پاکستان سپر لیگ کی ٹیم کو خراج ِ تحسین

Najam Sethi
پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)کو شروع ہونے میں کافی وقت لگ گیا، لیکن آخر کار اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔میچوں کے دوران دبئی اور شارجہ کےاسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے ہوئے تھے جبکہ پاکستان میں ٹی وی ریٹنگ بے مثال بلندیوں کو چھوتی دکھائی دی۔ انڈیا سمیت ، دنیا بھر میںلاکھوں افراد ٹی وی اسکرینوںکے سامنے جمے رہے ، جبکہ بہت سوں نے آن لائن ویب سائٹس پر بھی میچ دیکھے۔ سوشل میڈیا پر اس ٹورنا منٹ کی تعریف میں تبصرے جاری ہیں۔
یہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے اہم موقع تھا۔ ایک حوالے سے اس کی اہمیت 1992 ء میں کرکٹ کا عالمی کپ اور 2009 میں T20 کپ جیتنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ نجی شعبے کی کرکٹ میں سرمایہ کاری اس کھیل کو روایتی افسر شاہی کے سرخ فیتے سے نکال کر اس میں مثبت تبدیلیاں لانے کا سبب بن رہی ہے، چنانچہ اس کا شمار بھی اب بہترین انٹر نیشنل سرگرمیوںمیں ہونے لگا ہے۔ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کا دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر میدان میں اترنااُنہیں اعتماد بھی دے گا اور اُن کی رہنمائی بھی کرے گا۔ پی ایس ایل کو بتدریج پاکستان میں لایا جائے گا، اور اس طرح یہ آئی سی سی میں شامل ٹیموں کو باور کرائے گی کہ پاکستان کھیل کود کی سرگرمیوں کے لئے ایک محفوظ ملک ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایس ایل شروع کرنے کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ اگر پی ایس ایل پاکستان میں نہیںہوسکتی تو اسے دبئی میں کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اُن کا موقف تھا کہ وہاں بہت کم شائقین یہ میچز دیکھنے آئیں گے اور اخراجات زیادہ ہوجائیں گے۔ یہ بھی خدشہ تھا کہ اس کے پاس دنیا کی بہترین لیگز کے مقابلے میں ایسی لیگ کا انعقاد کرنے کے لئے درکار مہارت اور تجربے کی کمی ہے۔ 2013 میں پی سی بی نے دبئی میں سپرلیگ کرانے کے لئے کروڑوں روپے ضائع کردئیے لیکن پھر اس منصوبے کو ترک کردیا گیا ۔ 2014ءمیں ایک مرتبہ پھر بھرپور وسائل کے ساتھ کوشش کی گئی لیکن نتیجہ صفر۔ اس کے بعد پی سی بی نے ایک نئی کمان حاصل کی جس نے پی ایس ایل کے لئے ایک گورننگ کونسل قائم کی۔ گورننگ کونسل نے پی ایس ایل منصوبے کی مشاورت کیلئے پیشہ ور ماہرین کی ٹیم اورکنسلٹینٹس کی خدمات حاصل کیں۔یوں اسے فروری 2016ء میں ٹورنا منٹ کرانے کا ایک موقع مل گیا جب تمام پاکستانی کھلاڑیوں اور اہم عالمی کھلاڑیوں کے پاس فراغت تھی۔
اس دوران ماسٹر چیمپئنز لیگ نے فروری میں یواے ای کے تمام اسٹیڈیم بک کرکے صورت ِحال مکدر کردی تھی۔ پی ایس ایل انتظامیہ نے ماسٹر چیمپئن لیگ کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد پی ایس ایل نے قطر کی طرف دیکھا لیکن وہاں جانے کےلئے لاجسٹک سپورٹ حاصل نہ کرسکی۔ اس کے بعد اس نے ایک مرتبہ پھر امارات کرکٹ بورڈ کے ساتھ مذاکرات کئے اور بڑی مشکل سے پندرہ دن کے لئے دو اسٹیڈیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوپائی۔ اس سے پہلے 2015ء میں پاک بھارت سیریز ملتوی ہونے کی تلخ یادیںاپنی جگہ پر موجود تھیں۔ کرکٹ کو فنانس کرنے والے نشریاتی ادارے بھی پاکستان سپرلیگ کی کامیابی پر شکوک وشبہات کا شکار تھے، اور پھر اس کے فوراً بعدآئی سی سی ایشیا کپ اور T20 چیمپئن شپ ہونے والی تھی۔ کہا جارہا تھا کہ جب اتنے اہم ٹورنا منٹ ہونے والے ہیں تو پی ایس ایل کو مالی معاونت کون فراہم کرے گا؟
ان نامساعد حالات سے گھبرائے بغیر پی ایس ایل کی ٹیم نے نشریاتی اداروں کو پیش کش دینے کی دعوت دی۔ کسی پاکستانی چینل کو شاید پی ایس ایل شروع ہونے کا یقین نہ تھا، صرف Ten Sports نے ہی تھوڑی سی پیش کش کی۔ ایسا لگتا تھا کہ ایک مرتبہ پھر یہ منصوبہ ’’اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘‘ کی طرح ابتداسے ہی ناکامی سے دوچار ہوگا،لیکن آفرین ہے پی ایس ایل کی ٹیم پر، اس نے ہمت نہ ہاری اور اس نے کراچی میںمیڈیا ہائوسز کی طرف دیکھا ، لیکن صرف ایک نے کچھ تھوڑی سے دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے بعد سخت مذاکرات کے بعد پی ٹی وی اور ٹین اسپورٹس اور جیو نے مل کر اسے خرید لیا۔چنانچہ ہر مرحلے پر، چاہے یہ کھیل کے میدان کی فراہمی کا معاملہ ہو یا میڈیا پر حقوق فروخت کرنے کا، پی ایس ایل ایک مشکل صورت سے دوچار ہوئی۔ کہا جاتا تھاکہ اگر یہ پیش کش قبول نہیں تو چھوڑ دیں۔
ٹیم پی ایس ایل کو بھاری مطالبات کو کم کرنے کے لئے بھی سخت کوشش کرنی پڑی۔ میدان، پروڈکشن، غیر ملکی کھلاڑیوں اور ان کی رہائش اور سفری سہولتوں پر اٹھنے والے اخراجات نے مجبور کردیا کہ نشریاتی حقوق کی فروخت کے علاوہ بھی ریونیو کمانے کا انتظام کیا جائے، چنانچہ ٹیم پی ایس ایل نے اپنے ہاتھ پائوں مارے اور بڑے بڑے کاروباری اداروں اور فرنچائزا سپانسرز کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا ، لیکن شکر ہے کہ اس کا اچھا رسپانس آیا اور پی ایس ایل شروع ہوگئی۔ اس وقت تک ایک ماہ کی تاخیر اور جیب کم وبیش خالی ہوچکی تھی، اور شائقین کو ورکنگ ڈے پر میچ دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم کار خ کرنے کی ترغیب دینی تھی۔اس دوران میچ فکسنگ کے الزامات سے بچنے کے لئے سیکورٹی بھی ضروری تھی۔
پی ایس ایل ایک کثیر الجہت ، مشکل اور مہنگا منصوبہ سہی، لیکن ناقدین نے دیکھا کہ اس کاآغاز نہایت دھماکہ خیز انداز میں ہوا ہے۔ میدان میں شائقین کی آمد سے ٹکٹوں کی فروخت بھی ہوئی، تشہیری کمپنیوں کو شائقین کی توجہ ملی، کھلاڑیوں کو پیسہ ملا اور فرنچائزبھی خوش ہوئے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اگلے موقع پر پانچ کی بجائے ٹیموں کی تعداد بڑھا کر چھے یا سات کردی جائے۔پی سی بی اس لیگ کے اگلے ورژن کے امکانات پر پراعتماد طریقے سے بات کررہا ہے۔ سب سے اہم بات ، پاکستانی شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ درحقیقت دنیا نے پی ایس ایل کو سراہا ہے۔ یقینا ٹیم پی ایس ایل خراج تحسین کی حقدار ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *