زمین کی پیدائش کا نیا نظریہ

birth_of_the_earth1_img جدید سائنس کے آغاز سے پہلے زمین کے بننے کے بارے میں بڑے دل چسپ نظریے پائے جاتے تھے۔ کوئی کہتا کہ زمین دیوتاؤں کا کھلونا ہے تو کوئی اسے بیل کے سینگوں پر رکھا ہوا سمجھتا ۔ آخر مذہب نے اسے تخلیق قرار دیا۔ آخری نظریہ یہ تھا کہ زمین ایک عظیم دھاکے سے وجود میں آئی ہے۔ اسے بگ بینگ تھیوری کہا گیا۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے ۔ امریکی سائنسدانوں کے مطابق ہماری زمین ساڑھے چار ارب سال قبل دو سیاروں کے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ یعنی ایک قیامت اس زمین کے بننے سے پہلے آئی تھی ۔ لاس اینجلس میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین اور تھیئا نامی ایک چھوٹے سیارے کا تصادم اتنا زوردار تھا کہ اس کے نتیجے میں دونوں مل کر ایک نیا سیارہ بن گئے۔( لیکن پھر یہ تصادم تو نہ ہوا، ایک عظیم الشان ’’ جپھی ‘‘ ہوئی۔) اس تحقیق کے لیے رقم امریکی خلائی ادارے ناسا، ڈیپ کاربن رصد گاہ اور یورپی تحقیقاتی کونسل نے فراہم کی تھی اور یہ ’’سائنس ‘‘نامی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔ان کے مطابق جب یہ تصادم ہوا تو زمین کی اپنی عمر صرف دس کروڑ سال تھی تو یہ واقعہ پیش آیا۔ زمین اور تھیئا کے تصادم کے بارے میں پہلے بھی معلومات موجود تھیں تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے اندازوں کے برعکس یہ تصادم کوئی رگڑ نہیں بلکہ آمنے سامنے سے ہونے والا ٹکراؤ تھا۔اس رپورٹ کے مرکزی محقق پروفیسر ایڈورڈ ینگ کا کہنا ہے کہ اسی تصادم کے نتیجے میں ان کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر زمین کا چاند بھی بنا۔تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چاند سے لائی جانے والی چٹانوں کا تجزیہ بھی کیا اور انھیں ہوائی اور ایریزونا کے آتش فشانوں کی چٹانوں جیسا پایا۔ گویا اس بات کو تقویت پہنچی کہ چاند کبھی زمین کا حصہ تھا۔ پروفیسر ایڈورڈ ینگ کے مطابق نظامِ شمسی میں صرف دو اجرام ایسے ہیں جن کے آکسیجن آئسوٹوپس بالکل ایک جیسے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ ان میں فرق کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران تھیئا زمین اور چاند میں مکمل طور پر ضم ہوگیا تھا اور اسی لیے چاند اور زمین میں پائے جانے والے تھیئا کے نشانات میں فرق نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *