جب کشمیر پلیٹ میں رکھ کر بھارت کے حوالے کیا گیا !(قسط۲)

naeem-baloch1راجہ ہری سنگھ کی یہ حرکت پاکستان اور کشمیر کے عام مسلمانوں کے لیے انتہائی ناقابل قبول تھی۔ لہٰذابھارتی فوج کے پہنچنے سے پہلے راجہ کیخلاف بغاوت پوری طرح پھیل چکی تھی۔ پاکستان کی حمایت یافتہ جماعت مسلم کانفرنس کے رضاکارسردار ابراہیم کی قیادت میں’’ کشمیری مجاہدین ‘‘مظفر آباد تک کا علاقہ فتح کر چکے تھے۔ ا دھر جب ھندستانی فوج کشمیر پہنچی تو اس نے جموں میں بلوائی نما غیر فوجی رضاکاروں کو بہت جلد قابو کر لیا۔ تب پاکستان نے اپنی فوج کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا لیکن ہماری فوج کے انگریز ی سپہ سالار جنرل گریسی نے قائداعظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ وجہ بڑی ’’ قانونی ‘‘ تھی۔ بھارت اور پاکستان کی افواج کا سربراہ ایک تھا اوروہ کیسے اپنے ایک ماتحت کو دوسرے ماتحت کے خلاف لڑنے کی اجازت دیتا۔اور جنرل گریسی اگر اپنے آفیسر کی حکم عدولی کرتا تو یہ ایک قسم کی بغاوت ہوتی۔ اس مشکل کا پاکستان نے یہ حل نکالا کہ فوج کے ایک حصے کو چھٹی پر بھیج دیا اور وہ کشمیر کے محاذ پر یہ ’’چھٹی منانے‘‘ چلے گئے۔ان میں پاکستان کے سب سے سینئر جنرل اکبر خان بھی شامل تھے جو نہ صرف اپنے ماتحتوں کے ساتھ موجود تھے بلکہ’’ جذبہ جہاد‘‘ سے سرشار کشمیری اور سرحدی مجاہدین کی رہنمائی کر رہے تھے۔ان کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں اب باقاعدہ جنگ کی نوبت آگئی ۔ مورخ اس بات پر حیران ہے کہ اس موقع پر جنرل گریسی نے استعفاکیوں نہ دیا؟ بہر کیف اقوام متحدہ کی مداخلت کی وجہ سے فائر بندی ہو گئی۔ بھارتی وزیر اعظم نہرو نے کشمیر میں ریفرنڈم کی پیش کش کی لیکن قائداعظم نے اسے ٹھکرا دیا۔ وجہ بھارتی حکومت پر بھروسا نہ ہونا تھا۔ بعد میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے نتیجے میں جب ریفرنڈم کی بات ہوئی تو بھارتی حکومت نے ایسا نہ ہونے دیا۔
یہاں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے متعلق جان لیں کہ کشمیر کے متعلق بارہ قرار دادیں پاس ہوئیں ۔ یہ جنوری1948سے لے کر دسمبر 1957کے درمیان میں منظور کی گئیں۔ان میں کئی قرارد یں عملاً بھارت کے حق میں تھیں اور نظری طور پر پاکستان کے حق میں ہیں۔یہ تمام قراردیں شیڈول سات سے تعلق رکھتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نوعیت اصل میں سفارشی ہے ۔فریقین میں سے کوئی بھی اسے ماننے سے انکار کر سکتا ہے اور ان پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے۔ یعنی یہ سب پاکستان کے کسی کام کی نہیں ۔ اور ایسا کیوں کیا گیا ، اس کا جواب ہم نے پہلے دے دیا تھا کہ امریکا اور برطانیہ چاہتے ہی نہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو۔ ہما را کامل یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر ان طاقتوں کا بچھایا ہوا وہ جال ہے جس میں دونوں ملک آج تک پھنسے ہو ئے ہیں ۔
انھی دنوں کی بات ہے کہ جب حیدرآباد اور کشمیر دونوں کا تنازع چل رہا تھا کہ ماؤنٹ بیٹن اور سردار پیٹیل مذاکرات کے لیے پاکستان آئے ۔ اس موقع پر بھارت کی طرف سے تجویز آئی کہ حیدر آباد پر ہمارا حق مان لیں۔ہم کشمیر پر آپ کا حق مان لیں گے۔ یعنی اس وقت بھارت خود کشمیر ہمیں دینے کو تیار تھا لیکن ہمارے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں چند پہاڑیوں کی خاطر حیدرآباد دکن کو چھورڑدوں ؟یوں یہ سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا اور اس وقت کی قیادت نے پلیٹ میں رکھ کر کشمیر بھارت کے حوالے کر دیا۔ یہ بات پاکستان کے  وزیراعظم چودھری محمد علی نے اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں لکھی ہے۔(جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *