نوجوان پرنس کی جلد بازی

12096447_10208440043738111_3023857607326557128_n

دی اکانومسٹ کے مطابق آل سعود نے ایک دفعہ پهر دیریا میں اپنا مسکن بنا لیاہے. ان کے آبائو اجداد کا دارلحکومت جو کہ سلطنت عثمانیہ کے ہاتهوں برباد ہونے کے بعد قومی سیاحوں کی کشش کے لیے بڑے پیار سے تعمیر کیا گیا وہ جگہ ہے جہاں آل سعود نے 18 ویں صدی میں جدت پسند مسلمان مبلغ محمد ابن عبدالوہاب کیساتھ مل کر ایک اتحاد قائم کیا تها جس نے آج سعودی عرب کے کٹر وہابی اسلام کی بنیاد رکهی- یہی وہ جگہ ہے جہاں 30 سالہ جانشین شہزادہ محمد بن سلمان پنے بوڑهے باپ شاہ سلمان کی بادشاہت کی طاقت ہے اور اس قلعہ نما عمارت میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کااستقبال کرتا ہے. اس استقبالیہ عمارت کا ایک حصہ نیزوں، تلواروں اور خنجروں سے بهرا ہے جبکہ دوسرا حصہ ایک بڑے ٹی وی پر مشرق وسطی کے ہنگاموں اور اس کے اپنے احکامات کے نتائج کے بارے میں خبریں دیکھنے کے کام آتا ہے . جانے پہچانے شیعہ عالم نمر النمر (اور 46 دوسرےلوگ جن میں سے زیادہ تر القاعدہ کے جہادی تهے) کے سر کاٹنے کے بعد ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ اور سعودیہ کے ایران سے تعلقات ختم کرنے پر منتج ہوا. اسی رات میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرنس محمد نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی پر کوئی سمجوته نہیں کیا جائے گا. جب سوال کیا گیا کہ کیا حکومت کے اقدامات سے خطے کے صورتحال بگڑنے کا خطرہ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ حالات پہلے ہی اتنے خراب ہیں، اس سے برے اور کیا ہوں گے. ہم نے پوری کوشش کی ہے اور اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے. انہیں جنگ کی کوئی توقع نہیں ہے، لیکن ان کے پاس ایک نئی ایرانی سلطنت کو کچلنے کے لئے ایران کو روکنا ضروری تها. پرنس کے وزیر دفاع بننے کے کچھ ہی ہفتوں میں انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں پر اپنے اتحاد کی ہمراہ لڑاکا طیاروں سے حملہ کیا. تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یمن کی سرزمین پر باہر سے حملہ کرنے والوں کا ہمیشہ خون بہا ہے اس پر پرنس کا کہنا تها یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تها. پرنس محمد کے زیادہ تر ڈرامائی اقدامات سعودیہ میں ہی ہیں. انہیں یقیں ہے کہ تیل کی قیمت بین الاقوامی منڈی میں 115 ڈالر بیرل سے گر کر 35 ڈالر سے نیچے گر جائے گی۔  سعودی عرب کو جی ڈی پی میں 15 پرسنٹ کا بڑا خسارہ پچهلے سال ہوا جس کے بعد سعودیہ کے زرمبالغہ کے ذرائع 100 بلین ڈالر سے گر کر 650 بلین ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں. سعودیہ کا عوامی خزانہ کچھ سالوں سےغیر مستحکم ہے ،پرنس تیل کے علاوہ دیگرمنصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنے ملک میں ملازمین کی تنخواہیں بھی کم کریں گے جس سے بے روزگاری بڑهنے کا خدشہ ہے.اگر ترقی کے لیے پرنس کے نئے منصوبے شروع ہوتے ہیں توکم ازکم 2030 تک نئی نوکریاں پیدا ہوں گی اور تب کام کرنے والوں کی تعداد دوگنا ہو جائے گی. ارامکو کے علاوہ پرنس ٹیلی کام، پاور اسٹیشن اور ائیر لائن جیسے ریاست کے اثاثوں کو بیچنا چاہتا ہے. حکومت مکہ کے گرد کے 4 سکوئر میٹر کا ایریا ، جو کہ دنیا کا سب سے مہنگا رئیل اسٹیٹ علاقہ ہے پرائیویٹ ڈویلپر کو بیچنا چاہتی ہے. پرنس کااس مقدس علاقے کو اسلامی سیاحی مقام بنانا پر کامل یقین ہے اور اس کا خیال ہے کہ اگلے چار سے پانچ سالوں میں وہ ملک کی انکم 18 ملین سے بڑها کر 35-40 ملین تک لے جائے گا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *