نج کاری اور عوامی مفاد

Najam Sethi

ؒٓپی ایم ایل (ن) کی حکومت نے لازمی سروس ایکٹ نافذ کرتے ہوئے پی آئی اے کے کارکنوں، جو ایئرلائن کی نجکاری کیخلاف ہڑتال کررہے تھے، کو دبانے کی کوشش کی۔ دو کارکن اس کوشش میں جاںبحق ہو گئے جبکہ ہزاروں مسافر بھٹکتے رہے جبکہ ملک کی جگ ہنسائی ہوئی۔ قرضوں میں جکڑی ہوئی ایئرلائن کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں کا نقصان پہنچا ۔حکومت چھ ماہ کیلئے اپنے نجکاری کے منصوبے کو رروکنے کیلئے تیار ہو چکی ہے جس سے صرف آئی ایم ایف کوتکلیف ہوئی ہے لیکن مظاہرین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔چنانچہ یہ مسئلہ ابھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔اس معاملے کے صحیح اور غلط پہلو کیا ہیں؟سب سے پہلی بات یہ ہے کہ احتجاج کرنا سب کا حق قانونی ہے ۔ لیکن جب یہ دوسرے کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہو تو اسے روکا جاتا ہے۔احتجاج کی قانونی حیثیت اس کے مطالبات کی قانونی حیثیت کے مطابق ہونی چاہئے جب وہ دوسرے آئینی تقاضوں یا عوامی مفادات سے متصادم ہو تو اس کی حمایت نہیں کی جاتی، لیکن پھر سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔اسی طرح کے مزید دلائل مسائل کے حل کے لئے طاقت کے استعمال کے حق میں دئیے جا سکتے ہیں۔قانون کو قائم رکھنے کے لئے طاقت کا استعمال موجودہ ریاست کی اہم قانونی ضرورت ہے۔لیکن یہ ایک خاص حد تک مشروط ہے اور اسے چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ایک فریق قومی مفاد کے خلاف ہے کیونکہ وہ غیر موثر ، مہنگی، کرپٹ اور احتساب سے مبرا ہونا چاہتا ہے، جبکہ عوام کے نزدیک وہ پہلے ہی قومی خزانے پر بوجھ ہے۔ اب مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ پی آئی اے غیرفعال اور بھاری تعداد میں عملہ رکھنے والا ادارہ ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے اسے پبلک سیکٹر کا ادارہ بنانے کی بجائے سیاسی سرپرستی کیلئے ملازمت فراہم کرنے والا ادارہ بنا دیا ۔اسلئے اب یہ خزانے پر بوجھ ثابت ہو کر مسلسل مالی امداد کا تقاضا کررہا ہے اور ان پیسوں کو ہڑپ کررہا ہے جو عوامی فلاح و بہبود کے دوسرے منصوبوں پر زیادہ بہتر طور پر خرچ ہو سکتے تھے۔اندرونی اصلاحات کو باہر نکال پھینکا گیا ہے کیوں کہ پبلک سیکٹر سروس کے قوانین کو عدالتیں ضرورت سے زیادہ تحفظ دیتی ہیں۔آگے بڑھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کسی اسٹرٹیجک سرمایہ کار کو مکمل انتظامی اختیارات کے ساتھ آگے لایا جائے تاکہ بہترین حکمت عملی کے ساتھ اسے صحیح رستے پر گامزن کیا جاسکے۔اس سے نا صرف قومی ایئرلائن کی تنزلی کا عمل رکے گا بلکہ تعمیر نو اور ملازمین کے احتساب کا عمل بھی شروع ہو گا۔یہی اصل مسئلہ ہے۔ پی آئی اے یونین کو یقینی طور پر یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ یہ سب کیسے ہو گا اور ان کے جائز مطالبات کو پرائیویٹ سیکٹر کے لالچی سرمایہ کاروں سے کیسے تحفظ ملے گا؟ لیکن ان کوحکومت کو بلیک میل کرنے کا اور عوام کو پریشان کرنے کا کوئی حق نہیں۔نہ وہ غیر شفاف اور غیر موثر طریقے سے کام جاری رکھ کر یہ توقع رکھیں کہ عوام ان کا بل ادا کرتے رہیں گے۔پی پی پی کی حکومت نے اس کا ایک مناسب حل ترک ایئرلائن اور پی آئی اے کے درمیان اسٹرٹیجک الائنس کے طور پر سوچا تھا۔
اس میں یہ شامل تھا کہ مغرب کی طرف جانے والی پروازوں کو ترکوں کے سپرد کر دیا جائے اور مشرقی پروازوں کے آپریشن کو پھیلا دیا جائے۔لیکن ان یونینز کے جارحانہ رویے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔اب پی ایم ایل (ن) کی حکومت اتحاد ایئر لائن سے بات چیت کر رہی ہے۔ یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ائیر لائنز کا اتحاد مشترکہ طور پرعوامی مفاد میں منافع بخش ثابت ہو گا۔اس طرح کی نجکاری سے اگرسروس کی صلاحیت ، روٹس اور جہازوں کی تعداد میں قا بل ذکر اضافہ ہوتا ہے تویہ فائدہ مند ہے۔ فنانس منسٹری اور عالمی بینک کے تعاون سے گولڈن شیک ہینڈ بھی غیر ضروری اسٹاف کے مسئلے پرقابو پانے میں مدد دے گا۔ اگراسے مناسب اور شفاف طریقے سے کیا جائے تو قومی مفاد کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے نجکاری کے ایشوکو یہ کہہ کر مبہم کرنے کی کوشش کی کہ ملازمین کے مفادات کو نقصان نہیں ہوگا، لیکن کوئی بات واضح نہ کی۔ اس پر یونین کے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ ہڑتال کے خاتمے کیلئے طاقت کا استعمال کرے۔تھوڑی سی معقولیت کا مظاہرہ طرفین کو ناروا تشدد کی راہ اپنانے سے بچا سکتا تھا۔ پیداہونے والی افسوس ناک صورت حال کی وجہ سے اپوزیشن کو میدان میں قدم رکھنے اور حکومت کو پریشان کرنے کا موقع مل گیا۔ ظاہر ہے اپوزیشن ایسے معاملات ، جس میں حکومت کو زچ کرنے کا موقع ہاتھ آئے، میں ملکی مفاد کو نہیں دیکھتی۔ جب 1990ءکی دہائی میں بینکوں کی نجکاری کی گئی( اور اس کی وجوہ بھی وہی تھیں جن کی وجہ سے پی آئی اےکو نجی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا)تواسی طرح ملازمین کی تعداد اور انکے مسائل سامنے آئے تھے اور اُنہیں حل کرنا پڑ اتھا۔ جب پی پی پی کی گزشتہ حکومت نے کراچی اسٹیل ملز کی نجکاری کی کوشش کی تو میڈیا اور سپریم کورٹ نے اس عمل کو روک دیا،حالانکہ اسٹیل ملز پاکستان کا سب سے بڑا سفید ہاتھی بن چکی ہے۔ اُس وقت بھی ملازمین کا مسئلۂ تھا ،چنانچہ قومی مفاد کو پس ِ پشت ڈال دیا گیا۔ کوئی بھی یہ بات نہیں سوچتا کہ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے بھاری بھرکم اسٹاف کو تنخواہیں کس طرح دی جائیںگی؟ ریاستی ادارے ان کا بوجھ کتنی دیر تک برداشت کرسکتے ہیں؟موجودہ معاملے میں اچھی بات یہ ہے کہ، چلیں قدرے تاخیر سے ہی سہی، حکومت اور پی آئی اے یونین میں کسی قدر سمجھوتہ ہوگیا۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا میں ڈاکٹر وں کی ہڑتال رہی اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی معطل رہی۔ اس طرح پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر بھی دبائو پڑا کہ وہ لازمی سروس ایکٹ کو معطل کرے۔ امید ہے کہ پی آئی اے کے ایشو سے خیبر پختونخوا کے رہنما نے سبق لیا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *