سب سے پہلے مشرف

babar sattarبابر ستار


ذرا پیچھے مڑیں۔ کیڈٹ کالج حسن ابدال کو دیکھیں۔آپ اسے ایک بارہ سالہ نوجوان کی حیثیت سے جانتے تھے۔آپ کبھی اس کا تذکرہ نہیں کرتے۔اگر آپ ایک ٹیم کے طور پر جیت جاتے تو کریڈٹ سب کا ہوتا۔اگر آپ ناکام ہو جاتے تو سینئر ذمہ داری اپنے سر لے لیتے۔یہاں تک کہ اگر آپ کسی بڑے مسئلے میں پھنس جاتے اور کالج یا آپ کے سینئرز نے نظم و ضبط کے معاملے میں آپ کی سرزنش کرنا ہوتی تو اس معاملے میں اپنے ساتھ کسی اور کو کبھی شامل نہ کرتے۔ حتیٰ کہ اپنے ساتھ شرارت کرنے والوں اور مدد کرنے والوں کو بھی نہیں۔آپ ٹیم کے لئے مار کھاتے۔ یہ احترام کا وہ طریقہ تھا کہ جو غیر رسمی انداز میں نوجوان کیڈٹس کوسکھایا جاتا تھاتاکہ ان کا کردار تشکیل پاتا اور مسلح افواج کے اس ابتدائی سکول سے متعلق ہونا ان کے لئے فخر بن جاتا۔
اور اب ہم جنرل مشرف سے ملتے ہیں جو اپنے آپ کواس ادارے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے سب کچھ پایا۔اسے ایک ایسے وقت میں مٹی میں گھسیٹ رہے ہی کہ جب فوج نہ تو اس کی سکت رکھتی ہے اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہے۔ مشرف سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ قیادت کی یکسوئی کا کیا مطلب ہے۔کیا وہ کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایمانداری سے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ آئین توڑنے کے خلاف تھا اور یہ اس کے باوردی یا بے وردی مشیر تھے کہ جنہوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ آئین توڑے؟ حوصلے اور عزت کو بھول جائیں، مگر سوچ کی اس نفاست یا بلندی کے متعلق آپ کیا کہیں گے کہ جو آپ کوچند دیگر چیزوں کو اپنی ذات سے برتر مقام دینے کا کہتی ہے؟
یہاں ہمارے ’’پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگانے وا لے مشرف کی جانب سے قانونی، سیاسی اور ضابطے کے دلائل پیش کئے جارہے ہیں ۔ ان کا ٹھوس قانونی دفاع یا اصولی مؤقف یہ ہے کہ انہوں نے کبھی آئین نہیں توڑاکیونکہ 1973ء کا آئین تو درحقیقت آئین ہی نہیں ہے۔ سارا ملک شاید 1973ء سے اب تک اس جھوٹے خیال یا فریب کے تحت زندگی گزار رہا ہے کہ ہم ایک مقدس بنیادی قانون کے حامل ہیں۔لیکن سارا ملک غلط ہے۔1973ء کا آئین ایک درست آئین ساز اسمبلی نے منظور ہی نہیں کیا تھا ، اس لئے وہ مشرف کو کسی کام پر ہر گز مجبور نہیں کرتا۔
اس دلیل کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ پاکستان میں سب آزاد ہیں۔کوئی بھی شخص جس کے پاس طاقت ہے وہ ملک پر حکومت کر سکتا ہے ۔ ذرا تصور کریں۔۔۔۔ اگر اس دلیل کو عدالت حقیقتاً تسلیم کر لے تو پھرطالبان یا بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف ہمارا کیس کیا رہ جاتا ہے؟ اگرکوئی نظریہ، نظریہ ضرورت سے بڑھ کر خوفناک یا تباہ کن ہو سکتا ہے تو وہ یہی ہے کیونکہ یہ ایک کامیاب انقلاب کو درست یا آئینی قرار دیتا ہے۔کون جانتا تھا کہ ماہر اور شاطر بوڑھے پیرزادے کو کبھی زنگ نہیں لگے گا!
مغربی سرپرستوں سے مشرف کی درخواست جو ان کے برطانوی وکلاء کے ذریعے کی گئی، یہ ہے کہ یہی وہ وقت ہے کہ جب انہیں خدمات کا بدلہ چکانہ چاہئے۔مشرف نے امریکی قیادت میں لڑی جانے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں غیر مشروط طور پر شمولیت کی۔لہٰذا ان کی خدمات اور وفاداری کے بدلے میں اب مغرب کو ان کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے۔واقعی؟ کیا مشرف کے خود اپنی کتاب میں کئے ہوئے بہت بڑا شکاری ہونے کے اعتراف نے ہمیں کافی نقصان نہیں پہنچا دیا کہ جس کے مطابق، انہوں نے بغیر ضابطے کی کارروائی کے پاکستانیوں اور غیرملکیوں کو امریکہ کے حوالے کیا ؟ یا کیا ان کی اس کتاب کے بعد ہونے والے ان انکشافات نے ہمیں کافی نقصان نہیں پہنچا دیا کہ جن کے مطابق، مشرف نے ڈرون حملوں میں مدد کے لئے ہوائی اڈے امریکہ کے حوالے کئے؟
کیا مشرف امریکہ اور برطانیہ کو اپنے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت کرنے اور پی ایم ایل این کی حکومت یا فوج کا بازو مروڑنے کے لئے دعوت دے رہے ہیں کہ وہ عدالت پر ان کا ٹرائل نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں؟ کیا امریکہ کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ پاکستان کو قرض کی رقم کی ادائیگی مشرف کاٹرائل روکے جانے سے مشروط ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے کہ امریکہ اب اس رقم کی ادائیگی کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کر چکا ہے؟کیا ایسی غیر ملکی مداخلت ملک کے بہترین مفاد ، اس کی خودمختاری ، قانون کی حکمرانی اور ادارا جاتی ارتقاء کے لئے موزوں ہو گی؟
ضابطہء کار کے متعلق مشرف کی دلیل یہ ہے کہ اس کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہئے اور سول عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہئے۔اگر وہ برا نہ منائیں توآرٹیکل چھ واضح طور پریہ کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو آئین توڑتا ہے وہ بغاوت کا ملزم ہے(یہ واحد جرم ہے جس کی تعریف آئین خود کرتا ہے)۔ یاد رکھیں کہ پارلیمان نے ریاست کے خلاف بغاوت سے متعلق قانون 1973ء میں لاگو کیا۔ یہ قانون بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اختیاروفاقی حکومت کو دیتا ہے ، نہ کہ فوج ۔
چلیں اب ذرا کچھ دیر کے لئے قانون کو بھول جائیں۔ فرض کریں کہ خصوصی عدالت کو کورٹ مارشل کی دلیل کو تسلیم کرنا پڑے۔ کیا آپ پسند کریں گے کہ جونیئر افسروں کا ایک پینل ایک سابق آرمی چیف پر مقدمہ چلا رہا ہو اور اسے سزا دے رہا ہو؟اگر وہ انہیں کلین چِٹ دے دیتے ہیں توکیا ایسا حکم قابلِ یقین یا منصفانہ سمجھا جائے گا؟کیا یہ فوج کے اداراجاتی مفاد کے لئے درست ہو گا کہ اسے میڈیا کی کھلی ہوئی آنکھوں کے سامنے اس اختلافی مسئلے میں گھسیٹ لیا جائے؟ کیا اس کا محض ایک مبصر کا کردار ہی دباؤ ڈالنے کے لئے کافی نہ ہوگا؟
یہ دلیل دینا کہ حکومت کو ریاست کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اس وقت اور اس طرح نہیں شروع کرنا چاہئے تھا، ایک بات ہے۔یہ دلیل دینا کہ مقدمے کو شروع کرنے کے بعد فری طور پر نمٹا دیا جاناچاہئے تھا، دوسری بات ہے۔پہلے، مقدمہ نہ شروع کرنے سے متعلق جو بھی عملی تحفظات پر مبنی سیاسی دلائل موجود رہے ہیں، اب وہ غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر قانون کو جھکانے اور مشرف کو فرد جرم یا مقدمے سے بچانے کے لئے غیر اخلاقی سمجھوتے، حکومت، عدلیہ اور فوج کی اصول پرستی کو نقصان پہنچائیں گے۔
مشرف کو دوسروں کو اقدامات اٹھانے سے روکنے یا جمہوریت کو مضبوط کرنے کی نہیں، اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ان کو پوری توجہ سے صرف اور صرف خود کو درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ قانون توڑتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ ان کو خصوصی عدالت میں پیش ہونے دیں۔ان کو ایک طویل مقدمے کے ذریعے ملک اور فوج کو بے عزتی کا موضوع بنانے کی بجائے یہ تسلیم کرنے دیں کہ انہوں نے آئین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اور ان کو پاکستان کے لوگوں سے معافی مانگنے دیں۔
قانون کی حکمرانی سزا کی شدت نہیں ، سزا کے یقین کا مطالبہ کرتی ہے۔پہلے مشرف کو اعتراف جرم کرنے دیں، اس کے بعد بے شک اصولوں پر سمجھوتہ کئے بغیر، آگے کا سفر جاری رکھنے کی خاطر اسے معاف کر دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *