انتہا کے مقابلے میں نئی انتہا

(حماداللہ کے قلم سے )

Hmmad

ہر حادثے کے بعد مفت مشوروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ انتہاپسند فکر کو کیسے ختم کریں ؟دہشتگردی کا کیا علاج کیا ہے ؟
عبادتگاہوں اور علم گاہوں کو کیسے محفوظ بنایئں ؟ہم سمجھتے ہیں کسی انتہا کو انتہا سے ختم نہیں کرسکتے۔ہمارا دشمن اگر انتہاپسند ہے تو ہم اسے خود انتہاپسند بن کر کبھی ختم نہیں کرسکتے،اگر آپکا کہنا و ماننا یہ ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ انتہاپسند سوچ کو ختم کریں، سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں اور مدارس تک میں نئ سوچ پیدا کریں،نصاب سے اسلامی تاریخ کو نکال دیں،جہادی آیات و احکامات کا خاتمہ کریں۔۔۔۔تو یہ سب ناممکن سے زیادہ خطرناک ہے-شریعت نے جہاد و قتال کے اپنے اصول مقرر کر رکھے ہیں دین اسلام کسی بےگناہ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا نیز گنہگار کو بھی قتل کرنا ہر کسی کا کام نہیں،زنا ، جوا ، چوری ، شراب نوشی وغیرہ کی سزایئں دینا بھی کسی ایرے غیرے کا کام نہیں بلکہ یہ ریاستی ذمہ داریاں ہیں۔اگر ہم قرانی آیات اور قرانی فکر کو درسگاہوں یا دیگر سرکاری یا نجی اداروں سے ختم کرینگے تو ڈھونڈنے والا یہ سب کہیں اور سے کسی غلط تشریح کے ساتھ نکال کر خود کو آگ کے دریا کے حوالے کرکے اوروں کی زندگی بھی ساتھ لے جایئگا،ایک مسلمان کے دل سے آپ قران کو ہر گز نہیں نکال سکتےلہذا ہونا یہ چاہئے کہ قران و حدیث کو مدارس کے ساتھ ساتھ سکولوں اور کالجوں میں پڑھایا جائے لیکن اس تفسیر کے ساتھ جو قران و حدیث کی اصل روح پیش کرےاورنئی نسل کو استعمال ہونے سے بچایئں،ہم نوجوان نسل کے سامنے جہادی آیات سامنے لایئں اور انکو سمجھایئں کہ جہاد کس عمل کا نام ہے، جہاد صرف بندوق اٹھانے کا نام نہیں جہاد کی ذمہ داری ریاست کی ہے،"امربالمعروف ونہی عن المنکر" کے احکامات کو صرف ایک حدیث کی روشنی میں نہ دیکھیں کہ کسی کو برا کام کرتے دیکھو تو ہاتھ سے روکو یا زبان سے روکو یا دل میں برا سمجھو۔ہم نوجوان نسل سے اگر قرانی احکامات کو دور کرینگے تو آج کا نوجوان یہ سب کسی ایسی جگہ سے حاصل کرلیگا جہاں آگے چل کر وہ یہ دلیل دیگا کہ یونیورسٹی حکومت کیلئے سہولت کار پیدا کرتی ہے لہذا یہاں پڑھنے والے سب دشمن یا دشمن کے بچے ہیں۔ہم نے نوجوانوں کو خود پڑھانا ہے سکھانا ہے انکے دل و دماغ میں یہ بات رکھنی ہے کہ قرانی احکامات و احادیث کی غلط تشریح کے ذریعے آگ و خون کا کھیل کھیلنے والے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صورت مخلص نہیں۔تب ہی ایسی سوچ پیدا ہوسکتی ہے جس پر انتہاپسندانہ سوچ اثر نہ کرسکے۔لیکن بدقسمتی سے ہم خود نوجوانوں کو اس آگ میں ڈال رہے ہیں اور انتہا کے مقابلے میں نئی انتہا پیدا کر رہے ہیںجن کا انجام وہی ہوتا ہے جو کل کے مجاہد آج کے دہشتگرد کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔جہاں کہیں بھی حادثات ہوجاتے ہیں وہاں ہم اپنے نوجوان کو اسلامی فکر سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے دہشتگرد فائدہ حاصل کرکے نوجوان نسل کے اذہان میں یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ ریاست اور اسکی ساری مشینری اسلام مخالف اور لادین فکر پر مشتمل ہے۔ انتہاپسندی کا خاتمہ انتہاپسندی سے نہیں بلکہ حکمت سے ممکن ہے کہ ہم نوجوانوں کو دینی سوچ سے دور کرنے ( جو کہ ناممکن ہے) کی بجائے انکو ان لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچایئں جو غلط تشریحات کے ذریعے انکو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔۔سوچئے اور فیصلہ کیجئے!!!

انتہا کے مقابلے میں نئی انتہا” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 25, 2016 at 8:22 PM
    Permalink

    interesting point.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *