عزیز بلوچ کی دولتیّ بمقابلہ سائیں شاہ اور رینجرز کی ہتھ جوڑی

Px30-068 KARACHI: Jan30 - Ranger personnel seen escorting back the main suspect of Lyari gang war Uzair Jan Baloch after his hearing in Sindh High Court. ONLINE PHOTO by Anwar Abbas یہ تاثر عام تھا کہ اس دفعہ سائیں سرکار قائم علی شاہ پچھلی دفعہ سے زیادہ اَڑی دکھائیں گے اور رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کی دستاویز پر اتنی آسانی سے دستخط نہیں کریں گے لیکن جب سے کچھ پر اسراربڑوں کے عزیزم عزیز بلوچ نے پی پی کے کھڑپیچوں کے خلافْ ْدرفنطیاں چھوڑیں ہیں ، منظر نامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے۔
اس موقع پر ہمیں جنگ عظیم کا ایک بہادر ’’گدھا ‘‘ یاد آگیا۔ تفصیل اس قصے کی یہ ہے کہ جون سمپسن ایک بہادر آسٹر یلوی رضا کار تھا۔ وہ پہلی جنگ عظیم میں ا نپے گد ھے ڈفی Duffy))کے ساتھ شر یک ہوا۔ اس نے 25اپریل 1915ء کو گیلی پو لی کے محاذ پر شرکت کی۔ وہ انپے گد ھے پر ز خمی فو جیو ں کو اٹھا تا اور میڈ یکل کیمپ منتقل کر د یتا۔ سمپسن نے انپے آرام و سکون کا خیال کیے بغیر متعدد زخمیوں کی بر وقت مد د کی اور کئی قیمتی جا نیں بچائیں۔ اس کے گد ھے ڈفی نے اس مہم میں اس کا پورا ساتھ دیا۔ صرف یہی نہیں کہ تڑ تڑاتی گو لیوں میں ڈفی خوف زدہ ہو ئے بغیر انپے ما لک کے سا تھ ڈیوٹی بجالاتا رہا بلکہ ایک دفعہ اس نے ایک زخمی سپا ہی کو گہری کھائی میں گر نے سے بچا یا۔ ہو ایوں کہ اس پر سوار زخمی سپاہی نیچے گر پڑا ۔اس سے قبل کہ وہ لڑھک کر کھائی میں گر پڑتا ،ڈفی نے اس کی ٹا نگ منہ سے پکڑ لی اور اسے بچالیا۔ سمپسن نے تعریف میں اس کی پیٹھ تھپکی۔ ایک دوسر ے کار نامے میں ڈفی نے ایک ز ہر یلے سانپ کواس وقت دولتی جھاڑ کر مار ڈالا جب وہ انپا پھن پھیلا ئے ایک زخمی قیدی کو کا ٹنے والا تھا مگر افسوس یہ اس کا آخری کا ر نا مہ تھا ۔
در اصل اس روز محا ذ جنگ سے ایک زخمی کو محفوظ مقام پر پہنچا تے ہوئے گو لیوں کی آواز سے ڈفی بدک گیا۔ وہ سمپسن اور زخمی کو لے کر ایسی جگہ چلا گیا جہاں بارودی سر نگیں بچھی ہوئی تھیں ۔ہو سکتا تھا کہ ڈفی یہاں سے بھی بچ نکلتا لیکن اس نے غلطی سے ایک بارودی سرنگ کو دولتی جھاڑدی۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا۔ وہ تینوں’’ شہید ‘‘ہو گئے۔
ہم نہیں جا نتے کہ مو جود ہ صورت حال میں عزیر بلوچ ، وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ ، رینجرز اور پی پی کے ’’بڑے لیڈروں میں ’ڈفی‘ کون ہے’ سمپسن‘ کون اور ز خمی کون؟ لیکن ایک بات بہر کیف واضح ہے وہ یہ کہ کو ئی بھی ا یڈو نچر اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ آپ دولتی بم پر جھا ڑرہے ہیں یا سانپ پر! اور اس بات کا ’علمِ غیب‘ ہونا بھی ضروری ہے آپ کا ’’ڈفی‘‘ کب برستی گولیوں سے بدک جائے گا اور موت کی وادی میں کھس جائے گا۔ چلتے چلتے ایک اور حقیقت جو اس واقعے سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ کرائے کا بدمعاش ہو یا’’ مجاہد‘‘۔۔۔۔ اسامہ بن لادن ہو یا صدام حسین ، عزیر بلوچ ہو یا صولت مرزا انجام سب کا ایک ہی ہوتا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *