بے روزگار تعلیم یافتہ افراد.... مسئلہ کیسے حل ہو ؟

zeeshan hashimپاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ،پاکستان میں معاشی تحقیق و اشاعت کا ایک معتبر ادارہ ہے - حالیہ دنوں میں پاکستانی سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PSDE ) کے تحت ایک کانفرنس ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستانی یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل طلبا میں پچاس فیصد یا تو بے روزگار ہیں یا پھر وہ افرادی قوت سے ہی باہر ہیں مطلب یہ کہ انہوں نے روزگار کی تلاش ہی ترک کر دی ہے -
یہ اعدادوشمار انتہائی پریشان کن ہیں - تعلیمی اداروں کا مقصد جہاں باشعور و مہذب شہریت کی ثقافت قائم کرنا ہے وہیں ان کا سب سے بڑا مقصد ملکی پیداواری قوت میں نشودنما بھی لانی ہے جس کے سبب ملک اپنی پیداوار و تخلیق کے عمل میں کامیابی سے آگے بڑھ سکے اور اقوام عالم کی صحت مند مسابقت میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے - بدقسمتی سے ہمیں دونوں مقاصد کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی - ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان سماجی شعور کے مطلوبہ درجے سے کوسوں دور ہے ، جذبات و ہیجان کے جملہ امراض اسے بھی لاحق ہیں ، اور وہ ماضی و حال کا ذہین و ذمہ دار تجزیہ کرنے میں ناکام ہے کہ ایک صحت مند سماج کی تعمیر میں اس کا فی الواقعی کیا کردار ہے اور اسے یہ کردار کس طرح نبھانا ہے ؟ حقیققت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ کے باوجود ہمارا قومی مزاج ہنوز ناپختہ، جذباتی اور ہیجان انگیز ہے -
دوسری طرف معیشت کے میدان میں اگر ہم دیکھیں تو تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری اور اپنی تعلیمی قابلیت سے کمتر درجے کی ملازمت (انڈر ایمپلائیمنٹ) ہماری پیداواری صلاحیتوں میں مزید کمی لا رہی ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ باوجود شرح خواندگی میں اضافہ کے ہم انسانی ترقی کے اعدادوشمار میں ہنوز عالمی اوسط سے بھی کم تر درجہ میں ہیں - اسی طرح ٹوٹل فیکٹر پروڈکٹوٹی (تخلیقی صلاحیت) اور تعلیم کا باہمی تعلق دیکھیں تو ہمیں پاکستان کے حوالے سے قدرے مایوسی ہوتی ہے - (تصویر دیکھئے )

chart
عالمی جنگوں کے بعد عالمی امن، تعلیم ، ٹیکنالوجی ، مواصلات اور تجارت میں پھیلاو¿ کے سبب عالمی شرح خواندگی میں بھی حیران کن طور پر تیز رفتار اضافہ ہوا ہے مگر تعلیم اور معاشی ترقی کا بہترین تعلق ہم صرف مغربی ممالک، مشرقی ایشیائی ممالک اور کسی حد تک بھارت میں دیکھ سکے ہیں - افریقہ میں اوسط شرح خواندگی اٹھاسی فیصد اور لاطینی امریکہ میں نوے فیصد سے زائد ہے، مگر ان خطوں میں تعلیم سے کوئی بڑی معاشی کرامت برپا نہیں ہوئی - اہل مغرب اور مشرقی ایشیا میں تعلیم نے معاشی میدان میں جو کارنامے سرانجام دیئے ہیں، اس کی بڑی وجہ وہاں کی صنعتوں کا تیز رفتار پھیلاو¿ تھا جو تعلیم یافتہ افراد کو روزگار کے مواقع میں جذب کرتا گیا اور ہنوز جذب کر رہا ہے -
پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار سست رفتار رہی ہے اوسط پانچ فیصد سالانہ ، جو تمام نوجوان تعلیم یافتہ افراد کو جذب کرنے میں ناکام رہی ہے - دوسری بات یہ کہ یہاں کی معیشت ہنوز روایتی ہے - خدمات اور زراعت (جو روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں) سمیت مینوفیکچرنگ کا شعبہ جیسے ٹیکسٹائل شوگر ملز وغیرہ ان کی نوعیت بھی روایتی ہے یوں ان سب میں پیداواری و تخلیقی ذہن کے بجائے روایتی تعلیم و ہنر کی زیادہ مانگ ہے - جب تک ہم اپنی صنعتوں میں ترقی اور پھیلاو¿ نہیں لاتے اس وقت تک تعلیم و معیشت کا باہمی ربط حاصل کرنے میں ہم ناکام ہیں -
ایک اور پہلو جسے عموما نظرانداز کر دیا جاتا ہے - علم کی تحصیل ایک مسلسل عمل ہے، اہل علم و ہنر افراد کے لئے سب سے اہم سوال محض یہ نہیں ہوتا کہ کونسی چیز کیا ہے؟ ، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک مخصوص سرگرمی کیسے سرانجام دینی ہے ، اور مطلوبہ نتائج کیسے حاصل کرنے ہیں؟ ایک تحقیق کے مطابق علم کا عملی پہلو (یا دوسرے لفظوں میں مکمل علم) ہم محض 15 سے 20 فیصد درس گاہوں میں حاصل کرتے ہیں جبکہ علم کے بقیہ حصہ سے ہم عملی میدان میں فیض یاب ہوتے ہیں ؛ ایک انجینئر علم کا اسی سے پچاسی فیصد فیکٹری اور سڑک و بلڈنگ وغیرہ کی تعمیر میں حاصل کرتا ہے جبکہ سائنس دان لیبارٹری میں اور معیشت دان پالیسی ساز ادارے میں .... ہمیں سوچنا یہ چاہیے کہ کیا عملی میدان میں علم کے حصول کی ثقافت ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے جہاں اب بھی روایتی زرعی عہد کا دور دورہ ہے مگر پڑھائے صنعتی علوم جاتے ہیں ۔ بے روزگار اور قابلیت سے کم تر درجہ کی نوکری (انڈر ایمپلائیڈ) کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کیا واقعی علم کی ثقافت میں جی رہی ہے ؟
ہمیں دنیا سے سیکھنا ہو گا اور اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے ترقی کی جامع و مربوط سائنس سے مدد لینی ہو گی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *