اتمام حجت ہوچکا؟

Raufرؤف طاہر

کیا مذاکرات کا آپشن ختم ہوا اور نوبت’’جیسا کو تیسا‘‘ تک پہنچ چکی؟ گزشتہ روز سکیورٹی کی صورتحال پر وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں عسکری قیادت بھی موجود تھی، فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ اب کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور انہیں ان ہی کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ ا دھر مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا بھاری پتھر چوم کرچھوڑ دیا ہے لیکن اپنی ناتوانی کا اعتراف کرنے کی بجائے اس کی ذمہ داری ’’حکومت کی غیر سنجیدگی‘‘ پر ڈال دی ہے۔ 31دسمبر کو وزیر اعظم نواز شریف سے مولانا کی ملاقات کی خبر آئی اور اس کے ساتھ ہی مولانا کا یہ انکشاف بھی کہ وزیر اعظم نے طالبان سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا ٹاسک ان کے سپرد کردیا ہے۔ اس پر ہمارے ایک دوست کا استفسار تھا کیا مولانا یہ بھاری پتھر اٹھاسکیں گے؟ اس سے چار دن قبل27دسمبر کو مولانا لاہور میں تھے۔ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش میں شہید پاکستان ملا عبدالقادر کے لئے رانا نذر الرحمن کی انجمن شہریان لاہور کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے بعد مولانا کونسل آف نیشنل افیئرز کے اجلاس میں تشریف لے آئے۔ جناب جنرل حمید گل بھی ان کے ہمراہ تھے۔2014ء کے افغانستان کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات بھی ہوئی۔ جنرل صاحب کا لہجہ بہت تلخ تھا، البتہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے لئے ان کے لہجے میں نرمی تھی۔ ان کے مطابق چودھری صاحب تو مخلص ہیں لیکن انہیں اندھیرے میں رکھا جارہا ہے کہ’’اصل حکمران‘‘ آپریشن کا فیصلہ کئے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی باتیں تو محض سموک اسکرین ہیں۔ پوچھا گیا ،اصل حکمران کون؟ کیا ان کی مراد امریکہ سے ہے یا وہ فوج کی طرف اشارہ کررہے ہیں؟ جنرل صاحب کا جواب تھا کہ وہ و زیر اعظم نواز شریف کی بات کررہے ہیں۔ عمران خاں اور جناب سید منور حسن کی طرح اپنےجنرل صاحب بھی ہر خرابی کا ذمہ دار نواز شریف کو قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ملک کے بعض حصوں میں کڑاکے کی سردی پڑ، دھند اور سردی نے گزشتہ چار پانچ عشروں کا ریکارڈ توڑ دیا تھا، ہمیں حیرت ہوئی، ان بزرگوں نے اس کی ذمہ داری نواز شریف پرکیوں نہ ڈال دی؟ جناب جنرل کی باتوں کو لوگ سنجیدگی سے کم ہی لیتے ہیں۔ مولانا کی طرف سے جنرل صاحب کی باتوں کی تائید نیم دلانہ تھی۔ نواز شریف پر طالبان سے مذاکرات میں غیر سنجیدگی کے الزام کو سنجیدگی سے لینا خاصا مشکل ہے کہ وہ توہمیشہ سے مذاکرات کے پرجوش حامی اورمؤید ہیں۔ وہ تو امریکیوں سے ملاقاتوں میں انہیں بھی افغان طالبان سے مذاکرات کی تجویز دیتے رہے۔ وہ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا آپشن آزمانے پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایک حد تک طاقت کا استعمال تو کئی سال سے ہورہا ہے۔ فیصلہ کن کارروائی سے قبل کیوں نہ امن کو بھی موقع دے کر دیکھ لیا جائے۔ وہ یہ بات امریکی و مغربی میڈیا سے انٹرویوز میں بھی کہتے رہے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے گئے تو وہاں بھی اسی موقف کا اظہار کیا۔ اکتوبر میں صدر اوباما سے ملاقات میں بھی انہوں نے یہی بات کہی۔ امریکہ میں قیام کے دوران وہ مختلف تقریبات اور میڈیا سے گفتگومیں بھی اسی کا اعادہ کرتے رہے۔
دس ستمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں وہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو مذاکرات کی حمایت میں ایک ہی صفحے پر لے آئے لیکن مذاکرات کوئی آسان کام نہیں تھا۔ باخبر لوگ عسکریت پسند گروہوں کی تعداد60سے اوپر بتاتے ہیں۔ ان میں نصف کے لگ بھگ طالبان کے چھتری کے نیچے ہیں جن میں تقریباً ڈیڑھ درجن موثر حیثیت کے حامل ہیں۔ الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے کا آغاز کہاں سے ہو؟ مذاکرات سے قبل اعتماد کی فضا پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔ اس کے لئے کون کون بروئے کار آسکتا ہے؟ پھر اس میں بہت سا کام بیک ڈور ہونا تھا، یہ کرکٹ کا میچ نہیں تھا کہ بال ٹو بال رننگ کمنٹری ہو اور حکومت لمحہ بہ لمحہ کارروائی سے قوم کو آگاہ کرتی رہے۔ ادھر مذاکرات کے لئے آل پارٹیز کانفرنس کا فیصلہ سامنے آیا، ادھر مذاکرات مخالف اور آپریشن کے حامی اپنا پورا زور لگانے لگے۔ اسی دوران جنرل ثناء اللہ نیازی اور ان کے دو رفقاء دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ مولوی فضل اللہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے میں دیر نہ کی اور جنرل کیانی کو بھی نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تحریک طالبان میں مذاکرات کے حامی عناصر غیر موثر ہونے لگے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا لیکن حکومت ا ب بھی مذاکرات کے آپشن سے دستکش نہیں ہوئی تھی۔ سلیم صافی سے اپنے حالیہ انٹرویو میں وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا کہ مذاکرات کے آپشن کو آزمائے بغیر ترک نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس کے لئے عمران خان، سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق سے اپنا کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کی۔ادھر حکومت امن کو آخری موقع دینے کے موقف پر قائم تھی ادھر دہشت گردی کی کارروائیاں وسیع تر اور شدید تر ہوتی جارہی تھیں۔ دسمبر کے بیس بائیس دنوں میں 47واقعات ہوچکے ،ان میں بنوں چھائونی کا سنگین ترین واقعہ بھی ہے جس میں ایف سی کے22اہل کار شہید ہوئے، پھر راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب چھ فوجی اہلکاروں سمیت14افراد جاں بحق ہوئے۔ مستونگ میں زائرین کی بس نشانہ بنی۔ پولیو ٹیمیں پہلے خیبر پختونخوا میں نشانہ بنتی تھیں اب وہ کراچی میں بھی محفوظ نہ رہیں۔ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش اور اس کے لئے عملی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیوں کا جواز یہ پیش کیا جاتا کہ ابھی مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔ یہ شروع ہوں گے تو سیز فائر بھی ہوجائے گی لیکن عسکری ادارے جوابی کارروائی کریں تو مذاکرات کے آپشن کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کردیا جاتا ہے۔دہشت گردی کی ا ن کارروائیوں کے حق میں یہ’’دلیل‘‘ بھی دی جاتی ہے کہ یہ طالبان کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ ہے تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر’’پوائنٹ آف سٹرنیتھ‘‘ سے بات کریں تو کیا اس کے جواب میں حکومت اور عسکری ادارے لیٹتے چلے جائیں اور’’پوائنٹ آف ویکنیس‘‘ پر پہنچ جائیں۔
وزیرستان میں حالیہ فضائی حملے ناپسندیدہ سہی لیکن کیا ان کا جواز بنوں اور پنڈی میں خود دہشت گردوں نے پیدا نہیں کیا؟ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں
"They asked for it"
مولانا سمیع الحق نے مذاکرات کا بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا ہم سمجھتے ہیں کہ31دسمبر کی ملاقات میں وزیر اعظم نے مولانا کو مذاکرات کے لئے مبینہ پیشکش کرکے ا تمام حجت کردی، ورنہ طالبان پر مولانا کے اثر و رسوخ کی بات اب پرانی ہوچکی۔ وہ خود کو بابائے طالبان کہتے رہے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اب جن عناصر پر مشتمل ہے ان میں سے بیشتر کے لئے مولانا ’’اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو آپریشن سے قبل مذاکرات کے پرزور حامی رہے ہیں۔ اس کے لئے قومی دلائل بھی موجود تھے لیکن یوں لگتا ہے کہ مذاکرات کے حامی ہم جیسے لوگ غیر موثر ہوتے جارہے ہیں اور مذاکرات کی بات نقار خانے میں طوطی کی آواز بنتی جارہی ہے۔ خود عمران خان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے دو تین واقعات اور ہوگئے تو قوم آپریشن کے لئے یکسو ہوجائے گی۔ وہ خود بھی اس پر آمادگی کا اظہار کررہے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ انہیں اعتماد میں لے لیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ ر یاست اپنے شہریوں کے لئے ماں کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اگر کچھ بچے اتنے سرکش ہوجائیں کہ ماں کی نرمی بلکہ لاڈ پیار کو اپنی طاقت سمجھنے لگیں اور ان کی سرکشی تباہی کی آخری حد تک جانے لگے تو ماں کو سختی تو کرنا پڑے گی لیکن کیا خبر اب بھی کوئی معجزہ ہوجائے اور نوبت طاقت کے حتمی استعمال تک نہ پہنچے۔ کاش !اے کاش!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *