پنجاب کی گیس اور وزارت عظمیٰ کا پراٹھا

khalid masood khan

سوچا کہ آج قارئین سے کیا گیا وعدہ پورا کروں اور حلقہ این اے 153 پر کُچھ لکھوں مگر پھر یہ ارادہ ملتوی کر دیا کہ شجاع آباد اور جلالپور پیروالہ کی سیاست پر کالم لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ وہاں کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور تازہ کالم لکھ کر بھی بھیجیں تو چھپنے تک، یعنی اگلے روز صبح تک ساری صورتحال تبدیل ہو چکی ہو گی اور لگے گا یہ کالم گزشتہ سال کا لکھا ہوا ہے۔ ایک آدمی ساڑھی اٹھائے بھاگا چلا جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک پولیس والے نے دوڑ کر پکڑ لیا۔ پولیس والے کو لگا یہ کہ شخص کسی سے ساڑھی چھین کر یا کہیں سے چرا کر بھاگا جا رہا ہے۔ جب اس نے ساڑھی لے کر بھاگنے والے سے پوچھا کہ وہ یہ ساڑھی کس سے چھین کر بھاگا ہے تو اس شخص نے جیب سے رسید نکال کر پولیس والے کو دکھائی اور بتایا کہ وہ بذات خود یہ ساڑھی ابھی ابھی دکان سے خرید کر لایا ہے۔ پولیس والے نے تعجب سے پوچھا کہ اگر وہ یہ ساڑھی خرید کر لایا ہے تو پھر اس طرح سراسیمگی کے عالم میں گھبرایا ہوا بھاگ کیوں رہا ہے؟ پھولی ہوئی سانس سے اس نے جواب دیا کہ یہ ساڑھی وہ اپنی بیوی کے لیے لے کر جا رہا ہے۔ سپاہی نے پھر پوچھا کہ آخر اتنی افراتفری اور ایمرجنسی کیا آن پڑی ہے کہ وہ یوں بگٹٹ بھاگا چلا جا رہا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ مجھے اس کا پہلے بھی تلخ تجربہ ہو چکا ہے اس لیے بھاگ کر گھر جا رہا تھا کہ کہیں تاخیر کی وجہ سے اس ساڑھی کا فیشن نہ بدل جائے۔ شجاع آباد اور جلالپور پیروالہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 152 اور این اے 153 کی سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ ویسے بھی میرا خیال ہے کہ ایک آدھ دن بعد ہی اس پر کالم لکھوں۔ اُمید ہے اس وقت تک اسحاق خاکوانی کے دل کو کسی حد تک قرار آ چکا ہو گا۔
شوکت گجر نے پوچھا یہ گیس کا کیا مسئلہ ہے؟ میں نے پوچھا تمہارا اس بات سے کیا مطلب ہے؟ شوکت کہنے لگا گیس کہاں چلی گئی ہے؟ میں نے کہا پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں چلی گئی ہے۔ شوکت نے پھر سوال جڑ دیا کہ وہاں کیسے چلی گئی ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ 
اٹھارہویں ترمیم کا کارنامہ ہے۔ وہ کیسے؟ اس نے پھر ایک اور سوال کر دیا۔ میں نے کہا کہ دو مرتبہ سے زائد وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ اسی اٹھارہویں ترمیم کا مرہون منت ہے۔ اٹھارہویں ترمیم میں تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی خواہش میں بے حال میاں نوازشریف نے پنجاب کے عوام کو گیس سے محروم کر کے خود اپنی وزارت عظمیٰ کی راہ ہموار کر لی۔ اب خیر سے وہ وزیراعظم ہیں اور پنجاب کے عوام گیس کو ترس رہے ہیں۔ اربوں روپے کی لاگت سے قائم ہونے والاسی این جی کا سیکٹر برباد ہو گیا ہے۔ بلامبالغہ‘ بلاواسطہ یا بالواسطہ لاکھوں لوگ جو اس روزگار سے وابستہ تھے‘ روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ بچے صبح بغیر ناشتہ کیے سکول جاتے ہیں تو گیس کی شان میں ترانے گاتے ہوئے جاتے ہیں۔ مردوزن صبح دفاتر اور کاروبار کو جاتے ہوئے گیس کے قصیدے پڑھتے ہوئے جاتے ہیں۔ جس دن سے میاں نوازشریف آئے ہیں گیس کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے لیڈر اور نمائندہ ہونے کے دعویدار لاہوری بادشاہ نے پنجاب بھر کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر کے اپنی وزارت عظمیٰ گرم کر لی ہے۔ انڈسٹری کو گیس نہیں مل رہی۔ گھروں میں چولہے نہیں جل رہے۔ سی این جی سٹیشن تقریباً ایک سال سے تو مسلسل بند ہیں۔ اس سے پہلے بھی مہینوں بند رہتے تھے اور دوچار ہفتے چلتے تھے۔ شروع شروع میںگیس ہفتے میں دو دن بند رہتی تھی۔ پھر ہفتے میں دو دن ملنا شروع ہوئی۔ پھر ہفتوں بعد دوچار دن ملنا شروع ہوئی ۔اب ایسی بند ہوئی کہ لوگوں نے سی این جی سٹیشن ختم کر کے وہاں دکانیں یا مارکیٹیں بنانی شروع کر دی ہیں۔ جو سی این جی سٹیشن ابھی تک موجود ہیں وہ بھی چل نہیں رہے۔
انڈسٹری کو ہفتے میں دو دن گیس ملتی ہے ۔کوٹ ادو پاور سٹیشن کی آدھی ٹربائینز گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند ہیں۔ لاہور کے نواح میں موجود چار بجلی گھر سفائر‘ ہال مور‘ اوریئنٹ اور سیف پاور مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ فوجی کبیروالہ اور روش پاور عبدالحکیم جزوی بند ہیں۔ اگر پنجاب کو گیس پوری ملتی تو فیصل آباد کا نیچرل گیس سٹیشن چل رہا ہوتا۔ ملتان کا پیراں غائب کے بجلی گھر کا ایک یونٹ چل سکتا تھا اور ملتان شہر میں موجود میسکو پاور ہائوس بھی چل پڑتا مگر میاں صاحب نے پنجاب کی گیس کے عوض اپنی وزارت عظمیٰ پکی کر لی۔ دوسرے لفظوں میں ان کی وزارت عظمیٰ عوام سے چھینی گئی گیس پر چل رہی ہے۔
شوکت ہنسا اور کہنے لگا‘ ان کی وزارت عظمیٰ کی کارکردگی تو گھروں میں آنے والی گیس اور اس پر چلنے والے چولہوں سے بھی زیادہ خراب حالت میں ہے۔ اڑھائی سالوں میں پانچ ہزار ارب روپے قرض لینے کا جو ریکارڈ ‘کشکول توڑنے کے دعویداروں نے قائم کیا ہے ‘کوئی مائی کا لال اسے توڑنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا کل قرضہ انیس ہزار ارب یعنی ایک سونوے کھرب روپے ہو گیا ہے۔ اس ایک سو نوے کھرب میں سے پچاس کھرب روپے یعنی قرضوں کا چھبیس فیصد اڑھائی سال میں جبکہ چوہتر فیصد قرضہ گزشتہ چھیاسٹھ سالوں میں حاصل کیا گیا۔ اگر اس کا مزید تیاپانچہ کریں تو گزشتہ چھیاسٹھ سالوں میں کل ملکی قرضوں کا ہر سال اوسطاً ایک اعشاریہ بارہ فیصد قرض لیا گیا جبکہ گزشتہ اڑھائی سال میں حاصل کیے گئے قرضے جو کل ملکی قرضوں کا ایک چوتھائی سے بھی زیادہ ہیں، اوسطاً دس اعشاریہ چار فیصد قرضے حاصل کیے گئے۔ اوپر سے اسحاق ڈار صاحب اپنی اور حکومت کی کارکردگی پر پھولے نہیں سما رہے۔ موصوف ہر قرض حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ کے آگے خراب اقتصادی پالیسی کی نقشہ کشی کرتے ہیں اور اندروں ملک ہر قرض کے حصول کو اپنی کامیاب اقتصادی پالیسیوں کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ہر قرض کے حصول کی کامیاب کوشش انہیں اچھا وزیر خزانہ تو ثابت نہیں کرتی البتہ انہیں ایک انتہائی کامیاب ''منگتا‘‘ ضرور ثابت کرتی ہے۔
شاہ جی کل صبح ملے تو خاصے ملول تھے۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے‘ آپ نے خبر نہیں پڑھی کہ عوام نے گورنر رفیق رجوانہ کے ملتان والے گھر پر دھاوا بول دیا اور پولیس و سکیورٹی کی ایسی تیسی پھیرتے ہوئے ان کے گھر کے باہر والے صحن میں پہنچ گئے۔ مظاہرین کے علاقے میں پچھلے تین ماہ سے گیس نہیں آ رہی۔ لوگ ایل پی جی کے سلنڈر بھروا بھروا کر تھک گئے ہیں۔ لکڑی اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ غریب آدمی کے لیے اب لکڑی جلانا بھی ممکن نہیں رہا۔ چولہے کُچھ تو مہنگائی نے ٹھنڈے کر دیے تھے باقی رہی سہی کسر گیس نے نکال دی ہے۔ ملتان کے کئی علاقوں میں گیس گزشتہ دو تین ماہ سے مکمل بند ہے۔ بیشتر علاقوں میں یہ حال ہے کہ صبح چھ بجے گیس آتی ہے اور آٹھ ساڑھے آٹھ بجے چلی جاتی ہے۔ اس میں کسی نے پھرتی دکھاتے ہوئے کُچھ کھا پکا لیا تو خیر ورنہ چُھٹی۔اسی طرح رات کو چھ بجے کے قریب گیس آتی ہے اور آٹھ بجے کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ علاقے خوش قسمت ہیں اور جو یہاں رہتے وہ اس پر خدا کا شکر اور حکمرانوں پر تبّرا کرتے ہیں۔ جن کے ہاں گیس مسلسل اور مکمل بند ہے وہ تبرے کے ساتھ ساتھ جھولی اٹھا کر بددعائیں بھی کر رہے ہیں۔ اتنا کہہ کر شاہ جی نے ایک زوردار ٹھنڈی سانس بھری اور دوبارہ مغموم ہو گئے۔
میں نے کہا شاہ جی خیر ہے؟ آپ اتنے دُکھی‘ ملول‘ اُداس اور غمگین کیوں ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے‘ تمہاری اُردو پہلے سے زیادہ تو نہیں لیکن کافی بہتر ہو گئی ہے ۔تمہیں ایک ایک لفظ کے چار چار متبادل و مترادف الفاظ استعمال کرنا آ گئے ہیں۔یہ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں۔ میں نے کہا، شاہ جی قیامت کو قریب لانے میں جتنا حصہ آپ نے ڈالا ہے ہم تو اس کے سامنے عشر عشیر بھی نہیں ہیں ‘تاہم آپ اصل بات بتائیں کہ آپ ملک رفیق رجوانہ کے گھر پر عوامی دھاوے سے رنج و الم کا شکار کیوں ہیں۔ آپ ایسی باتوں پر اس طرح دلگیر و مغموم تو کبھی نہیں ہوئے۔ شاہ جی کہنے لگے‘ میں تمہارے صدقے جائوں !دُکھی‘ ملول‘ اُداس‘ غمگین‘ رنج و الم اور دلگیر و مغموم کو ایک ہی دن بلکہ ایک ہی نشست میں استعمال کر کے تُم نے اپنی اُردو کے بارے میں میرے خیالات کو کافی بہتر کیا ہے ‘تاہم میرے ملال کی وجہ یہ ہے کہ عوام نے بالکل غلط آدمی کے گھر دھاوا بولا تھا۔ میں نے کہا ‘شاہ جی !آپ سے کم از کم یہ اُمید ہرگز نہ تھی کہ آپ ملک رفیق رجوانہ جیسے شریف آدمی کو غلط آدمی کا خطاب دینگے۔ شاہ جی نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا‘ خدانخواستہ میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا جو تُم سوچ رہے ہو۔ میرا مطلب یہ تھا کہ لوگوں نے غلط طور پر ایک شریف آدمی کے گھر پر دھرنا دے دیا۔ ملک صاحب کے تو اپنے گھر گیس نہیں آ رہی۔ اگر ان کے گھر گیس آ رہی ہوتی تو وہ گزشتہ سارا ہفتہ سرکٹ ہائوس میں رہتے؟ اپنے گھر نہ آ جاتے؟ ان کے گھر والے تو خود ایل پی جی بلیک میں خریدتے رہے ہیں۔ ایسے شریف آدمی کو تنگ کرنے کا فائدہ۔ پنجاب کے لوگوں کو شریف آدمیوں کے گھروں پر دھرنا دینے کے بجائے نوازشریف کے گھر کا رخ کرنا چاہیے تھاجنہوں نے اٹھارہویں ترمیم میں پنجاب کی گیس کا سودا کیا تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے عوام نے جس گیس سے اپنے چولہے پر روٹی پکانی تھی اس گیس پر میاں نوازشریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کا پراٹھا تل لیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *