سابقہ قومی بھابھی اور دیگر طالب علم ....

muhammad Shahzad دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔ پہلے اپنے ایک بچے کو پڑھا لیں۔ یہ بچہ ولایت سے اعلیٰ تعلیم لے کر لوٹا ہے۔ لیکن سچا مسلمان ہے۔ کفار کی تعلیم نے اسکے خون میں موجود سچے علم کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔ اس آدھے تیتر آدھے بٹیر بچے کو دنیا بلاول بھٹو زرداری عرف بے بی بلاول کے نام و عرفیت سے جانتی ہے۔ ویسے یہ ہے بھی بے بی کی طرح معصوم۔ اس کی معصومیت کی وجہ سے ایک دس ماہ کی بچی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ اپنا جاہل بچہ ہے جسے یہ پڑھانے کی اشد ضرورت ہے کہ جب کسی ہسپتال کا دورہ کرو تو اس شفا خانے کے دروازے عوام پر بند نہیں کرتے۔ یہ ہسپتال ہے کوئی کہوٹہ کی لیبارٹری نہیں جہاں چڑیا بھی نہ پر مار سکے۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب لوگ آتے ہیں۔ کچھ جاں بلب بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے ہسپتال کا دورہ کرنا ہو تو پروٹوکول کے بغیر کریں۔ ورنہ گھر بیٹھیں۔ ویسے ملک الموت گھر بھی آسکتا ہے اور دنیا کا کوئی بھی سیکیورٹی پروٹوکول اسے روک نہیں سکتا۔
دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔پہلے اپنے ریٹائرڈ فوجی بزرگ کو پڑھا لیں جو غیر ملکی میڈیا کو یہ بتلاتا پھرتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ لہٰذا پشاور کے آرمی سکول میں 140 بچوں کا قتل کھیل کا اک معمولی سا حصہ ہے۔ دو طرفہ جنگ میں ایسا تو ہوتا ہی ہے۔ اس بزرگ کو فوراً پڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی ٹانگیں پوری کی پوری قبر میں پہنچی ہوئی ہیں۔ اگر اسے پڑھا دیا تو بہت ثواب ملے گا کیونکہ حکم یہی ہے کہ علم حاصل کرو ماں کی گود سے گور تک۔
دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔ پہلے ایک اور ریٹائرڈ فوجی بزرگ کو پڑھا لیں کہ قران کے پارے تیس ہوتے ہیں، چالیس نہیں۔ یہ بزرگ جنرل بھی رہ چکے ہیں اور اس بدنصیب ملک کے وزیرِ تعلیم بھی۔ انہیں اتنا علم ضرور دے دینا کہ بزرگوں دشمن کے بچے کو چالیس نہیں، صرف تیس پارے پڑھانے ہیں۔
دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔ پہلے ان سینکڑوں عالموں کو پڑھا دیں جودن رات ٹی وی چینلز پر نمودار ہوتے رہتے ہیں اور ایسا علم پھیلاتے ہیں کہ آنکھوں کے ساتھ ساتھ عقل بھی اندھی ہو جائے اور عبرت پکڑنے والے یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ایسے علم سے ہم باز آئے۔ اس علم کی روشنی سے تو جہالت کی تاریکی ہزار درجے بہتر۔
دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔ پہلے اپنے وزیرِ داخلہ کو قانون پڑھا دیں تا کہ اسے اتنا تو پتہ چل جائے کہ ریاست جسے اشتہاری قرار دے دے اسے گرفتار کرنا لازمی ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ دشمن کا بچہ ہمارے وزیر کو پڑھا رہا ہے۔ تب ہی انہیں مولانا عبدالعزیز جیسا عفریت معصوم نظر آتا ہے۔ نہیں .... انہیں پڑھائیں مت! اس سے پہلے ایک کام ضروری ہے۔ ان کا مکمل معائنہ بھی ہونا چاہیے۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں چھاپے پہ چھاپے مار کر داعش کے کارکن گرفتار کر رہی ہے اور وہ فرما رہے ہیں کہ داعش کا تو پاکستان میں وجود ہی نہیں۔ داعش نہ ہوئی Save the Children ہو گئی!
دشمن کے بچے کو پڑھانا ہے ۔ ٹھہریے۔ پہلے سابقہ قومی بھابی کو پڑھا دیں۔ اخباری کالم کے ذریعے محترمہ اپنے آپ کو حضرت عائشہ سے تشبیہ دیتی پھر رہی ہیں۔ انہیں صرف اتنا پڑھا دیں کہ طلاق کے بعد سابقہ شوہر کی عزت چینل چینل جا کر نہیں اچھالی جاتی۔خود ہی رسوائی کو دعوت دیتی ہیں اور پھر یہ گلہ کرتی ہیں کہ مرداِن پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.comپر رابطہ ہو سکتا ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *