق کرنے کے بعد یہ پوچھ لیتا ہے کہ ’چلئے مان لیا کہ بلوچ استحصالی قوتوں کے خلاف ،ایک برابری کے سماج کی جدوجہد کر رہے ہیں،لیکن جب اس جنگ میں بے گناہ عام لوگ اور اساتذہ نشانہ بننے لگیں تو اس کی اخلاقی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟‘ اور سچ پوچھئے تو یہاں آ کر ،بنا کسی سیاسی وابستگی اور مفاد کے ،محض اپنے عوام سے جڑت رکھنے والے ایک سادہ سے بے چارے بلوچ لکھاری کے دلائل کی پٹاری خالی ہو جاتی ہے۔ لیکن اتنی بڑی تحریک کو ایک سوال کے سامنے پسپا ہونے بھی تو نہیں دیا جا سکتا! سو ‘ اب ہم جواز تراشنا شروع کرتے ہیں....’ دیکھئے اول تو جنھیں آپ عام آدمی کہتے ہیں ،بلوچ اسے اس مشینری کا پرزہ سمجھتے ہیں جو اس کے استحصال میں استعمال ہو رہی ہے ، اس لیے وہ بھی کہیں نہ کہیں اس کا حصہ ہوتا ہے ، وہ اس مشینری کو تیل دے رہا ہوتا ہے جسے تباہ کرنا دوسرے فریق کا نصب العین ہے،اور پھر زیر زمین گوریلا تحریکوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں ، وہ چھپ کر وار کرتے ہیں ، اس لیے آسان ہدف تلاش کرتے ہیں، عام آدمی چوںکہ آسان ہدف ہے اس لیے وہ جلدی نشانہ بنتا ہے....اور پھر دیکھیں نا ہمارے معصوم بچے بھی مارے جاتے ہیں،بے گناہ لوگ اغوا ہوتے ہیں ،عورتوں تک پر تشدد کیا جاتا ہے ، وہاں تو کوئی کچھ نہیں بولتا!‘
پر سچ پوچھئے تو صاحب ،حالانکہ مبنی بر حقائق ہونے کے باوجود یہ دلائل دیتے ہوئے ہمارالہجہ دھیما پڑ جاتا ہے، نظریں چار نہیں ہوتیں ،احساسِ جرم گھیرے میں لے لیتا ہے۔ ....اوربس یہی احساس دونوں فریقین میں تفریق پیدا کرتا ہے ۔ ہم متاثرہ ،و مفتوح فریق ہونے کے باوجود ہر بے گناہ قتل پہ احساسِ جرم کا شکار ہوتے ہیں اور آپ ’بڑے‘ ہو کر بھی اس بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کرتے اور ہمیں کوستے رہتے ہیں!
ایک سچ جو دونوں اطراف کے فہمیدہ انسانوں کو ماننا چاہیے اور سبھی مانتے ہیں ؛ سادہ سی بات یہ ہے کہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ہوتی ۔ اس کے جلو میں سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے ہی کھیلی جاتی ہے ۔اس لیے دونوں اطراف کے فہمیدہ انسانوں کو دراصل جنگ کی مخالفت کرنی چاہیے۔جنگی قوتوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ہم آپ کے عام لوگوں کے قتل کی مخالفت کریں گے ،آپ ہمارے اپنے تمام فیصلے(بشمول جغرافیائی سرحدوں کے تعین کے) خود کرنے کے حق کی حمایت کریں ۔ یہی وہ ایک نکتہ ہے جو ہمیں قریب لا سکتا ہے ۔ یہی ہمیں اچھے انسانوں کی صف میں لا سکتا ہے۔ یہی ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو جنگی جنون سے بچا سکتا ہے۔

بلوچ لڑتا کیوں ہے؟” پر بصرے

  • جنوری 4, 2016 at 9:29 AM
    Permalink

    سر , ہر عام انسان کا قتل ناجائز ہے چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو یا اس کا تعلق کسی بھی خطے یا مذہب سے ہو لیکن بلوچی میں کہتے ہیں کہ "آس کہ کپیت گڑا تر ءُ ھشک نزانت" ....یعنی جب آگ لگتی ہے تو خشک اور تر کی تمیز ختم ہوجاتی ہے.....جنگ ایک ایسی آگ ہے جس میں کچھ بھی نہیں بچتا.....سوال اٹھتا ہے کہ اس جنگ کو ختم کون کرسکتا ہے؟؟؟ میں سمجھتا ہوں طاقتور بلکہ جارح فریق کی حیثیت سے اس جنگ کو ختم کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے....پاکستان اگر اپنے غیرانسانی مفادات سے دستبردار ہوکر بلوچ کو آزادی سے جینے کا آفاقی اور بنیادی حق دے تو یہ جنگ کل ہی ختم ہوجائے لیکن اگر اسلام آباد طاقت , دھونس اور جبر کی پالیسی پر کاربند رہنے کا خواہشمند ہے تو , پڑھا لکھا بلوچ , کسی بھی صورت معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں کرے گا....کسی بھی صورت.....

    Reply
  • جنوری 5, 2016 at 9:45 AM
    Permalink

    نا سمجھوگے تو مٹ جاؤ گے اے پنجاب والو تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں.

    ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں کشتی کاغذ کی کبھی چلتی نہیں مرتا کیا نہ کرتا.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *