محبت کے تین مغالطے

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

دنیا میں عا شق سے زیادہ مظلوم اور محبوب سے زیادہ سنگ دل کوئی نہیں ہوتا‘عاشق کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ اس کا عشق سچا ہے اس لئے ایک دن اس کا محبوب قدموں میں آ گرے گا ‘جبکہ محبوب کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ عاشق اس سے یونہی دیوانہ وار محبت کا دم بھرتا رہے گا چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے ۔دونوں کچھ عرصے تک محبت کے فرضی لبادے اوڑھے رہتے ہیں مگر پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب عاشق کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی ’’سچی‘‘ محبت کسی دوسرے کے ساتھ گاڑ ی میں بیٹھ کر آئس کریم کھانے چلی گئی ہے‘ اس روزعاشق کو پتہ چلتا ہے کہ محبت دراصل کئی مغالطوں کا مجموعہ ہے ۔اسی مجموعے میں سے آج تین مغالطے پیش خدمت ہیں :
محبت کا پہلا مغالطہ یہ ہے کہ محبت میں جسمانی ملاپ ضروری نہیں ‘فقط روحانی محبت سے بھی کام چل جاتاہے۔ یہ مغالطہ دراصل ناکام عاشقوں کی دین ہے ‘اس قسم کے عاشق جب کسی پر فریفتہ ہوتے ہیں اور جواب میں انہیں لفٹ نہیں ملتی تو پھر وہ اسی محبوب کی شادی میں قناعتیں لگاتے ہوئے کہتے ہیں ’’وہ کہیں بھی چلی جائے‘مگر ہمیشہ میری رہے گی ۔‘‘ اور قناعتیںلگانے کے اس عمل کے دوران اگر محبوب کے ابا جی آواز دیںکہ’’ٹونی بیٹے ‘ذرا دھیان رکھنا ‘بہن کی شادی میں کوئی کمی نہ رہ جائے ‘‘ تو ٹونی اپنے آنسو ضبط کرتا ہوا بمشکل اتنا ہی کہہ پاتا ہے ’’جی انکل۔‘‘اس مغالطے کا شکار ہونے والے ہر وقت خود کو یہ سمجھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ حقیقی محبت میں ملاپ ضروری نہیں ہوتا اور یہ سبق انہوںنے ہیر رانجھا اورسوہنی مہینوال کے قصوں کی صورت میں حاصل کیا ہوتا ہے ‘ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر محبت کے یہ گرو نہیں مل پائے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔اپنی محبت کو سچا اور عظیم ثابت کرنے کے شوق میں یہ عاشق‘ محبوب کے سامنے خود کو مہاتما ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے تمہاری روح سے پیار ہے ‘جسمانی محبت تو ہر کوئی کرتا ہے ‘میں تو مر کر بھی میری جاں تمہیں چاہوں گا‘وغیرہ وغیرہ۔اکثر اوقات محبوب بھی اپنے چاہنے والوں کو اسی مغالطے کے تحت بیوقوف بناتے ہیں ‘جب کوئی عاشق ان سے ’’فری‘‘ ہونے کی کوشش کرتا ہے ‘یہ فوراً معصوم سی شکل بنا کر کہتے ہیں’’میں تو سمجھی تھی تم دوسروں سے مختلف ہو‘مگر تم بھی …!‘‘ ایتھے رکھ۔اس ڈائیلاگ کے بعد مجال ہے عاشق کی انگلیاں محبوب کو ٹچ بھی کر جائیں ‘چاہے محبوب اس کی باتوں پر کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اس پر گر ہی کیوں نہ جائے۔کچھ لوگ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو خلوص نیت سے سمجھتے ہیں کہ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جسے ہر قسم کی آلائشوں سے پاک رہنا چاہئے ‘محبت میں ملاپ ضروری نہیں ‘دوریاں محبت کم نہیں کر سکتیں ‘محبت تو دل میں ہوتی ہے ‘کیا ہوا اگر ہم مل نہیں پائے ہمارا عشق تو سچا ہے… ایسے لوگوں کے لئے ہمارے دوست گل نوخیز اختر کی نظم ’’محبت لمس کی محتاج ہوتی ہے ‘‘ کی ایک ڈوز ہی کافی ہے ‘فرماتے ہیں ’’سنو لڑکی !محبت پاک ہوتی ہے نہ یہ ناپاک ہوتی ہے ‘محبت تو محبت ہے…چلو اک تجربہ کرلو…کہ جس سے پیار ہے تم کو‘اسے چاہت کے افسانے سنائو‘قسمیں کھائو‘پھول اور خوشبو میں لپٹے خط لکھو‘اور ہو سکے تو فون پر باتیں کرو‘اور پھر اک دن‘تم اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھنا‘اگر وہ ایک لمحہ زندگی میں رنگ بھر جائے ‘تو پھر اتنا تو کہہ دینا‘کہ ہاں نوخیز کی یہ نظم سچی ہے…!!!‘‘جو احباب اس نظم سے استفادہ کرنا چاہیں وہ آخری مصرعے میں شاعر کے نام کی جگہ اپنا نام استعمال کرکے آزما سکتے ہیں ‘سنگ دل محبوب کسی تعویز گنڈے کے بغیر ہی قدموں میں آگرے گا۔
محبت کا دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ سچی محبت کرنے والے اگر جدا ہو جائیں تو ان کی دنیا تاریک ہو جاتی ہے اورزندگی میں کوئی رنگ باقی نہیں رہتا ۔’’شکیل‘اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا تو یقین کرو میری سانسیں رک جا ئیں گی ‘میں مر جائوں گی شکیل ‘میں مر جائوں گی ۔‘‘جواب میں شکیل کہتا ہے کہ ’’تمہارے سر کی قسم جمیلہ ‘میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا‘میں مرتے دم تک تمہارے ساتھ رہوں گا۔‘‘ اس کے بعد دونوں ڈوئٹ گا تے ہیں ’’میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے ‘وہ دن آخری ہو میری زندگی کا…!‘‘ ایسے دعوے عموما ً اس وقت کئے جاتے ہیں جب دونوں طرف آگ برابر لگی ہو‘کچھ عرصے بعد جب آگ ٹھنڈی پڑنے لگتی ہے تو کچھ ا س قسم کا مکالمہ ہوتا ہے ’’میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اس قدر گھٹیا اور تنگ نظر انسان ثابت ہوگے ‘کیا ہوا اگر میں نے دو دفعہ جنید سے فون پر بات کر لی اور ایک آدھ مرتبہ اس کے ساتھ چائے پی لی‘مجھے تمہاری پست ذہنیت پر افسوس ہے ‘لیکن شکر ہے کہ تمہارا اصلی روپ جلدی سامنے آیا ہے ‘میں لعنت بھیجتی ہوں ایسی محبت پر‘ آج کے بعد مجھے کبھی فون نہ کرنا۔‘‘ جواب میں شکیل کے پاس دو آپشن ہیں ‘ایک یہ کہ منت ترلہ کر کے جمیلہ کو منا لے اور دوسرا ترکی بہ ترکی جواب دے ‘دوسرا آپشن استعمال کرنے کی صورت میں کچھ اس قسم کا The Endہوگا’’ مجھے گھٹیا کہنے سے پہلے اتنا تو سوچا ہوتا کہ جس جنید سے تم نے دو دفعہ فون پر بات کی اس نے تم سے پہلی ملاقات میں اظہار محبت کر ڈالا اور جواب میں تم اسے یہ کہہ کر چلی آئیں کہ سوچ کر بتائو گی ‘واہ یہ کیسی محبت ہے ‘اگر اسے سوچ کر بتانا ہے تو مجھے کیا ریزرو میں رکھا ہوا ہے ‘میں بھی لعنت بھیجتا ہوں ایسی محبت پر …!‘‘اس کے بعد دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے ‘کسی کی سانسیں بند ہوئیں نہ زندگی میں کوئی اندھیرا چھایا ‘دوستوں کی محفلیں ختم ہوئیں نہ شاپنگ بند ہوئی ‘کسی کا چہرہ مرجھایا نہ کسی کا حسن کملایا‘سب کچھ ویسے ہی رہا جیسے اس دن تھا جس دن دونوں نے ساتھ میں جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھی۔محبت کے اس مغالطے کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی تعلق کے اختتام پر زندگی بظاہر تو یونہی چلتی رہتی ہے مگر درحقیقت اندر سے وہ شخص ٹوٹ جاتا ہے ۔یہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی سادگی سے بیان کی جاتی ہے کیونکہ جو شخص اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے وہ ظاہری طور پر بھی پژمردہ ہو جاتا ہے ‘اور ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے ۔محبت کا تیسرا مغالطہ یہ ہے کہ محبت زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے ۔یہ بات آسانی سے ہضم ہونے والی نہیں(خاص طور پر خواتین کے لئے) مگر کافی حد تک حقیقت یہی ہے ۔جن کو اس بیان میں شبہ ہو وہ ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر ان دوستوںکی فہرست مرتب کریں جنہیں فرسٹ ائیر کے بعد کبھی محبت نہیں ہوئی ‘نتیجہ صفر کی صورت میں برآمد ہوگا۔جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل اور سچی محبت زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے‘ ان کا دعویٰ اس وقت صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے جب کوئی بے وفا انہیں بیچ راہ میں چھوڑجاتا ہے اور اس ہرجائی کی جگہ انہیں کوئی بہتر آپشن مل جاتا ہے ۔تاہم جو لوگ زندگی میں ایک ہی محبت کے قائل ہوتے ہیں وہ دوسرا آپشن استعمال کرنے کی بجائے اپنے ہرجائی کو منانے کی کوشش اس لئے نہیں کرتے کیونکہ محبت انہیں اپنی انا سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی اورمحبت اور انا کی جنگ میں جیت بہر حال انا کی ہوتی ہے!
نوٹ: یہ کالم فقط ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے تفنن طبع کی غرض سے لکھا گیا ہے ‘اس میں بیان کئے گئے تمام ’’تجربات‘‘ فرضی ہیں ‘اس کالم کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *