خاندانی منصوبہ بندی ۔۔۔ ہے کیا؟

Collage of a family spending time together at home

یہ اس سلسلے کا دوسرا کالم ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنی رائے دے سکتے ہیں ( ایڈیٹر)
فیملی پلاننگ یعنی خاندانی منصوبہ بندی کے اصل معنی یہ ہیں کہ جب ایک مرد و عورت آپس میں شادی کر کے ایک خاندان کی بنیاد ڈال لیں تو اب اس خاندان کے متعلق پوری سوچ اور اس سوچ کی بنیاد پر عملی قدم خاندانی منصوبہ بندی ہے ۔اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ پہلے بچے کی تمہید کب باندھی جائے،دوسرے بچے کے لیے کب کوشش شروع کی جائے ۔بچوں کی تعلیم ،صحت ،تفریح اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں ۔گویا یہ ایک وسیع ا صطلاح ہے جس میں خاندانی زندگی کے تمام پہلو وں سے متعلق پلاننگ شامل ہے ۔مثلاً اگر کسی جوڑے کے ہاں اولاد نہ ہو رہی ہو تو یہ نعمت حاصل کرنے کے لئے تگ و دو اورعلاج معالجہ بھی فیملی پلاننگ کا ایک حصہ ہے ۔اس ا صطلاح کا مطلب جیسے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بچوں کی کسی مخصوص تعداد سے نہیں ہے ۔ موجودہ حالات میں اسی سے ملتی جلتی دو مزید ا صطلاحات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ایک Planned Parenthoodہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک انسان والد یا والدہ بنے تو وہ ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ہو ۔دوسری اصطلاح Reproductive Healthیعنی تولیدی صحت ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک خاتون ماں بننے لگے تو اس پورے عرصے میں اس کی اور جنین( (fetusکی پوری حفاظت کی جائے اور جب تک نومولود ماں کا دودھ پی رہاہے تو اس وقت کے دوران میں ماں اور بچے کی صحت کا پورا خیال رکھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ طبی اور نفسیاتی اعتبار سے وہ خاتون اگلے بچے کی پیدا یش کے لیے پوری طرح تیار ہے یا نہیں ۔گویا یہ تینوں مثبت اصطلاحات ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کی تعمیر کے فوراً بعد اس کے ہر ہر اجتماعی پہلو سے متعلق سوچ بچار کیا جائے ،ہر فیصلہ انتہائی ہوش مندی اور شعور کے ساتھ کیا جائے اور اس فیصلے میں تمام طبی ،سائنسی ،معاشرتی اور نفسیاتی عوامل کا خیال رکھا جائے۔
پلاننگ کے متعلق قرآن مجید کی عمومی ہدایات
اس دنیا میں تمام کام دو طریقوں سے انجام پاتے ہیں ۔ایک طریقہ وہ ہے جس میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ۔مثلاً سیلاب ،طوفانی بارشیں ،زلزلے وغیرہ پھر موسم تبدیل ہوتے ہیں ۔ان چیزوں کے انسان پر بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں ،مگر ان کے سامنے انسان بے بس ہوتا ہے اور بے بس کیوں نہ ہو ،اس کائنات میں زمین کی حیثیت سمندر میں ایک قطرے جیسی بھی نہیں ۔اور پھر کائنات بھی ایسی جو لاتعداد قوانین و ضوابط میں جکڑی ہوئی ہے ۔جس سے یک سرموانحراف نہیں ہوتا۔ تاہم کاموں کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے ۔اس طریقے کے مطابق کچھ کاموں کا ذریعہ اور سبب انسان بنتا ہے مثلاً طبی ترقی کی وجہ سے آج بے شمار بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ریڈیو ،ٹی وی،فون ،فرج،اےئرکنڈیشنر اور موٹر گاڑی کی بدولت آج کا ایک عام آدمی ہزار سال پہلے کے ایک بادشاہ کے مقابلے میں اچھی زندگی بسر کرتا ہے ۔آج انسان سر بفلک عمارات بنانے پر قادرہے۔کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے پوری دنیا کو ایک برادری میں تبدیک کر دیا ہے ۔نیوکلئیر ٹیکنالوجی نے ترقی اور ہلاکت خیزی ،دونوں کے دروازے کھول د یے ہیں۔موٹرویز اور ہوائی جہازوں نے فاصلے کا مفہوم بدل ڈالا ہے۔ یہ تمام کام جنھیں ایک انسان اپنے عقل و شعور کی بنا پر اپنے اختیار میں سمجھتا ہے اور اس کا وجدان اور حس اسے اس بات پر آمادہ کر تی ہے کہ وہ ان تمام میدانوں میں مسلسل ترقی کے راستے پر گامزن رہے، اسے کبھی قرار نہ آئے اور ہمیشہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہے ۔انسان کی آج تک کی تمام علمی، فکری اور سائنسی ترقی اسی طریقے سے ہوئی ہے ۔اس کے متعلق قرآن مجید نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ ایسے اختیاری معاملات میں انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے اور راہ عمل متعین کرتا ہے ،اگر وہ بلحاظ مجموعی انسانیت کے مفاد میں ہو اور اس سے انسانیت کو کسی بڑے نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو انسان کی یہی کوشش پروردگار کا فیصلہ بن جاتی ہے ۔ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کی کوشش خود اس نے کی۔(النجم)
گویا پروردگار کسی کا عمل ضائع نہیں ہونے دیتا خواہ وہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ البتہ اگر انسان کی کوئی کوشش بلحاظ مجموعی عالم انسانیت کے خلاف ہو اور اس سے کوئی برائی اس طریقہ سے پھیلنے کا امکان ہو جس سے نیکی کی آواز بالکل ختم ہو کر رہ جائے یا جس سے روئے زمین پر عام تباہی پھیل جائے تو ایسی ہر کوشش پروردگار کے فیصلے کے تحت ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ ارشاد ہے: اگر اللہ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہے توخانقاہیں اور گرجا اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجد یں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ،سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ سورہ الحج ۔مزید ارشاد ہے: اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا ،مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے والا ہے۔ (البقرہ)
جتنے کاموں کو انسان بظاہر اپنے اختیار میں سمجھتا ہے ،ان کے متعلق پروردگار نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ ان تمام کاموں کو انجام دیتے وقت وہ علم، فکر،عقل،تدبر ،اور حکمت سے کام لے ۔گویا کوئی کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں اچھی طرح غور و خوض کرے ،جدید ترین علم کے مطابق اس کے لیے نقشۂ کار مرتب کرے،عقل کی روشنی میں اس کو جانچے اور پرکھے،تمام حالات کا جائزہ لے کر ایک منصوبہ مرتب کرے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے اس منصوبے پر عمل پیرا ہو ۔اس منصوبہ بندی میں جتنی مشکلات حائل ہو ں،تدبر اور حکمت کے ساتھ ان کا توڑ کرے اور مسلسل آگے بڑھتا رہے۔قرآن مجید میں یہ ہدایت اور اس سے متعلق اشارات ایک سو سے زیادہ مرتبہ آئے ہیں۔(مثلاً سور ۂ بقر ہ۔،سورۂ انفال، سور ۂ طہٰ سور ۂ زمر ۔ اور کئی مزید آیات)
بچے کی پید ایش بھی ا نھی اختیاری کاموں میں سے ایک کام ہے ۔ایک مرد و عورت اپنی آزادانہ مرضی سے شادی کرتے ہیں ۔اس کے بعد بچوں کی تمہید بندھتی ہے۔ہر بچے کی پیدا یش اگر چہ اللہ ہی کے حکم سے ہوتی ہے، مگر اس کا ذریعہ اور سبب انسان بنتا ہے ۔گویا انسان کی کوشش کو پروردگار اپنی مشیت کے تحت روبہ عمل ہونے دیتا ہے ۔چنانچہ انسان کو اپنے خاندان میں اضافے کی کوشش کرتے وقت علم ،فکر،عقل،تدبر اور حکمت سے پورا پورا کام لے کر اپنی طرف سے پوری منصوبہ بندی کرنی چا ہیے اور نتیجہ پروردگار پر چھوڑ دینا چا ہیے۔قرآن مجید نے نسل انسانی کی کھیتی کو زمین کی فصل سے تشبیہ دی ہے ۔کھیتی اللہ ہی کے حکم سے اگتی ہے، مگر اس کا ذریعہ اور سبب انسان بنتا ہے ۔ارشاد ہے: کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جو نطفہ تم ڈالتے ہو، اسے تخلیق کرنے والے تم ہو یا ہم ہیں تخلیق کرنے والے۔۔۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ جو بیج تم بوتے ہو، کیا اس سے کھیتی تم اگاتے ہو یا اس کے اگانے والی ہم ہیں۔؟ (الواقعہ)
انسان زمین سے فصل اگانے میں اپنی پوری عقل و تدبیر استعمال کرتا ہے ۔اگر وہ زمین کو بروقت کھاد اور پانی نہ دے تو فصل ٹھیک نہیں اگتی اور اگر وہ فصل کا پورا خیال رکھے تو غالب امکان یہی ہے کہ فصل اچھی اُگے گی ۔چنانچہ جس طرح انسان زمین سے فصل لینے میں عقل و علم استعمال کرتا ہے ،اسی طرح اسے نسل انسانی کی کھیتی اگانے میں بھی عقل و علم اور تدبیر کا استعمال لازماً کرنا چاہیے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *