کائنات اتفاقیہ بنی یا منصوبے سے؟

picریاضی کا قانون اتفاق (Mathematical Law of Chance) اس امرکی گواہی دیتا ہے کہ اس کائنات، زمین اور زمین پر موجود زندگی کی گونا گونی کا محض اتفاقاً وجود میں آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ قانون اتفاق کوکریسی ماریسن نے اس طریقے سے سمجھایاہے کہ اگر دس سکے لیے جائیں اور ان پر ایک سے دس تک نشان لگا دیے جائیں۔ پھر ان کو آپس میں ملاکر جیب میں ڈال دیا جائے اور اب ان کو اس طر ح ترتیب کے ساتھ نکالنے کی کوشش کی جائے کہ ایک سکے کو نکالنے کے بعد ہر دفعہ اس کو دوبارہ جیب میں ڈالاجائے۔اب اگر امکانات کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا امکان کہ نمبر ایک کا سکہ پہلی بار نکل آئے دس میں ایک ہے۔ یہ امکان کہ ایک اور دو بالترتیب نکل آئیں ،سو میں ایک ہے ۔یہ امکان کہ ایک دو اور تین نمبر بالترتیب نکل آئیں، ہزار میں ایک ہے۔ حتی کہ یہ امکان کہ ایک سے دس تک تمام سکے بالترتیب نکل آئیں ، دس ارب بار یوں میں صرف ایک بار ہے۔
اب آئیے دیکھیں کہ زندگی کے سب سے بنیادی زندہ خلیے کو اتفاقاً وجود میں آنے کے لیے کیا کچھ چاہیے ۔ ان خلیوں کی تعمیر کا سب سے اہم جزوپروٹین ہے ، جوکہ پانچ کیمیائی عناصر سے مل کر بنتا ہے۔ کائنات میں یہ تمام عناصر بالکل بے ترتیب شکل میں پڑے ہیں۔ یہ امکان کہ صرف ایک پروٹین کے بنیادی عناصر محض اپنے مخصوص تناسب میں اکٹھے ہی ہو جائیں (ابھی اس میں زندگی پیدا ہونا توبعد کی بات ہے ) اس کے لیے مادے کی اتنی بڑی مقدارکی ضرورت ہے،جس میں روشنی ایک کھرب x کھربxکھربxکھرب xکھربxکھربxکھرب xکھرب سال سفر کرسکے(یعنی ایک کھرب کوآٹھ مرتبہ کھرب سے ضرب دیجیے )۔ یہ مقدار ہماری موجودہ کائنات سے ناقابل تصور حد تک زیادہ ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس تمام مادے کو پانچ ہزار کھرب فی سیکنڈ کی رفتار سے۲۳ہزار کھرب سال تک (یعنی ایک کھرب کو تئیس مرتبہ کھرب سے ضرب دی جائے( آپس میں ملا کر ہلایا جائے تب محض ایک پروٹین کے اجزاصحیح تناسب میں اکٹھے ہوسکیں گے ، جب کہ اس کے مقابلے میں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کائنات کی عمر صرف پچاس کھرب سال ہے۔کائنات کا تمام مادہ آپس میں ایک دوسرے سے اتنا دور ہے کہ اس کے آپس میں مل کر ہلنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہ زمین تو محض دوارب سال سے موجود ہے ۔ اس بات سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ زمین تو کیا ، پوری کائنات کی عمر اور اس کا مادہ بھی محض ایک پروٹین کو اتفاق کے ذریعے سے وجود میں لانے کا سبب نہیں بن سکتا اور پھر یہ تو صرف ایک پروٹین کے سلسلے میں بات ہوئی ، ایک زندہ خلیے کے لیے تو اس سے کئی گنا زیادہ دوسرے مواد کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اور ایک زندہ جسم میں اس کے کھرب ہاکھرب خلیے ہوتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک خلیے میں زندگی کیسے آئی ؟ یہاں قانون اتفاق بھی ہماری کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ سائنس اور انسانی عقل اس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکتیں۔ پس قانون اتفاق ہمیں بتاتاہے کہ محض اتفاق کے بل بوتے پر زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *