ہوا میں اڑتے پتے (15)

mirza

دن گذر رہے تھے۔ طغرل اور حسام دن چڑھے اس کمرے میں جا کر بیٹھ رہتے تھے جو حسام نے رابطہ دفتر کے طور پر اجارہ کیا تھا۔ یہ ایک پینتیس چھتیس سال کی تنہا، بہت زیادہ بولنے والی عورت لوبوو یا لیوبا (محبت) نام کی عورت کے مختصر کوارتیرے کا مختصر ترین کمرہ تھا جس مین ایک جھلنگا سا پلنگ اور دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ گھر والا فون سیٹ "دفتری" اوقات میں لیوبا ان کے "دفتر" میں منتقل کر دیا کرتی تھی۔ طغرل کو تو یہاں کی زبان کے ٹوکویں فقرے اور کچھ الفاظ ہی یاد ہو سکے تھے چنانچہ وہ فون پر کسی سے بات کرتا بھی تو کیا کرتا البتہ حسام دن مین دو ایک فون کرکے یہ تاثّر دینے کی کوشش ضرور کرتا تھا کہ وہ کام کو آگے بڑھانے کی سعی کر رہا ہے۔
مالکہ مکان اگر طغرل کو بری نہیں لگتی تھی تو اچھی بھی نہیں لگتی تھی۔ وہ یا تو بولتی ہی نہیں تھی یا بولتی تھی تو بے تکان بولے چلے جاتی تھی۔ اس سے کمرہ کرائے پر لیتے ہوئے چونکہ حسام نے طے کیا تھا کہ اگر کبھی کبھار اس کمرے کو شب خوابی کے لیے بھی استعمال کرنا پڑے تو وہ معترض نہیں ہوگی۔ چند روز بعد ہی حسام کے دو دوست کسی اور شہر سے اس کے ہاں مہمان ہوئے تھے۔ بس ایک رات کی تو بات تھی۔ حسام نے طغرل کو ہدایت کی تھی کہ سونے کی غرض سے اس خاتون کے ہاں جاتے ہوئے بیئر کی کم از کم چار بوتلیں ضرور ساتھ لیتا جائے کیونکہ اسے اچھا لگے گا۔ راستہ تو طغرل کو آتا ہی تھا۔ حسام نے ہوسٹل کے فون سے فون کرکے اسے طغرل کی آمد کے بارے میں بتا دیا تھا۔ طغرل نے راستے سے اس زمانے کی سب سے اچھی بیئر کی چار بوتلیں پکڑ لی تھیں۔ تب تک صرف روس کی بنی بیئر ہی دستیاب تھی جو سرسوں کے تیل کی طرح گاڑھی ہوا کرتی تھی البتہ جو بیئر طغرل نے خریدی تھی وہ نسبتا" مہنگی تھی اور کسی حد تک بیئر سے ملتی جلتی بھی۔
لیوبا نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا تھا۔ طغرل نے بوتلیں اسے تھما دی تھیں۔ وہ اسے اپنے زیر تصرف کمرے میں لے گئی تھی جہاں ایک بیڈ کے علاوہ، کھڑکی کے ساتھ رکھی ایک تپائی کے ادھر ادھر دو کرسیاں رکھی تھیں۔ لیوبا نے تپائی پر بیئر کی بوتلوں کے ساتھ دو گلاس رکھ دیے تھے اور دو موم بتیاں روشن کرکے بجلی بجھا دی تھی۔ دونوں مل کر بیئر پیتے رہے تھے۔ وہ بولتی رہی تھی۔ طغرل بنا سمجھے کبھی مسکرا دیتا تھا کبھی ہوں ہاں کر دیتا تھا یا پھر کبھی ٹوٹے پھوٹے فقرے بول دیتا تھا لیکن اس نے ایسا کوئی اشارہ کنایہ نہیں کیا تھا، نہ ہی ایسا کوئی لفظ یا فقرہ بولا تھا جس سے اس عورت میں طغرل کی دلچسپی کا اظہار ہوتا کیونکہ اس میں اسے دلچسپی تھی ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ بولتے ہوئے اس عورت کے دہن سے کف اڑتا تھا جس کے چھینٹے طغرل کے چہرے پر پڑتے تھے۔ کیونکہ وہ سیدھی ہو کر بیٹھی ہوئی تھی اسی لیے وہ آرام کرسی کے آخری سرے تک کمر ٹکائے بیٹھا تھا۔
بیئر ختم ہو گئی تھی اور اس عورت کی باتیں بھی۔ اس نے اٹھ کر بستر پر صاف چادر بچھائی تھی، تکیوں کے غلاف تبدیل کیے تھے اور رضائی پر بھی دھلا ہوا غلاف چڑھایا تھا۔ طغرل کو بیئر پینے کے بعد نیند سی آ رہی تھی۔ لیوبا نے اسے ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہتے ہوئے یہ سمجھایا تھا کہ وہ بستر پر آ جائے۔ وہ بیڈ کے کنارے پر ٹک کر بیٹھ گیا تھا۔ لیوبا اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ رہی تھی۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑا تھا، اشاروں اور لفظوں میں شاید طغرل سے یہ کہنا چاہا تھا کہ وہ نہا لے۔ طغرل بھلا کیوں نہاتا؟ اسے تو صبح نہانے کی عادت تھی۔ روسی البتہ سونے سے پہلے نہاتے ہیں۔ پھر لیوبا نے اپنی طرف اشارہ کرکے یقینا" یہی کہا تھا کہ وہ خود نہانے جا رہی ہے اور غسل خانے میں چلی گئی تھی۔ طغرل کے پاؤں زمین پر ہی ٹکے ہوئے تھے مگر اس نے اپنی کمر بستر پر سیدھی کر لی تھی۔ غسل خانے سے شاور سے گرتے پانی کی آواز اور بیئر کے خمار سے اسے اونگھ آ گئی تھی۔ لیوبا نے اسے ہلا کر جگایا تھا۔ اس نے خود شب خوابی کا مختصر سا پیرہن پہنا ہوا تھا۔ اس نے ایک بار پھر ہاتھ کے اشاروں اور الفاظ سے طغرل کو کپڑے اتار کر اسی بستر میں آنے کو کہا تھا جس میں وہ خود گھس چکی تھی اور جو اس کا ہی بستر تھا۔ لگتا تھا شاید اس کے گھر پر دوسرے بستر کے لوازمات تھے ہی نہیں۔ طغرل نے اس کے کہے پر عمل کیا تھا۔ چاہے وہ اتنی اچھی نہیں بھی لگتی تھی اور اس کے دہن سے کف اڑتا تھا مگر تھی تو وہ عورت ہی۔ طغرل کے بدن کے ساتھ لگا اس کا بدن، اوپر سے بیئر کا خمار۔ طغرل نے اسے سربسجود کر دیا تھا تاکہ کف اس کے چہرے سے دور رہے اور پھر دیوار کی جانب منہ کر کے سو رہا تھا۔ صبح جب وہ بیدار ہوا تو لیوبا گاؤن پہنے سگریٹ پھونکتی ہوئی پھر رہی تھی۔ طغرل نے جب تھوڑی سی دست درازی کی تو اس نے کہا تھا،" نو ۔۔۔ نو ۔۔۔ ففتی دولار"۔ طغرل کی ہنسی چھوٹ گئی تھی کیونکہ اسے نوجوانوں کو مفت منشیات فراہم کرکے نشے پر لگانے ولے لوگ یاد آگئے تھے۔ ففتی تو کیا وہ اسے کچھ بھی دینے کو تیار نہیں تھا۔ اس لیے پھر کبھی شب خوابی کی خاطر اس نے لیوبا کے گھر میں قدم رنجہ نہیں فرمایا تھا۔

دن میں چند گھنٹوں کے لیے یولیا بھی آ کر "رابطہ آفس" میں طغرل کا ساتھ دے دیا کرتی تھی۔ بات بوس و کنار سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور طغرل خود بھی پیش قدمی کو بیشتر کرنے سے گریز کرتا تھا۔ محبت کے عمل میں باہمی رضامندی کے بغیر ہر قدم تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ بلکہ ایک بار تو جب طغرل اور یولیا اس کمرے میں بند ہو گئے تھے تو چاپی کھو گئی تھی، پھر بھی کچھ نہیں ہوا تھا۔ دراصل کمرے کا در زور سے بند کیے جانے پر خود بخود مقفل ہو گیا تھا اور لیوبا گھر پر نہیں تھی۔ وہ دونوں کھڑکی سے جھانک کر مدد کے متلاشی رہے تھے۔ فون کے توسط سے حسام تک اطلاع پہنچانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ یولیا زیادہ بوکھلائی ہوئی تھی کہ کہیں بند کمرے میں زبردستی کچھ نہ ہو جائے۔ بالآخر لیوبا لوٹ آئی تھی اور اس نے ان دونوں کو کمرے کی قید سے آزاد کر دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یولیا نے خود کو آزاد محسوس کیا تھا۔
فروری کے آخری ایام تھے۔ حسام کسی بات پر آزردہ خاطر ہو کر طغرل کو یہ کہہ کر چلا گیا تھا کہ وہ مزید اس کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔ طغرل کا سامان حسام کے کمرے میں تھا۔ غلطی سراسر حسام کی تھی پھر یہ کہ طغرل اس کے ہاں مہمان بھی تھا۔ طغرل کی انا نے مناسب نہیں جانا تھا کہ اس کے اس ناروا رویے کے بعد بھی اس کے ہاں جائے۔ اس شہر میں سردیوں کی رات ویسے ہی شام کے چار ساڑھے چار بجے پڑ جاتی ہے۔ طغرل سوچتا رہا تھا کہ کیا کرے۔ چاہتا تو "ففتی" کی بجائے دس ڈالر دے کر ہی لیوبا کے بستر اور بدن پر تصرف جما سکتا تھا لیکن ایک بار نہ تو سو بار نہ۔ کہیں پانچ بجے کا وقت تھا، طغرل پہلی منزل پر جو یہاں گراؤنڈ فلور کو کہا جاتا ہے، عمارت کی راہداری میں کھڑا سگریٹ نوشی کرتے ہوئے سوچ رہا تھا آیا کسی ہوٹل کے بارے میں کسی سے پوچھا جائے یا میر شہباز کے ہوسٹل جایا جائے۔ اتنے میں ایک لمبا تڑنگا، سیاہ بالوں والا اول جلول سا نوجوان باہر سے اندر آیا تھا۔ پہلے وہ لفٹ تک گیا تھا پھر پلٹ کر واپس آیا تھا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں طغرل سے پوچھا تھا کہ وہ یہان کیون کھڑا ہے۔ طغرل اسے سمجھانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ اسے "رین بسیرا" درکار ہے۔ وہ اسے اپنے ہمراہ تیرھویں منزل پر لے گیا تھا۔ برآمدے کے ایک طرف دوکمرے والے کوارتیرے مین اس کی ماں اور نانی کی رہائش تھی اور دوسری جانب ایک بڑے سے کمرے والا کوارتیرا اس کا اپنا تھا۔ اس کی ماں چھوٹے قد کی شفیق آرمینیائی خاتون تھیں جو بہت بہتر انگریزی بولنا جانتی تھیں۔ میں نے انہیں ساری بات بتائی تھی۔ اس خاتون نے پہلے طغرل کو کھانے کے لیے کچھ دیا تھا اور پھر چائے سے تواضع کی تھی۔ شب بسری کے دوران ہی طغرل نے اپنے میزبان، جس کا نام دمتری اور مختصرا" دیما تھا، شاید پچاس ڈالر ماہوار کے عوض طے کر لیا تھا کہ وہ اس کمرے میں اس کے ساتھ رہے گا۔ حسام اگلے روز ہی خجل سا ہوا لوٹ آیا تھا اور آ کر معذرت چاہی تھی لیکن طغرل نے اسے اسی روز تیار کردہ ایک " آفیشل جواب طلبانہ لیٹر" تھما دیا تھا، جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا کیونکہ دفتر نام کی کوئی شے تھی نہیں نہ ہی ٹائپ رائٹر تھا۔ کمپیوٹر تب روس میں نہ ہونے کے برابر تھے اور جو تھے وہ بھدے، روسی ساخت کے اور بلیک اینڈ وہائٹ۔ حسام نے اس خط کو درخور اعتنا نہیں جانا تھا۔ طغرل نے البتہ اس کو باور کرا دیا تھا کہ اس نے اپنی رہائش کا بندوبست کر لیا ہے اور بس۔ ساتھ ہی لیوبا کا کمرہ بھی چھوڑ دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *