خوش فہمی سے خود شناسی تک

Anjum Niazانجم نیاز

ہم ایک عظیم ترین قوم ہیں... یہ ملک آسمانی طاقتوں کی خصوصی عطاہے... عنقریب تمام دنیا پر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا... ہم رمضان میں ہونے والا کرکٹ میچ کبھی نہیں ہارسکتے... پاکستانی کھلاڑی انتہائی باصلاحیت ہوتے ہیں ، بس کچھ نامعلوم وجوھات کی بنا پرمہارت حاصل نہیں کرپاتے .. .ایک پاکستانی مجاہد چھے(تعداد کم زیادہ ہو سکتی ہے) دشمنوں کے خلاف لڑسکتا ہے... یہ جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اہم ترین خطے میں واقع ہیں اور عالمی معاملات میں ہماری اہمیت نظر انداز کی ہی نہیں جاسکتی(اگرکوئی کرے گا تو وہ اپنے نفع نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا)...تمام دنیا کے افراد رات دن پاکستان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور ان کا بس نہیں چلتا کہ کب اُڑ کر اس سنہری دھرتی پر قدم رکھیں اور اپنی قسمت پر ناز کریں... اس کے بعض شہروں کو دیکھ کر ہی اپنے توّلد ہونے کی سند مل پاتی ہے، بصورتِ دیگر کوئی ’’امید ‘‘ نہ رکھیں... ہمارے عظیم سائنسدان کا بنایا ہوا ایٹم بم بھارتی ایٹمی ہتھیاروں سے بہت بہتر ہے کیونکہ اس میں اصلی ’’مال‘‘ ڈالا ہوا ہے... پاکستانی طالبِ علم بیرونی یونیورسٹیوں میں جاتے ہی اپنے علم و فن کی دھاک بٹھادیتے ہیں اور بے چارے اساتذہ ، جو بمشکل پی ایچ ڈی اور کوئی دو تین درجن کتابوں اور کئی سو ریسرچ پیپرز کے مصنف ہوتے ہیں، ان سے آنکھیں نہیں چار کرپاتے... مذہب کے حوالے سے تمام اسلامی دنیا میں ہمارے نظریات ہی درست ہیں...وغیرہ( تاریخِ پاکستان 1947سے لے کر 2000تک)
تمام دنیا ہماری دشمن ہے... امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، روس، بھارت، فرانس، وغیرہ ہم سے خائف ہیں اور ان کے ادارے ہمہ وقت ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں... تمام مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اورہمارے ہاں پائی جانے والی فرقہ واریت اور لسانی تفاریق یہود و ہنود گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں... دھشت گردی دراصل امریکی اور یہودی ایجنٹ کررہے ہیں... عالمی ادارے پولیو کے قطروں کے ذریعے ہماری خصوصی طاقتوں کی بیخ کنی کرنے کے درپے ہیں... انگریز ی کی وجہ سے ہماری صلاحیتوں کو زنگ لگ رہا ہے وگرنہ اگر سائنسی علوم اردو میں پڑھائے جائیں تو سائنسی ایجادات تو ہمارے گھڑے کی مچھلی ہیں...ہمارے کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات عالمی سازش ہیں...پیپر کرنسی کی وجہ سے ہماری معیشت خسارے میں ہے(سونے میں ہوتی تو ہم بے فکری سے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے)...ہمارے سیاست دان غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور وہ اسلامی نظام نافذ نہیں ہونے دیتے، وگرنہ اب تک ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں، وغیرہ(تاریخِ پاکستان 2000 سے لے کر اب تک)۔
عزیز قارئین ، ہماری چھے عشروں پر مشتمل تاریخ صرف ان دوصفحات پر ہی مشتمل ہے۔ اگر مزید مختصر کرنا چاہیں تو جو ادبی ترکیب ذہن میں آتی ہے اسے ’’بیم و رجا‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ اس دوران پیش آنے والے کچھ واقعات ، جیسا کہ مختلف حکومتوں کا بننا بگڑنا، جنگیں لڑنا، سیاسی اتحاد اور سیاسی کشیدگی کے عمل اور ردِ عمل کا جاری رہنا، امریکہ سے قرض بھی لینااور اُسے گالیاں بھی دینا، کسی کو شہید کہنا، کسی کو مرتد قرار دینا سطحی باتیں ہیں۔ ہماری داخلی دنیا کا حال صرف انہی دو صفحوں پر عبارت ہے۔ اگر کسی اور دنیا سے آنے والے غیر جانبدار مبصر کے سامنے اپنا کیس، بمعہ یہ تاریخ رکھیں تو وہ ان دونوں پر سرخ روشنائی سے لکیر کھنچتے ہوئے ہمیں بتائے گا کہ ہماری تاریخ کا صفح�ۂ اول خوش فہمی سے عبارت ہے تو صفحہ دوم غلط فہمی سے۔ اس کے علاوہ فی الحال ہمارے قومی نام�ۂ اعمال میں اور کچھ نہیں۔
کیا ہم ہمیشہ انہی دو رویوں کا شکار رہیں گے؟کیا ہم کبھی حقیقت پسند ہو کر سوچیں گے یا نہیں؟اگر آپ بیرونی دنیا میں کسی ملک میں سفر کریں یا ان افراد سے کچھ دیر بات کرلیں جن کا کسی طور بیرونی دنیا سے کچھ رابطہ ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ گزشتہ چھے عشروں ہم ریت کے گھروندوں کو شیش محل سمجھ رہے ہیں۔ آج کے پاکستان میں مایوسی کا گہرا ہوتا ہوا عنصر بھی انہی دو رویوں کے باعث ہے۔ اس عالم میں میڈیا اور نظامِ تعلیم کے ذریعے عام پاکستانیوں ،خاص طور پر نئی نسل ،کو یہ بات سمجھائی جائے کہ التباسات کی دنیا، جس نے ہمیں خوش فہمی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، سے نکل کر حقائق کا سامناکریں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دنیاکے ایک سو نوّے ممالک میں سے ایک ہے... ہاں آبادی کے لحاظ سے یہ چھٹا ملک ضرورہے اور ہم ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح جلد از جلد رکاوٹوں،جیسا کہ ایک ار ب سے زائد آبادی والے ممالک، بھارت اور چین، سے آگے نکلتے ہوئے اس دوڑمیں پہلی پوزیشن پر آجائیں... اور اگر اس ضمن میں ہماری محنتِ شاقہ پر نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس میں’’دیر ہے ، اندھیر نہیں ہے۔‘‘تاہم اس کے سواہمارے کریڈٹ پر اور کچھ نہیں۔
جس مصائب کی بھٹی میں ہم جل رہے ہیں، اگر اس کی تپش ہماری نفسیات پر لگا خوش فہمی اور غلط فہمی کا زنگ اتار دے تو سمجھ لیں کہ یہ کوئی عذاب نہیں بلکہ خودشناسی تک کا ایک سفر ہے۔ اس سفر میں ٹھوکریں لگتی ہیں،چناچہ ہمیں بھی لگ رہی ہیں، اس لیے اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے ۔ آج پاکستانیوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، قوموں کی زندگی میں ایسی آزمائشیں آتی رہتی ہیں، مایوسی کی ضرورت نہیں ۔ صرف ہمیں سازش کی فیکٹریوں کے مالکان، جن میں سے اکثر ہمارے میڈیا کے سرخیل ہیں، کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کی پالیسی اپنا لیں اور نئی نسل کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا شروع کردیں۔ ہمار ا تعلیمی نظام بھی نہایت ناقص ہے، لیکن ہمارے پاس مایوس ہونے کا آپشن موجود نہیں... ہم اس ’’عیاشی ‘‘ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔جب تک ہمارا تعلیمی نظام رٹے بازی کی لعنت سے جان نہیں چھڑاسکتا(ہم انتظار کریں گے تیرا قیامت تک)تب تک ہم میٹرک یا او لیول سے کم درجے کے بچوں کو ’’ او پی آر‘‘ (ون پیج ریڈنگ ) کی عادت ڈالیں اور اُن سے اس عبارت کے حوالے سے بات کریں۔ یہ عبارت کسی بھی زبان، جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے سیکھیں اور جو اُنہیں عملی زندگی میں کام دے، میں ہوسکتی ہے۔ آپ اسے کچھ وقت دیں تاکہ وہ اسے پڑھ سکے اور پھر کچھ دیر کے بعد اسے کہیں کہ وہ اس کے مفہوم کا اظہار کرے ۔ اس سے کچھ سوال وجواب بھی کریں۔ یہ باقاعدہ تعلیمی نظام کے متوازی ایک نظام ہے جوبہت کامیابی سے انسان کی شخصیت کے جوہر کو اجاگر کرسکتا ہے۔ اس سے بچوں کی تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتیں بھی بیدار ہوسکتی ہیں۔ اگر ہم آبادی میں بے ہنگم اضافے کی بجائے، جس میں بچے توجہ سے محروم رہتے ہوئے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، کنبہ کم رکھیں اور ہر بچے کو انتہائی اہم شخصیت سمجھتے ہوئے پوری توجہ اُس کی تعلیم و تربیت پر دیں، اس کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں، تو آگلے دو عشروں تک پاکستان کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس کے لیے سیاست دانوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، اُنہیں ان کا کام کرنے دیں، آپ پاکستان اور اس کے مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں پیدا کریں۔یقین رکھیں کہ ہماری تاریخ کا پہلا صفحہ بھی غلط ہے اور دوسرابھی۔ ہم دنیا کا ایک عام ملک ہیں اور ہماری زندگیاں عام انسانوں کی طرح ہی بسر ہونی ہیں۔ اور اس بات سے آپ بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ہم مسلسل قرض لے کر عیاشی نہیں کرسکتے۔ دنیا میں خودنمائی کرنے والے بھکاریوں کو عزت تو کجا، خیرات بھی نہیں ملتی۔ یہی اس دنیا کا قانون ہے، ہم جتنی جلدی اس کو سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *