ہماری ٹیم پر کالا جادو ہوا تھا

ali zaib ahmed

 

 

 

 

 

 

 

(علی زیب احمد)

تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آ پ کو دہرا دیا ہے ، ہم مسلسل ایک اور بڑے ایونٹ میں انڈیا سے ہار گئے لیکن سوال یہ ہے کہ الزام کس کو دیں؟ کمزور ٹیم سلیکشن ، ڈھلتی عمر کی کپتانی یا ہماری قسمت؟ اس بدترین کارکردگی کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہماری بیٹنگ لائن " ہائوس آف کارڈز" کی طرح یوں گری کہ پھر اٹھ ہی نہ سکی، خرم منظور ایک کمزور سلیکشن ثابت ہوا حالانکہ اس کی جگہ محمد نواز بہترین چوائس تھی - میچ میں شعیب ملک کی کوئی جگہ ہی نہ تھی حالانکہ وہ ایک اچھا کھلاڑی ثابت ہوسکتا تھا اور یاد کیجئے آفریدی نے شعیب کے بارے میں کیا کہا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ آفریدی کی خودکش کپتانی کے لیے تو کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا -پاکستان کے 83 رنزکے جواب میں انڈیا کی بیٹنگ بھی ڈھیلے اندا ز میں شروع ہوئی تھی  ، پہلے اوور میں دو وکٹیں گر جانا اور رنز ریٹ بھی انتہائی ڈھیلا رہا - عامر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ورلڈ کلاس باولر ہے لیکن بدقسمتی سے اسے باقی ٹیم کی طرف سے کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی ، وہاب ریاض نے بھی بہت کچھ ثابت کر دیا ہے ، مثلا" یہ کہ وہ ٹیم پر بہت بھاری ہے ، بہت ہی زیادہ - کوہلی نے اپنے انداز سے جم کر اننگز کھیلی اور نتیجہ وہی نکلا جو نظر آرہا تھا۔ بحیثیت مجموعی ہماری جو کارکردگی رہی ہے اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ محض سوپر لیگ ہمارا مورال بلند نہیں کرسکتی ، پوری ٹیم کو دوبارہ سے کلمہ پڑھانا ہو گا - پہلے آفریدی نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا تھا، اس بار پی سی بی کو اس پر عمل درآمد کرانا ہوگا، اندر کی سازشیں آج بھی قائم ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹیم جب بھی انڈیا کے ساتھ کھیلتی ہے ایسا ہی ہوتا ہے ، اس میچ کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ فکس تھا، فکس میچ کی تہمت کے لیے کچھ نہ کچھ پرفارمنس تو دکھانی ہی پڑتی ہے - آج پھر ٹی وی ٹوٹے، دل ٹوٹے، لیکن سلیکٹروں کے دیدے نہیں پھوٹے، وہ ٹیم جو پریشر نہ لینے کے دعوے کر رہی تھی وہ صرف پریشر ہی نہیں پورا پریشر ککر سر پہ رکھ کر کھیلی اور اچھے بچوں کی طرح جلدی گھر آگئی۔۔۔۔۔سنا ہے گلیوں میں شورمچا ہوا ہے کہ انڈین ٹیم کالے جادو کی وجہ سے جیتی ہے ، میں بھی یہی سمجھ کر دل کو تسلی دوں گا، الحمدللہ جادو نہ ہوا ہوتا تو ہم 83 کی بجائے کم از کم 90 رنز ضرور بناتے-

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *