دہشت گردی کی نئی وجہ:جنسی بھوک

daesh-girls-slaves-isis-300جہادیوں کو مبارک ہو! ان کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں ، دنیا جہنم بن رہی ہے اور ان کو نت نئے مجاہد اور مجاہدات مل رہی ہیں۔
The Economist کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق بوکو حرام ’ نامی نام نہاد اسلامی تنظیم ’ اسلامی شریعت‘‘ کے نفاذ پر ادھار کھائے بیٹھی ہے ۔ نہ صرف نائیجیریا بلکہ افریقہ کے ایک وسیع علاقے میں امن و امان کی بگڑی ہوئی فضا کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بہت محدود ہو چکی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں اور بیسیوں شہر تباہ ہو چکے ہیں، اس کی وجہ سے بے روز گاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے ، غربت میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ اس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ ایک سروے کے مطابق بوکو حرام میں شمولیت اختیار کرنے الے ایک نوجوان نے بتایا میرے جیسے متعدد نوجوان صرف بھوک کی خاطر اس میں شامل ہوئے ہیں کیونکہ ان کو کہیں نوکری نہیں ملی جبکہ اس تنظیم نے انہیں ٹریننگ دی اور روٹی چھین لینے کا ہنر سکھایا۔ ایک دوسرے نوجوان نے کہا : اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو آپ شادی نہیں کر سکتے، اس لیے میں شادی کا انتظام کرنے اس میں شامل ہوا ہوں ۔ رپورٹر کو تیسرے لڑکے نے کہا کہ تنظیم نے دشمن عورتوں کو اپنے پاس رکھا ہے ، یہ لونڈیاں ہیں ، ہم مجاہدین کی جنسی آسودگی کا سامان مہیا کرتی ہیں لیکن یہ صرف سینئر ’’ مجاہدہدین ‘‘ کو دستیاب ہیں ۔ ان کا حصول ہر مجاہد کا خواب ہوتا ہے۔
تجزیہ نگار کا کہنا ہے بوکوحرام اور اس طرح تنظیموں کے سردار بڑے مال دار لوگ ہیں ۔ نائیجیریا تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن کرپٹ حکومت کی وجہ سے عوام اس کے فوائد سے محروم ہیں۔ ان حالات میں دہشت پسند تنظیمیں لو گوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ،اور ان کے سردار کرپٹ حکومتی نمائندوں سے بھاری تاوان یا حفاظت کے نام پر چندہ وصول کرتے ہیں اور گارڈ بھرتی کرتے ہیں ۔افریقہ میں امیر بزنسمینوں ، کرپٹ سیاستدانوں او ر جہادی لیڈروں میں تعددِ ازواج کا رواج ہے ۔نوجوان لڑکیاں ادھیڑ اور بوڑھے عیاش لوگوں کے بستر گرم کرتی ہیں ، جبکہ غیر شادی شدہ نوجوان فرسٹیشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے نوجوان بھی اپنی تمناؤں کی آسودگی کے لیے ان تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں۔
کم و بیش یہی صورت حال اب مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں ہے ۔ عر ب ممالک میں خاص طور تعدد ازواج ( ایک سے زیادہ بیویوں )کا رواج ہے اور غریب نوجوان جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے داعش کی پر کشش نوکری ، لونڈیوں اور مجاہدات بیویوں سے لذت اندوز ہونے کے لیے بھرتی ہو رہے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق اب داعش کی نظریاتی بیس ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بجائے جنسی آسودگی ، ایڈونچر س لائف اور تھرل سے بھرپور ’’پروفیشن ‘ کو اختیار کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگ زیادہ ہیں۔ مغربی ملکوں سے شامل ہونے والی لڑکیاں بھی جنسی ایڈونچر کی تلاش میں داعش میں شامل ہو رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *