آپ فلسفہ ویلنٹائن کی دھجیاں نہیں اڑا رہے؟

fal
(حماد اللہ کا نقطہ نظر)
پرابلم محبت سے نہیں،محبت کی بدنامی سے ہے۔محبت اور عشق خوبصورت جذبات کے نام ہیں۔ اور ان پاکیزہ جذبوں کی آڑ میں راہ چلتی خاتون پر پھول پھینکنا ، شراب کی محفل سجانا ، مخلوط رقص کا اہتمام کرنا سراسر زیادتی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ہم جب باقاعدہ کوئی دن مناتے ہیں تو کیا حشر کردیتے ہیں خواہ وہ دن مذہبی ہو یا تاریخی شائد یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ہر معاملے میں انتہا پہ پہنچتا ہے اور وہی انتہا پھر خوفناک شکل اختیار کرلیتا ہے جسکے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے ہیں - آتے ہیں ویلنٹائن پر
کیا مرحوم نے راہ چلتی دوشیزہ پر پھول پھینکا تھا ؟
کیا مرحوم اپنی محبوبہ کو شراب کی محفل میں لے جا کر ٹن کرواتا تھا ؟
کیا مرحوم اپنی محبوبہ کو رقص و سرور کی محفل میں بیہودہ ناچ دیکھا رہا تھا؟؟؟؟
چلو مرحوم غریب لاچار تھا اسکے بس کی بات یہ تھی ہی نہیں تو کیا مرحوم کے خواہشات یہی تھے ؟؟؟؟؟
کیا مرحوم نے آپکو یہی تعلیم دی ؟؟؟؟
اگر آپکا جواب ہاں ہے تو پھر تو آپکے ساتھ ہم بھی کھڑے ہیں شوق سے منائیں ویلنٹائن لیکن انکے یہی تعلیمات پر آپکو پھر پوری طرح عمل بھی کرنا پڑیگا
ظاہر ہے آپ محبت کے علمبردار جو ٹھرے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر مرحوم کے تعلیمات یہ نہیں تو پھر آپ اسکے نام پر شراب ، شباب ، کباب کی محفلیں سجا کر چرس کے دھویں اور شراب کی بوتلیں خالی کروا کر اس کو بھی سرخ گلابیں بھیج کر جو بےچاری آپکی نجس خیالات سے آگاہ ہی نہیں اور انکیلئے مسائل کھڑے کر کے آپ فلسفہ ویلنٹائن کی دھجیاں نہیں اڑا رہے ؟؟؟؟ محبت بےشک کریں لیکن محبت کو اپنے گندے خیالات سے بدنام نہ کریں۔ صرف یوم ویلنٹائن ہی نہیں ہم تو ( نام نہاد ) اسلامی ایام منانے کے بھی خلاف ہیں جس کی اجازت ہر گز دین نے نہیں دی بلکہ یہ ایام آگے چل کر بدعات اور پھر وہ بھیانک شکل اختیار کرتے ہیں کہ دین بےچارے کو منہ چپانا پڑ جاتا ہے۔ یہی معاملہ یوم ویلنٹائن کا بھی ہے دو افراد کی شخصی محبت اور پھر سزایئں جزایئں وغیرہ تاریخ کا حصہ ہیں اور ایسے واقعات تاریخ سے مٹائے نہیں جا سکتے لیکن ان کے نام پر پورے معاشرے کو ننگا کرکے رکھ دینا خود تاریخ رقم کرنے والوں کے ساتھ ظلم ہے زیادتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *