کیاثقافت انتہا پسندی کا تریاق ہے؟

Ayesha Siddiqa

انتہا پسندی کے مقابلے پر تازہ بیانیہ لانے کی بازگشت اسلام آباد میں تواتر سے سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ریاست اور حکومت معاشرے کو انتہا پسندی سے نجات دلانے کامنصوبہ بنا چکی ہیں، بلکہ اس لییے کہ عالمی برادری، خاص طور پر عطیات فراہم کرنے والوں کی توجہ حاصل کرنے کا یہ ایک عمدہ حربہ ہے۔اس کی ایک وجہ داعش کا بڑھتا ہوا خوف بھی ہوسکتا ہے۔ وزارتِ داخلہ اور آئی ایس پی آر کے دعووں کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں، اس کے سیاہ سائے کہیں کہیں دکھائی ضرور دیتے ہیں۔ ہاں، داعش کی موجودگی کی حدود کا پاکستان اور افغانستان میں تعین کرنے پر اختلافات ضرور ہوسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے ہاں اس کا تنظیمی ڈھانچہ نہ ہو اور نہ ہی اس کی قیادت اور واضح کارکن موجود ہوں۔ دراصل داعش ایک مختلف طریقے سے کام کرنے والی تنظیم ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے کشمکش کا شکار علاقوں میں اپنا فعال تنظیمی ڈھانچہ رکھتے ہوئے ایشیا سمیت دنیا بھر کے افراد اور گروہوں سے روابطہ کرتی ہے۔ پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کی موجودگی سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے جب کہ پنجاب اور سندھ سے سینکڑوں افراد شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں؟اس حقیقت کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ لوگوں کو انتہا پسند بنانے کے لیے بہت مربوط کوشش ہورہی ہے ۔ اس کوشش میں ایک مرحلہ ایسا ضرور آتا ہے جب وہ افراد خود ہی ’’مقدس جنگ ‘‘ لڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
تاشفین ملک سے لے کر لاہور کی کچھ خواتین تک، جو الھدیٰ نامی تنظیم کی تبلیغ سے متاثر ہوکر ’’امت کے لیے جنگ ‘‘ کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئی تھیں۔ ایسالگتا ہے کہ اہم مقامات پر موجود سرکاری افسران، جو دھشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں، کے ذہن میں کسی طور خیال موجود ہے کہ اس عفریت کا مقابلہ کلچر کو فروغ دے کر کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ روایتی میلوں ، ادبی تہواروں اور دیگر پروگراموں کے انعقاد سے بھی انتہا پسندی کا تدارک کرنے میں مددمل سکتی ہے۔یہ اندازہ لگا یا جاتا ہے کہ سینکڑوں افراد کا پرامن اجتماع، جس میں دھشت گردی کی کوئی کارروائی نہ ہو، دنیا کو تاثر دے سکتا ہے کہ پاکستان میں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ اور ماحول توانا ہوتا جارہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہماری تمام کوششوں کا حاصل انسدادِ دھشت گردی ہے ، لیکن انتہا پسندی کے خلاف کچھ نہیں کیا جارہا ۔ اس سے قطع نظر کہ کیا ریاست ایسا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے،لیکن اس کا کم از کم فرض شہریوں کو سکیورٹی فراہم کرنا ہوتی ہے۔
تاہم اس سے بھی اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ کلچر کو فروغ دینے سے اُن کا مقصد پورا ہوجائے گا؟کیا وہ درحقیقت یہی سوچ رہے ہیں کہ میلے اور تہوار عوام کو انتہا پسندی سے دور لے جائیں گے؟میں ان افراد کی توجہ پنجاب بھر میں کمرشل تھیٹروں کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں۔ ان میں تھیٹروں میں دکھائی جانے والی پرفارمنس کو اگر مجرا نہیں کہا جاسکتا تو اس سے کم بھی کوئی لفظ نہیں۔ جتنا چھوٹا قصبہ ہوگا، اتنی ہی عریاں اور فحش پرفارمنس دکھائی جائے گی۔ اس شو میں صرف مرد ہی ہوتے ہیں، جبکہ سٹیج پر لڑکیاں پرفارم کررہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ کو ایسا کوئی شو دیکھنے کا اتفاق ہو تو آپ کو اُس علاقے کے مقامی مذہبی افراد بھی وہیں دکھائی دیں گے، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے چہرے چھپانے کی کوشش میں ہوں، لیکن وہ پہنچانے جاسکتے ہیں۔ اس موقع پر اُن کی نظروں کا تعاقب کریں ، اُن کی محویت کا مرکز دیکھیں !اور ایسا کچھ صوبے کے بہت سے مزارات پر ہونے والے میلوں میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہاں آپ کو عورتوں سے نفرت کرنے والی ذہنیت بھی دکھائی دے گی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تہواروں میں انتہا پسند آکر لبرل نہیں، مزید انتہا پسند اور جنونی بن جاتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ موسیقی یا رقص کوئی بری چیز ہے ، بلکہ یہ کہ اس کے ذریعے آپ لوگوں کی سوچ پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ اس حقیقت کو فراموش مت کر یں کہ جنوبی پنجاب، جو انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا گڑھ ہے ، میں لاتعداد مزارات موجود ہیں اور وہاں ہونے والے میلوں میں طوائفوں کا رقص اور منشیات کا استعمال عام دیکھنے میں آتا ہے۔جو لوگ نشے کا عادی نہیں ہوتے ، وہ بھی ان مواقع پر کش لگانے سے باز نہیں آتے۔
بہرحال جس دوارن ہمارے ہاں انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے، میلے اور تہوار اپنی جگہ پر جاری تھے۔ تاہم جن علاقوں میں طالبان موجود تھے ، اُنھوں نے میلوں اور میلاد کے اجتماعات کو طاقت سے روکنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں کراچی میں منگو پیر میں شہیدی میلے کو روکوانے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اندورن سندھ کے کچھ حصوں میں میلاد کے اجتماعات کو بھی روکاگیا۔ تاہم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگرچہ سندھی معاشرے میں بھی نسائیت سے نفرت کی جذبات موجود ہیں لیکن وہ بنیاد ی طو رپر انتہا پسند معاشرہ نہیں۔
ریاست انتہا پسندی کا تدارک کرنے کی خواہش مند دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اس کے لیے طویل حکمتِ عملی درکار ہے ۔ سیاسی طبقے اور سرکاری افسران کے درمیان مغلوبہ بننے والی پالیسیوں کا محور انتخابی کامیابی کے سوا کچھ نہیں ہوتا،اور پھر عطیات فراہم کرنے والے بھی ’’بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے‘‘۔ چنانچہ دھشت گردی کے خلاف اعدادوشمار ہی کافی ہیں، بیانیہ تبدیل ہونے کو کون دیکھتا ہے۔ ہاں اس کو اپنی گفتگوکا لازمی حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ مناسب تاثر چلاجائے۔ مختصر یہ کہ انتہا پسندی کے خلاف کوئی حکمت اس وقت تک کارگر نہیں ہوگی جب تک سٹریٹجک بنیادوں پر ایک نیا بیانیہ آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ اس کے لیے بنیادی طور پر ذہن بدلناہوگا۔ مثال کے طور پر اُس وقت تک سوچ تبدیل نہیں ہوگی جب تک یہ باور نہیں کرایا جائے گاکہ پاکستان ایک نیشن سٹیٹ ہے ، پوری امتِ مسلمہ کا محافظ قلعہ نہیں ؟ سٹریٹیجک سطح پر ریاست کو اپنے اہداف کا ازسرنو تعین کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ کیا مذہب کا تعین کرنا ریاست کا کام ہے؟یقیناً ریاست کو 1973ء کے آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم کو ختم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہماری تزوراتی سوچ کا محور ایک برادر اسلامی ملک کے گرد گھومتا ہے ۔اس سے بھی باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان مذہب سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ، بلکہ یہ کہ وہ اپنے اُس ماحول سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں جس سے وہ ستر سال قبل جدا ہوگئے تھے۔
انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ریاست کو بھارت مخالف بیانیے کو بھی بدلنا ہوگا۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے کہ ہمیں کسی سے فوجی خطرہ نہیں ، یا یہ کہ ہم کشمیر کو بھول جائیں،لیکن انڈیا اور پاکستان کے مسائل کو ہندو اور مسلمان کے مسائل بنا کر نہ پیش کیے جائیں۔ یقیناًمدرسوں میں اصلاحات درکار ہیں، لیکن اُنہیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ قانون کا اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *