تعلقات میں دراڑ کے باوجود اتحاد قائم رہے گا

Saleem_Shahidسلیم شاہد

بلوچستان حکومت کے حالات بظاہر کچھ ٹھیک نظر نہیں آرہے لیکن حکومت میں شامل مسلم لیگ ن، قومی وطن پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے تعلقات بھی اتنے زیادہ خراب نہیں ہیں کہ اتحاد ٹوٹنے کا اندیشہ ہو۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں دراڑ ضرور موجود ہے لیکن اتنی سنگین نہیں کہ وہ ان میں علیحدگی کا باعث بنے۔
یہ اتحاد شروع سے ہی کافی کمزور تھا۔ اسمبلی میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود ثناؤاللہ زہری کی سر براہی میں مسلم لیگ ن مرکزی قیادت کے کہنے پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بطور وزیر اعلیٰ حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ نواز شریف نے اپنی پارٹی ممبروں کو پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو گورنر کے طور پر قبول کرنے کے لیے بھی قائل کیا ۔ایک معاہدے کے تحت مسلم لیگ ن کو کابینہ میں مخصوص نمائندگی ملنی چاہیے تھی لیکن اس معاملے پر کچھ اختلافات سامنے آگئے اور وزیروں کی تقرری رک گئی۔اٹھارویں ترمیم کے مطابق اسمبلی میں صرف پندرہ وزیر ہو سکتے ہیں ۔
صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب مسلم لیگ ن کے ممبران نے خود کو نظر انداز کرنے کی شکایت کی اور اپنے استعفے سردار زہری کے پاس جمع کروانے لگے لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی مداخلت پر استعفے واپس لے لیے گئے۔یہ اختلافات اس وقت سامنے آگئے تھے جب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے صوبائی سینئر وزیر سرفراز بگٹی کولاء اینڈ آرڈر سے متعلق ایک اہم میٹنگ کے لیے مدعو نہیں کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم خود کر رہے تھے۔ایک اور موقعے پر وزیر اعلی عبدالمالک نے گوادر کا دورہ کیا جہاں وہ فشریز کنونشن میں مدعو تھے لیکن انہوں نے اپنے ساتھ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے فشریزکے ایڈوائزر اکبر آسکانی کواپنے ساتھ نہیں لے کے گئے جس کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے درمیان خلیج پیدا ہو گئی۔
آسکانی نے اپنی پارٹی کے ممبروں کواس بات پر قائل کیا کہ ہمیں وہ اختیارات حاصل نہیں ہیں جو کابینہ میں موجود دوسری پارٹیوں کے ممبران کے پاس ہیں اس لیے ہمیں اس کابینہ سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ اسمبلی میں ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا ہے کہ ہم مسلم لیگ ن کے ممبروں کی شکایات کا جواب دیں گے۔
مختلف پارٹیوں کے باہمی اختلافات کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے ممبران اپنے وزیر اعلیٰ سے بھی خوش نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے صوابدیدی فنڈکے استعمال سے انکار کر دیا ہے۔ اسمبلی ممبران کا کہنا ہے کہ جب دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ اس فنڈ کو استعما ل کر رہے ہیں تو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو بھی چاہیے کہ وہ اس فنڈ کو استعمال میں لائے۔لیکن ذرائع کے مطابق عبدالمالک حکومت کو تمام قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا چاہتے ہیں اور یہ بات انہوں نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ ملاقات میں بھی واضح کر دیا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ممبران کی صرف جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا ۔
قومی وطن پارٹی کے صدر حاصل بزنجو کہتے ہیں کہ ہم نے اس طرح کے معاملات پہلے بھی حل کرا چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسے اختلافات کو پروان چڑھنے نہیں دیں گے۔مسلم لیگ ن کے صدر ثناء اللہ زہری کا کہناہے کہ ہم تمام اختلافات مری معاہدے کے تحت حل کریں گے جو پچھلے سال اس اتحادی حکومت کے قیام کے وقت طے پایا تھا ۔
سیاسی پنڈت اس اتحاد کو قائم رکھنے کے ضرورت کے کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پچھلے تلخ تجربات کو سامنے رکھ کر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس اتحاد کے ٹوٹنے سے بلوچستان کو بہت زیادہ مسائل کا سامناکرناپڑے گا جو کہ پہلے ہی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔پروفیسر محمد عارف کہتے ہیں کہ نواز شریف وہ غلطی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے جو انہوں نے1998ء میں سردار اختر مینگل کی حکومت کا خاتمہ کر کے کی تھی جس کی وجہ سے نوازشریف کو بطور وزیر اعظم کافی مشکلات کا سامناکرناپڑا تھا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزراء مستعفی ہونے کی دھمکی دے کر کچھ اور اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ مختلف پوسٹوں پر تقرری اور تبادلہ۔ یہ اختیار کوئٹہ کے میئر کے لیے مخصوص ہے اور یہ سیٹ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور قومی وطن پارٹی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن بھی اس کی دعویدار ہے جس کو جمیعت علماء اسلام اور کچھ دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *