یہ کیفیت عمر بھر کا روگ بھی بن جاتی ہے

ابھی ابھی ایک تحقیق کے سلسلہ میں انٹرنیٹ کی خاک پیمائی کرتے ہوئے ایک تصویر نظر سے گزری تو یوں محسوس ہوا گویا بینائی ہی منجمد ہو گئی ہو ۔۔یہ تصویر تھی سرحدی سیاست کے معروف رہنما باچا خان اور اندرا گاندھی کی جو چھ سات برس کی عمر میں باچا خان کی گود میں مسکراتی ہوئی مانوس سے انداز میں بیٹھی ہیں۔ تو گویا پاکستان کی مٹی سے وابستہ رہنماؤں کو ہمیشہ سے ہی دُشمن یا دُشمن کے بچوں سے ایسی ہی محبت رہی ہے۔۔ یوں تو بچوں سے محبت کرنے میں کوئی بُرائی نہیں، لیکن باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں جس طرح دُشمن نے ہمارے بچوں کا خون بہایا ہے اور اس سےcolumn kahani.noshi gillani پہلے آرمی پبلک سکول میں ہمارے تقریباً دوسو بچوں کے معصوم وجود گولیوں سے چھلنی کیے اس کے بعد ہمارا تو اس فلسفۂ محبت سے یقین اُٹھ گیا ہے کہ دُشمن کا بچہ بھی اپنا ہی ہوتا ہے۔۔ شاید ہو بھی سکتا ہو لیکن جب زندہ آنکھوں سےآرمی پبلک سکول کے بچوں کی خون سے لتھڑی ہوئی کتابیں اور چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیردیکھے ہوں ، آخری سانسیں لینے پہلے سے گلاب سےبچے کے اپنے ہی لہو سے دیوارپر لکھے پیغام کو پڑھا ہو، باپوں کو دہایٔیاں دیتے اور ماؤں کو بلکتے ہوئے سُنا ہو تو پھر دُشمن کو دُشمن نہ سمجھنا ہم جیسے کمزور دل کے بس میں نہیں، چاہے اسے کم ظرفی ہی شمار کیا جائے ۔۔ یہ وہی خان عبدالغفور باچا خان ہیں کہ جنہوں نے تقسیمِ ہند کی سختی سے مخالفت ہی نہیں مزاحمت بھی کی سو ان کے نزدیک پاکستان کو تسلیم کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور انہوں نے تسلیم بھی نہیں کیا ۔ وہ آزادیٔ پشتون کی تحریک کے بھی بانی تھے جو کئی پہلوؤں سے علیحدگی پسند تحریک تھی۔ وہ ۱۹۴۷کی تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی اپنے مخصوص سیاسی نظریات کی بنیاد پر بھارت کی سرزمین پر ایوانِ خاص و عام میں ایک محبوب شخصیت رہے۔ یہاں تک کہ انہیں بھارت کے سب سے بڑے ایوارڈ "بھارت رتنا "سے نوازا گیا اور معلوم و نامعلوم وجوہات کی بنا پر" جواہر لال نہرو ایوارڈ "کا حقدار بھی انہیں ہی سمجھا گیا ۔ گاندہی جی نے باچا خان سے اور باچا خان نے گاندہی جی سے بارہا روحانی وابستگی کا اعتراف کیا۔ گو یہ ایک اچھی بات ہے کہ انہوں نے جو کیا بَرملا کیا، ہمارے آج کے رہنماؤں کی طرح جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔۔ ہو سکتا ہے باچا خان ایسی خوبیوں کے حامل ہوں جن سے ہمیں پوری آگاہی نہ ہو پھر بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔۔ کہ یہی ایک ہمسایہ مُلک ہی کیوں ان کی اس حد تک پذیرائی کرتا رہا۔ کہیں یہ معاملہ تو نہ تھا کہ ۔۔ وفاداری بشرط استواری؟؟؟ تاریخ گواہ ہے کہ سرکار کی گود میں بیٹھی یہ بچی اندرا گاندھی جب بڑی ہوئی اور ملکی و سیاسی اختیارات کے حصول کے قابل ہوئی تو اس نے کشمیر سمیت ہر مقام، ہر سطح پر مسلمانوں ےلیے اپنے تعصبات کے عملی مظاہرےکیے۔۔۔ ہم جس مذہب کے ماننے والے ہیں اس میں بھی خیر و شر کی قوتوں کو جدا کرکے دیکھا گیا ہے۔ ان کے لیٔے جزا وسزا کے معیارات الگ الگ مقرر کیے گیٔے ہیں۔ بلکہ جائزہ لیا جاۓ تو تمام معاشرے ، تمام مذاہب، تمام باغی، منفی اور مثبت فکری نظام کو جداگانہ نظر سے دیکھتے ہیں جن کو اسلام خیر و شر کا نام دیتا ہے ۔۔ اور ایک ہم ہیں کہ جو برسوں سے سیکولرازم کے نام پر ہر طرح کے مغالطے تسلیم اور تقسیم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ سیکولرازم کی اصل تعریف تو یہ ہے کہ ہر مکتب ہر مسلک ہر ثقافت کے افراد مکمل آزادی و حقوق کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔۔ لیکن ہوا کیا ۔۔۔اس ازم کے زیرِ اثر مسلسل جبر کی فضا ہے جس نے محصور کیا ہوا ہے اور یہ جبر کسی ایک مخصوص سوچ رکھنے والے افراد یا گروہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ سب کے سب  یہ طوراپنائے ہوئے ہیں ۔ پاکستان بننے سے پہلے نہ بعد میں اکثریت نے نہ دوقومی نظریہ کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کے قیام کے مقاصد کو۔ ہجرت کا تجربہ بالعموم اپنے ابتدائی عرصہ میں انفرادی یا اجتماع سطح پر ،انسانوں کے اعصابی نظام کو کمزور کرتا اور کچھ نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار کردیتا ہے۔ نئی شناخت کو کھوجنے اور تعمیر کرنے کی مشقت میں۔۔ پیچھے رہ جانے والے یا کھوئے ہوئے منظر بہت خوش نما محسوس ہونے لگتے ہیں چاہے وہ کتنے ہی اذیت ناک کیوں نہ رہے ہوں ۔۔ ہجر زدہ ذہن سے اُٹھنے والی سوچیں انہی یاد کے سرابوں کے گرد رقص کرنے لگتی ہے اور خوش خیالیوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔، اسے سایٔیکٹری کی زبان میں Delusional Thinking بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ روّیہ صرف نئی زمین میں اپنی جڑیں مضبوط ہوجانے نے تک ہی ہوتا ہے یا ہونا چاہیٔے لیکن بعض اوقات یہ کیفیت عمر بھر کا روگ بھی بن جاتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے ہماری اکثریت کو بھی اس اور اس جیسے کئی نفسیاتی الجھاؤ لاحق ہوتے گیٔے جس کے نتیجہ میں ملک کا کبھی کوئی مضبوط آئینی نظام نہ بن سکا ۔ ہمارے اہلِ علم( اکیڈیمیا) و اہلِ قلم( انٹیلیجینشیا) کی اکثریت عجیب عجیب اعلان ناموں میں مقّید ہو کر رہ گئی۔ کہیں رجایٔت پسندی کا بازار گرم ہوا تو کہیں ہر بے معنی سوچ، ترقی پسندی کے نام پر فروخت ہونے لگی ۔۔ جبکہ اصل علّامہ اور سچّے ترقی پسند ،اس بے ہنگامۂ ہاؤ ہُو سے تنگ آ کر گوشہ نشیں ہوتےگئے - انسان کا بے ساختہ پن مفقود ہوتا گیا۔۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر نعرہ بازی اور ذہانت کے نام پر چرب خیالی کو رواج ہوگیا۔ یہ کہنے کی اجازت چاہوں گی کہ اب کئیطرح کے مدارس وجود میں آ چکے ہیں ۔ کچھ مدارس مذہب یا مسلک کے نام پر تو کچھ مدارس ترقی پسندی کے نام پرمستحکم ہو چکے ہیں جن کی ایک مثال این۔جی۔اوز بھی ہیں ۔۔ بد قسمتی سے ہماری دھرتی اور اس کی سرحدوں کو مُلایٔیت اور اینٹی مُلایٔیت دونوں دھڑوں نے ایک جیسا نقصان پہنچایا۔ پاکستان اور امریکہ میں ہم نے بھی خود بھی عمر کے کتنے ہی ماہ و سال اسی جنگ و جدل میں یا اس کے آس پاس گزارے ۔۔ بڑی بڑی جیّد و ماورائی شخصیات و تنظیموں کو بہت قریب سے رہتے سہتے دیکھا ۔۔ بہت کچھ مشاہدہ اور تجربہ میں آیا۔۔ پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھے شاعروں ادیبوں کو مستعار لیے گیٔے نظریات پر بحث کرتے ہوۓ دست وگریباں ہوتے دیکھا، پَردوں کے رنگوں سے میچ کرتی کتابوں والے ٹھنڈے ڈرائنگ رومز میں سگار پیتے دانشوروں کو مہنگے سگار کے دھویٔیں اُڑاتے کچی آبادی کے مکینوں کی حالتِ زار پر روتے دیکھا۔۔ ہزاروں کے مجمع میں کھڑے ہو کر انقلاب کی نظمیں سنانے والوں کے بیوی بچوں کو انقلاب کے لیٔے ترستے دیکھا ۔۔ جرنیلوں کے خلاف نظمیں لکھ کر جرنیلوں سے ہی ان کی قیمت وصول کرتے دیکھا ۔۔ اور حیرت و مزاحمت کےدور سے گزرنے بعد یہ سیکھا کہ بیشتر جھگڑے مفادات کے ہیں۔۔ مفاہمت بس میں نہ تھی اس لیٔے کنارہ کیا کہ ہم روایت و عدم روایت کے درمیان شب و روز بسر کرنے والے اُس قبیلہ سےہیں جو سود و زیاں کے ہنر سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ سو راہ بدل لی، چکی پیس اور روٹی کھا !!!!
( آج کے شعر۔۔۔جن کے خالق جناب مقسط ندیم صاحب ہیں )
میرے باپ نے ہجرت کی تھی مَیں نے نقل مکانی
اُس نے اک تاریخ لکھی تھی، میں نے ایک کہانی
کبھی کبھی کرتے ہیں صحرا اتنی بڑی سخاوت
ایڑی مارے سے ملتا ہے کسی کسی کو پانی
مَیں نے قیس کو خط لکھا ہے آؤ آکر دیکھو
جنگل سے بھی زہریلی ہے شہروں کی ویرانی
مجھ کو تو تقدیر کا قائل ہونا ہی پڑتا ہے
مقسط مَیں دہقان کا بیٹا کھیت مِرے بارانی

یہ کیفیت عمر بھر کا روگ بھی بن جاتی ہے” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 31, 2016 at 9:48 AM
    Permalink

    "کبھی کبھی کرتے ہیں صحرا اتنی بڑی سخاوت
    ایڑی مارے سے ملتا ہے کسی کسی کو پانی"

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *