کیا کٹے کی چوری اور اس چوری میں کوئی فرق ہے؟

dil-thaam-kay

نوجوانی کی عمر میں لکھنے کا شوق یوں ہوا کہ دن بدن جنون کی صورت اختیار کرتا گیا لفظوں کو افسانوں میں تبدیل کرنا،خیالی ہیر رانجھا،سوہنی مہیوال،سسی پنوں،سمیت ،،عشق پر لکھ کر میگزینوں کو بھجوانا اور اشاعت پر دل خوشی سے باغ باغ ہو جانا،روز مرہ کے معمولات میں شامل تھا دن گزرنے کے ساتھ صحافت میں دلچسپی بڑھتی گئی باوجود اس کے کہ سنا کرتے تھے بڑے بڑے بعض صحافیوں کو بلیک میلر،لفافہ گروپ،کہا جاتا ہے جو کسی بھی صورت کسی صحافی کے لیے معتبر نام نہیں ہو سکتا مگر کئی ایسے نام بھی سامنے آئے جو قلم کی حرمت اور لفظوں کے تقدس کے امین تھے جو اپنی بصیرت سے لفظوں کو تسلسل کی لڑی میں پرو کر ،کالم نگاری،مضمون نویسی کرتے ہوئے حکام بالا ،سیاستدانوں،اور عوام کی آنکھیں کھولنے کے ساتھ ساتھ اندرونی بیرونی خطرات،بحرانوں سے آگاہ کرنے میں مصروف تھے ۔یہ بھی سنا کہ لکھاری مفلس ہوتا ہے ضمیر بیچنے والا،قلم اپنے آقاؤں کی جھولی میں ڈال کر انکی شان میں قصیدے لکھنے والا ،کسی نہ کسی بڑے عہدے پر فائز اور دولت والا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہوئے اور قلم کی حرمت کے امینوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں نے بھی شعبہ صحافت میں چھلانگ لگا دی جب نیا نیا صحافی بنا تو بہت شوق تھا جیب میں پریس کارڈ آتے ہی فوری دو چار پینٹ خریدیں،شرٹوں کو میچ کرنے میں مغز ماری کی اور پورا’’صحافی باؤ‘‘ بننے کے چکر میں مونچھیں تک اڑا دیں۔ ہر خبر پہ نظر رکھنا اور ہر وقوعے پر پہنچنا اپنی ذمہ داری تصور کرنے لگا، گھر کا ہوش نہ کھانے پینے کی پرواہ، عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنا ،مظلوم کی آواز اعلی ایوانوں تک پہنچانا ہی مشن اور مقصد حیات بنا لیا ۔ وقت بڑا استاد ہے اور ایک جگہ رکتا نہیں اس لیے تیزی سے گزرتا گیا ۔
ایک روز ایک تھانے میں گیا اور حوالات میں بند ایک پچاس سالہ شخص سے پوچھا بابا جی آپ کو کس جرم میں پکڑا ہے؟اس نے کہا چوری کے جرم میں پکڑ کر لائے ہیں ۔ پوچھا، بابا چور کیوں بنے ؟۔اس نے سر جھکا لیا اور بولا بیٹا نوجوانی کی عمر میں ،عیاشی کرنے کے لیے زمیندار کے احاطہ سے ایک کٹاچوری کیا تھا اور فروخت کر کے چند دن موج مستی کی ‘اسی دوران پکڑا گیا‘ اس کٹے کے بدلے زمیندار کو بھینس کی قیمت ادا کی جبکہ پولیس والے دو بھینسیں اور کٹا کھا گئے جیل تاترا، لتر پولا،مفت میں حصے میں آئی۔ جب واپس آیا تو نقصان کا سوچ کر پورا کرنے کے لیے چوروں کے گروہ میں شامل ہو گیا،چوری معمول بن گئی ۔پہلی چوری سے اب تک کا حساب کروں تو پہلی چوری والا کٹا اور اسکے بدلے میں دی ہوئی رقم آج تک پوری نہیں ہوئی۔ عمر کے تیس سال اور پولیس کی چھترول کے ساتھ لوگوں کی لعن وطعن،بچوں کا آوارہ ہو جانا سمیت ماتھے پہ نامی گرامی چور کا ٹیکامیری ڈھلتی عمر کا منافع ہے۔ وہ چور مجھے اس لیے یاد آیا کہ پاکستانی سیاستدانوں کی اکثریت ملکی وسائل اور خزانہ کی چوری میں جتی ہوئی ہے مگر بابے کی طرح ندامت کسی کو نہیں اور سب منافع میں لگتے ہیں کچھ ایسا ہی حال آزاد جموں کشمیر پر حکومتی اکابرین کا بھی ہے جو گذشتہ الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بجائے وفاقی پیپلز پارٹی کے جھرلوسے حکومت میں آئے اور اعلی قیادت کی تلقید کرتے ہوئے عوامی خواہشات،علاقائی تعمیروترقی،عوامی امنگوں کو بھول اقتدار کے اڑن کھٹولہ پر بیٹھ کر صرف خزانہ سرکار پر ہی برستے گرجتے رہے کیونکہ اگر دور اقتدار میں اگر عوامی خدمت،بھلائی،بہتری اور عوام کے بینیادی مسائل کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہوتے تو ،،جنت نظیر،،آزاد کشمیر کے لوگوں کی زبان پر شکایت نہ ہوتی عوام ،سکول ،کالجز،صحت عامہ کی سہولتوں سے محروم نظر نہ آتی اور نہ ہی بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہوتی ۔آج ایک کال نے مجھے آزاد کشمیر پر لکھنے کے لیے مجبور کر دیا کال کرنے والے دوست نے اپنا نام عبدالحمید رہائشی نزد پتن شیر خان گاؤں مسلم آباد آزاد کشمیر بتایا اسکی آواز میں چھپا درد اور سیاستدانوں کے لیے نفرت کا طوفاں محسوس کیا جا رہا تھا انکا کہنا تھا کہ چوہدری عبدالمجید وزیر اعظم آزاد کشمیر بنے تو کچھ دنوں بعد میں اور علاقے کا وفد ان سے ملنا گیا ہمارا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہ تھا صرف اپنے علاقے کے مسائل بتانا تھے اس لیے ملاقات میں وزیر اعظم آزاد کشمیر عبدالمجید کو بتایا کہ ہمارے علاقہ میں 35کلو میٹر کے ایریا میں صحت عامہ کے لیے کوئی ہسپتال موجود نہ ہے مردوخواتین خصوصا بچوں کو طبعی حوالے سے شدید پریشانی کا سامنا رہتا ہے ڈلیوری کے حوالے سے دوسرے شہر لیجاتے ہوئے اکثریتی خواتین راستے میں ہی دم توڑ جاتی ہیں اور معصوم بچے پیدا ہونے سے پہلے خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے کوئی مہم نہیں چلائی جاتی غریب لوگ بڑے ڈاکٹروں کی فیس ادا نہ کر پانے کی وجہ بیماری کا درد لیے گھروں میں ہی فوت ہو جاتے ہیں پینے کا صاف پانی مہیاء نہیں نہ ہی کبھی اس پر توجہ دی گئی ہے مرد محنت مزدوری کے لیے چلے جاتے ہیں خواتین صبح سے شام تک دور دراز کے چشموں سے پانی بھربھر کے لاتی رہتی ہیں جو کسی بھی بڑی سزا سے کم نہیں ہے اتنی محنت سے لائے گئے پانی کو لوگ آب زم زم سمجھ کر انتہائی ادب احترام اور احتیاط سے استعمال کرتے ہیں یہ علاقہ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے مین پل سے صر ف چالیس کلو میٹر کی دوری پر ہے جسکی آبادی پچاس ہزار افراد پر مشتمل ہے مگر اس علاقہ کی بدقسمتی ،بدنصیبی اور حکمرانوں کی عدم توجہ کا یہ عالم ہے کہ مڈل سے آگے سکول ،کالج کی کوئی گنجائش نہ ہے پرائمری ،مڈل سکولز کی حالت زار بھی حکمرانوں کی کرپشن،عیاشیوں،اور عوامی محرمیوں کا ثبوت بن کر سیاستدانوں کے منہ پر تھپڑ مارتی ہے کسی سکول کی دیوار ہے تو کمرے نہیں ،کمرے ہیں تو چھتیں ٹپکتی اور گرنے والی ہیں ،برآمدے ہیں تو فرش کی جگہ گڑھے پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اساتذہ کی تعداد میں کمی کے علاوہ سیکورٹی کے نام پر حکومت کی طرف سے ٹھینگادکھایا گیا ہے ان حالات میں علاقہ ہذا کے مظلوم،مجبور،اور بے بس لوگ اپنے بچوں کو مڈل تک تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں اس سے آگے تعلیم کا جاری رکھنا ،غریبوں،محنت کشوں،مزدوروں اور پتن شیر خاں گاؤں مسلم آباد آزاد کشمیر کے بچوں کا نصیب نہ بن سکا ہے عبدالحمید نے بتایا کہ دیگر سہولیات کا فقدان ہی فقدان ہے صحت کی سہولیات نہ ہونے کی بنا پر میں نے ماں اور بھائی کھویا ہے جو ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی اللہ کو پیارے ہو گئے ۔میری طرح روزانہ کوئی نہ کوئی اپنوں سے بچھڑ رہا ہے ۔حالات سننے کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر عبدالمجید نے ہمیں صحت،تعلیم،پانی اور دیگر بنیادی مسائل کو فوری ختم کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر چار سال گزر گئے اقتدار کے مزے اور دولت کمانے کے چکر میں وزیر اعظم مجھ سمیت دیگر عوام سے کیے وعدے بھول گئے اور گزرے ان سالوں میں ترقیاتی کے حوالے سے ہمارے علاقہ میں ایک اینٹ بھی نہ لگائی جا سکی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے وعدہ خلافی کے گھاؤ دیے گئے آزاد کشمیر سے ہی رانا محمد خان اور رانا خورشید احمد نے بھی کچھ ایسے ہی حالات سے پردہ اٹھایا ۔۔۔کیا کٹا چوری کرنے والے اور خزانہ سرکار پر ہاتھ صاف کرنے والے میں فرق ہے ؟
عوام سے خدمت کا وعدہ کر کے ووٹ لینے والے اقتدار کی کرسی ہاتھ لگتے ہی عوام کو بھولتے رہیں گے؟
یہ سب مداری صرف عوام کے اعتماد سے کھیلنے اور قومی سرمایہ یونہی لوٹتے رہین گےَ
اس دور میں بھی مدل سے ااگے تعلیمی ادارہ نہ ہونا حکومت کی شکست اور عوام دشمنی کے مترادف نہیں ؟
کیا ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو جہالت ،بیماری اور بے روزگاری کا پھندہ دیکر معتبر کہلا سکیں گے؟
کیا وزیر اعظم آزاد کشمیر عوامی عدالت میں جواب دے پائیں گے کہ انکے دور حکومت میں پتن شیر خان،گاؤں مسلم آباد اور ارد گرد کی آبادیوں کو صحت،تعلیم،پانی،روزگار جیسی سہولیات سے کیوں محروم رکھا گیاجہاں عوام طبعی سہولیات نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتی رہی ،جہاں تعلیم نہ ملنے سے مزدور پیدا ہو رہے ہیں ؟
ہاں اس عوام کا یہی قصور کیا کم ہے جب عوامی نمائندوں کو چنا جاتا ہے اور چناؤ کے وقت ،ووٹ کی مقدس امانت سپرد کرتے وقت،وڈیروں،ان پڑھوں،خزانہ چوروں،لٹیروں،سیاسی مداریوں اور بے لوث ،تعلیم یافتہ،عوامی خدمت سے سرشار،شخصیات میں فرق نہیں کرتی اور برے میاں،چھوٹے میاں،گاؤں کے چوہدری،نمبردار،جاگیردار،کے حکم پر ،،ٹھپے پہ ٹھپہ،،لگاتی جاتی ہے جسکی وجہ سے ایسے ہی سیاستدان اقتدار حاصل کرتے رہیں گے جنہیں عوام اور انکے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہو گا صرف الیکشن میں نوٹ لگانے اور پھر کمانے آتے جاتے رہیں گے فیصلہ آپکو اور مجھے کرنا ہے کہ ہمیں اپنے ضمیر زندہ کرنا ہونگے بڑے میاں،چھوٹے میاں،چکڑ چوہدریوں ،کے چنگل سے آزادی حاصل کر کے ایسی قیادت کا چناؤ کرنا پڑے گا جو حقیقت میں عوام کی خدمت کرنے پر یقین رکھتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ لاکھ تکالیف اٹھا کر بھی اپنی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔اور آواز حق بلند کرنا وطیرہ بنا لیں کیونکہ ،مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی،تحریک انصاف،سمیت ہر پارٹی نعرہ ،منشور تو عوامی دے گی مگر چہرے بدل کر ہماری قسمت اور تقدیر سے کھیلنے پرانے لوگ ہی آئیں گے ۔اس لیے کٹا چور ہو یا خزانہ چور احتساب کے عمل سے گزار کر ہمیں اپنی تقدیر بدلنے کے لیے خود ہی تدبیر کرنا ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *