قرآن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہے ؟

untitled (5) ہمارے ایک قاری آصف بن خلیل نے سوال کیا ہے قرآن کے پا نچویں پارے کے شروع میں متعہ کا ذکر موجود ہے۔ کیا اس آیت میں متعہ کی اجازت دی گئی ہے یا عربی میں نکاح ہی کو متعہ کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے سکالر محمد رفیع مفتی نے دیا ہے۔ قارئین اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ ( ایڈیٹر )
نکاح اور متعہ میں فرق ہے۔ نکاح میں مرد و عورت زندگی بھر کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں، جبکہ متعہ میں وہ کم یا زیادہ بہرحال، ایک متعین مدت تک کے لیے یہ تعلق قائم کرتے ہیں۔ عربوں کے ہاں متعہ رائج تھا، لیکن اسلام نے اسے حرام قرار دے دیاہے۔
قرآن مجید کی جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا ہے ، وہ درج ذیل ہے:
وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ.(النساء)
ترجمہ:اور ان (محرمات) کے ماسوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں، اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو، اُن کو نکاح میں لے کر، نہ کہ بدکاری (مادۂ منویہ بہانے) کے طور پر، پس ان میں سے جن سے تم نے فائدہ اٹھایا ہو تو ان کو ان کے مہر دو، فریضہ کی حیثیت سے۔ مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہوتو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
یہی وہ آیت ہے جس کے سرخ الفاظ سے متعہ کو ثابت کیا جاتا ہے، لیکن ان سے متعہ کو ثابت کرنا بالکل غلط ہے، کیونکہ یہ آیت جس سیاق و سباق میں آ رہی ہے، اس میں پہلے اُن خواتین کا ذکر ہے جو نکاح کے لیے حرام ہیں، پھر فرمایا کہ ان کے ماسوا نکاح کے لیے حلال ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم ان سے وقتی بدکاری (مادۂ منویہ بہانے) کے طور پر تعلق قائم نہ کرو، بلکہ باقاعدہ نکاح کر کے عورت کو اپنی حمایت و حفاظت میں لو اور انھیں ان کے مہر دو، چنانچہ اِن حلال عورتوں میں سے جن سے تم باقاعدہ نکاح کر کے زن و شو کا تعلق تو قائم کر چکے ہو، لیکن تم نے ابھی ان کے مہر نہیں دیے، اُنھیں اُن کے مہر دو، پھر مہر کی اس ادائیگی کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے اس میں کوئی کمی بیشی کر لیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
اس آیت میں اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ کے وہ الفاظ موجود ہیں، جن کا مطلب ہی یہ ہے کہ تم ا ن کے طالب بنو مال (مہر) کے ذریعے سے، ان سے نکاح کرکے انھیں اپنی حمایت و حفاظت میں لیتے ہوئے، نہ کہ وقتی بدکاری (مادۂ منویہ بہانے) کے طور پر تعلق قائم کرتے ہوئے۔ چنانچہ یہ آیت دراصل متعہ، جو کہ وقتی نکاح ہوتا ہے اور جس میں اصلاً مادۂ منویہ بہانے کے سوا نہ اولاد اور نہ عورت کی مستقل حفاظت و حمایت، اس طرح کا کوئی مقصد پیش نظر نہیں ہوتا، اُس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر رہی ہے۔ لہٰذا اس کو متعہ کے حق میں کسی طرح بھی پیش ہی نہیں کیا جا سکتا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *