خوبصورتی اور صحافت

Anjum Niazانجم نیاز

صحافت ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔ اسے، جیسا کہ بہت سے لوگ خیال کرتے ہیں، صرف دلکش زندگی کی طرف جانے والا راستہ نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن صحافیوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوجائے تو پھر ان کی رسائی اہم افراد اور اہم مقامات تک ممکن ہوجاتی ہے اور اگر آپ کوئی نوجوان اور حسین لڑکی ہیں تو پھر آپ کو بہت ہی خاص مقام بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ یہ الفاظ پڑھ کر میڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین میری جان کو آجائیں گی لیکن حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ہر شعبے ، خاص طور پر صحافت میں آدمی نوجوانی اور خوبصورتی کے رسیا ہوتے ہیں۔
بہت عرصہ پہلے، جب میں ڈان کے کراچی دفتر میں کام کرتی تھی تو ایک دن ایک کالم میری نظر سے گزرا ۔ میں نے اسے سرسری انداز میں پڑھا اور توجہ دیے بغیر ایک طرف رکھ دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے لکھنے والی ایک معمر خاتون صحافی تھیں اور اس شعبے میں ایسے ’’افراد ‘‘ کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ میں نے سوچا کہ میں ان کی پروا کیوں کروں، ابھی میں نوجوان ہوں اور بطور صحافی میرے سامنے پوری زندگی پڑی ہے، پھر کسی کوگزرے ہوئے ماہ و سال کی کیا فکر ؟آج جب بھارتی وزیر ششی تھرور ، اس کی مرحوم بیوی سیناندا اور ایک پاکستانی صحافی لڑکی مہر تارڑ کے معاملے، جسے ’’ٹوئیٹرز وار‘‘ کا نام دیا گیا، سوشل میڈیا میں کافی ’’رش‘‘ لے رہا ہے ، کے بارے میں پڑھنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ اُس معمر خاتون صحافی ،جس کا میں نے ذکر کیا، نے خواتین کو مشورہ دیا تھا کہ جب اُن کا حسن ساتھ چھوڑنے لگے تو جنسِ مخالف کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بہت سے زیورات پہنیں۔ اُنھوں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا ...’’جب آپ عمر کی وادی میں اترنے لگتی ہیں تو آپ کی جسمانی کشش جواب دے جاتی ہے تو زیورات آپ کو اعتماد بخشتے ہیں اور آپ محسوس کرتی ہیں کہ آپ کے ارد گرد موجود لوگ آپ کو نظر انداز نہیں کررہے‘‘۔ ششی تھرور کی مرحوم بیوی سیناندا کی درجنوں تصاویر دیکھنے کے بعدمجھے جس چیز کا بہت شدت سے احساس ہوا وہ یہ تھی کہ اُس نے بہت سے زیورات پہنے ہوئے تھے اور اس کے ریشمی ملائم بال بہت لمبے تھے،تاہم وہ اپنی جوانی کی حدود سے گزرچکی تھی... موت کے وقت اُس کی عمر باون سال تھی، چناچہ وہ کسی طور پر بھی اپنی ’’حریف‘‘ ، پاکستانی صحافی، کے مقابلے کی نہ تھی۔ اسکے باوجود اُنہیں ششی تھرور کے دل کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ دوسری طر ف شوہر ، جو کہ ایک دل پھینک قسم کا آدمی تھا، کی نظروں ادھر اُدھر بھٹکنے لگیں، یہاں تک کہ... اگر سنائی جانے والی کہانی درست ہے ...سرحد پار ’’دراندازی ‘‘ کرنے لگیں۔ اب ستم ظریفی یہ ہے کہ ششی تھرور ستاون سال کے ہیں اور آدمی اس عمر میں بھی نوجوان اور نوخیز لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرسکتے ہیں ، لیکن عورتوں کو یہ ’’سہولت ‘‘ میسر نہیں۔
اب میں دوبارہ اپنے اصل موضوع، پر آتی ہوں کہ میڈیا میں آدمی فوراً ہی نوجوان خوبصورت لڑکیوں کے فریفتہ کیوں ہوجاتے ہیں؟جب میں نے تیس سال پہلے اس شعبے میں قدم رکھا تو بہت سوں کا خیا ل تھا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں دنیاکے دولت مند اور مشہور افرادکی صف میں کھڑی ہوسکتی ہوں ... یقیناًمیرے لیے وہ جادوئی لمحات تھے۔ ششی تھرور کے لیے اس عمر میں جادوئی لمحات وہ ہوں گے جب ایک نوجوان پاکستانی لڑکی نے ان کا انٹرویو کیا اور وہ ان کے وجاہت پر مر مٹی۔ میں جانتی ہوں کہ وہ بہت متاثر کن ہے۔کئی سال پہلے میں انہیں اُ سوقت ملی تھی جب وہ نیویارک میں یواین میں کام کرتے تھے۔ ان کو دیکھ پر پہلا احساس یہ ہوا تھاکہ وہ خود پسند اور پراعتماد انسان ہیں جنہیں اپنی کامیابی کایقین ہے۔ اُس وقت اُن کی ایک کتاب بھی منظرِ عام پر آئی تھی اور نیویارک ٹائمز سمیت ہرکوئی ان کی تعریف کررہا تھا۔ پاکستان میں ہمارے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ نوجوان لڑکیاں صحافت میں آئیں اور اُنھوں نے اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر شہرت کے اس زینے پر پہنچیں جس کا عام انسا ن خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ تاہم ان محنتی اور باصلاحیت خواتین کے علاوہ کچھ ایسی بھی تھیں جنھوں نے اپنے قلم سے کم اور اپنے حسن سے زیادہ نام اور دولت کمانے کی کوشش کی۔ نام لینے کی ضرورت نہیں ، لیکن اس شعبے سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ میں کن کی طرف اشارہ کررہی ہوں۔
سرحد کی دوسری طرف بھی کہانی ایسی ہی تھی۔ ہمارے سامنے آتش تاثیر ، جن کی صحافی والدہ تولین سنگھ(Tavleen Singh) کا معاشقہ سلمان تاثیر مرحوم کے ساتھ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، کی کہانی ہے۔ کیا جانے آتش تاثیر کو مزید کتنی کتابیں لکھنی پڑیں تاکہ وہ اپنے ماضی سے جان چھڑا سکے۔ کرسٹینا لیمب نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے لیے مارنے جانے والے شب خون کی کہانی لندن کے فنانشیل ٹائمز کے لیے لکھی تھی۔تاہم وہ ایک بے بنیاد کہانی تھی، اس لیے اخبار کو معذرت کرنا پڑی اور کرسٹینا کو پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ اس کے بعد اُس نے انتقام لینے کے لیے لند ن جاکرکتاب لکھی ’’Waiting for Allah\'‘‘اور بہت سے وزراء اور فوجی افسران کے نام ظاہر کردیے جو اس کے ساتھ دوستی کرنے کے عوض اُسی کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار تھے۔ ہوسکتا ہے کہ قارئین یہ نتیجہ نکال لیں کہ صحافت میں خواتین، اور وہ بھی نوجوان اور خوبصورت ، زیادہ کامیاب کیوں رہتی ہیں، لیکن یہ بات سو فیصد درست نہیں ۔ کچھ کو ’’استثنا‘‘ حاصل ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر لڑکیاں محنتی ، ذہین اور باصلاحیت ہیں اور کسی ایک آدھ مثال سے سب کے بارے میں منفی تاثر اجاگر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک فطری بات ہے کہ نوجوان لڑکیاں لڑکوں کی نسبت صحافت میں اس لیے کامیاب ہوجاتی ہیں کہ وہ اس پیشے کو دل وجان سے اپنا چکی ہوتی ہیں جبکہ لڑکوں کی نظر کئی اور میدانوں پر بھی ہوتی ہے اور مختلف جگہوں پر قسمت آزمائی سے باز نہیں آتے ہیں۔ صحافت کا شعبہ یکسوئی مانگتا ہے ، چناچہ باصلاحیت اور پرعزم لوگ اس میں کامیاب رہتے ہیں۔
جب میں امریکہ پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے چوراسی سالہ باربرا والٹرز دکھائی دیتی ہے۔ وہ کبھی بہت نوجوان اور دلکش تھی، چناچہ مردوں کی دنیا میں ’’غیر محفوظ ‘‘ تھی۔ شروع میں اس کا ایک سیاہ فام سینٹر، جو اس سے عمر میں تیس سال بڑ ا تھا، کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، لیکن اس کے بعد وہ سنبھل گئی اور اپنی پوری توجہ ٹی وی پر دی۔ اس کے علاوہ این سنک لیر (Anne Sinclair) ہیں جو فرنچ اور امریکی ٹی وی اور ریڈیو پرایک عشرے تک مشہور سیاسی شخصیات کے انٹرویو کرتی رہی یہاں تک کہ وہ آئی ایم ایف کے ایم ڈی ڈومینق سٹراس کاہن کے عشق میں مبتلاہوگئی اور اس سے شادی کرلی۔ تاہم 2011 میں مسٹر کاہن کوایک ہوٹل کی ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی۔پہلے تو این نے اپنے شوہر کا دفاع کرنے کی کوشش کی لیکن پھر علیحدگی اختیار کرلی۔ ششی تھرور کا معاملہ افسوس ناک ہے کہ کیونکہ اس بیوی مرچکی ہے اوراس کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا کیونکہ صحافت کو خوبصورتی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *