پٹھان کوٹ آپریشن آخری مراحل میں داخل

pathan kot ہندوستانی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کے دعوے کے بعد اب ہندوستانی حکام کاکہنا ہے کہ کم از کم 2 حملہ آور ایئربیس میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے.واضح رہے کہ پٹھان کوٹ ایئربیس میں گذشتہ 48 گھنٹوں سے یرغمالی صورتحال ہے.خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک 7 فوجی اور 4 حملہ آور ہلاک ہوچکے ہیں.تاہم ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان کے نیشنل سکیورٹی گارڈ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ آپریشن اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے.سکیورٹی عہدیدار کے مطابق انھوں نے اپنی توجہ اس دو منزلہ عمارت پر مرکوز کر رکھی ہے جہاں رہائشی کوارٹرز ہیں اور دہشت گرد وہاں چھپے ہوئے ہیں.ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم قدم بہ قدم حملہ آوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپریشن کے اختتام کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
دوسری جانب ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے اور افغان دارالحکومت کابل میں ہندوستانی قونصل خانے پر حملے کے بعد اہم اجلاس طلب کیا جبکہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کا دورہ چین بھی پٹھان کوٹ حملے کے بعد موخر کردیا گیا۔اتوار کو ہندوستان کے سیکریٹری داخلہ راجیو مہرشی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ 2 حملہ آور ابھی ایئر بیس میں موجود ہیں ،جن پر جلد قابو پالیا جائے گا.
مہرشی کے مطابق ہندوستانی حکام پٹھان کوٹ میں کسی بھی ممکنہ حملے کے خطرے کے حوالے سے الرٹ تھے اور فضائی نگرانی کرنے والے آلات نے دہشت گردوں کی کمپاو¿نڈ میں داخل ہوتے وقت ہی نشاندہی کرلی تھی.ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فورسز نے حملہ آوروں کو ا±لجھائے رکھا تاکہ ایئربیس کے عسکری اثاثوں کو محفوظ رکھا جاسکے.
ہفتے کی صبح سے ایئر بیس کے اندر اور اطراف میں ایئرفورس کمانڈوز، ہندوستان کے ایلیٹ نیشنل سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے.ایک سینئرایئرفورس افسر ایئر مارشل انیل کھوسلا نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایئربیس کو ا±س وقت تک کلیئر قرار نہیں دیا جائے گا، جب تک سکیورٹی فورسز پورے علاقے کو اچھی طرح چیک نہیں کرلیتیں.پٹھان کوٹ ایئربیس کئی کلومیٹر کے رقبے پر پھیلاہوا ہے، جس میں سے کچھ حصہ جنگلات پر مشتمل ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *