پانی پرندے اور موت کراچی میں

MHTمستنصرحسین تارڑ

ازاں بعدجب بھی اپنی کتاب ’’پنجاب۔ اے ہسٹری فرام اورنگ زیب ٹو ماؤنٹ بیٹن‘‘ پر دستخط کرتے۔کسی دعوت کے دوران، مداحوں میں گھرے ہوئے جب کبھی مجھے دیکھ لیتے تو سب کو چھوڑ کر میرے پاس چلے آتے اور کہتے ’’آپ میرے بھائی کے دوست ہیں، سمیر کا کیا حال ہے۔۔۔ اسے میرا پیار دیجئے گا‘‘۔ وہ میرا ہاتھ دیر تک تھامے رکھتے۔۔۔ بلکہ پہلی ملاقات پر میں نے اپنا مختصر تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ میرے نام کو چھوڑیئے، یہ بہت مشکل ہے تو راج موہن کہنے لگے ’’آپ بتایئے تو سہی‘‘ جب میں نے بتایا تو انہوں نے میرے نام کو نہایت آسانی سے درست تلفظ کے ساتھ دوہرا دیا۔
اس لٹریری فیسٹیول کے دوران اگرچہ میرے لکھے ہوئے معمولی حرفوں کی بہت پذیرائی ہوئی، بے شمار محبتیں اور عقیدتیں نصیب ہوئیں لیکن میرے لئے سب سے پُرفخر اور درخشندہ وہ لمحہ تھا جب مہاتما گاندھی کے پوتے نے مجھ سے درخواست کی کہ۔۔۔ تارڑ صاحب۔۔۔ اس کتاب پر اپنے آٹوگراف دیجئے۔۔۔ پلیز!
جی ہاں، مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے مجھ سے درخواست کی کہ۔۔۔ تارڑ صاحب۔۔۔ اس کتاب پر اپنے آٹوگراف دیجئے۔۔۔ دراصل میں سمندر میں جھولتے ہوئے ریستوران سے لوٹ رہا تھا اور اس دوران کراچی لٹریری فیسٹیول کے موقع پر وہاں سجے بُک سٹالوں میں سے گزر ہوا اور وہاں سنگ میل پبلی کیشنز کے سٹال کے سامنے گاندھی صاحب کھڑے تھے۔۔۔ سٹال پر میری درجنوں کتابیں بھی نمائش پر تھیں جن میں سے دو تین کے سرورق پر میری تصویریں نمایاں تھیں۔ گاندھی صاحب ان کی جانب اشارہ کر کے بولے ’’میں اس شخص کو جانتا ہوں، آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ اتنی کتابوں کے مصنف ہیں‘‘ اس پر میں قدرے شرمندہ ہوا اور کہا ’’کتابیں تو ساٹھ کے قریب ہیں لیکن میں لکھنے والا بہت معمولی ہوں۔ اور یہ ہیں بھی اردو زبان میں۔۔۔اگر آپ اردو جانتے تو یقیناًمیں آپ کی خدمت میں کوئی سفرنامہ یا ناول پیش کرتا۔۔۔ اس پر گاندھی کہنے لگے ’’میں اردو بول تو سکتا ہوں، پڑھ نہیں سکتا لیکن میری بیٹی سپریا اردو جانتی ہے اور میری خواہش ہے کہ آپ سپریا کے لئے کوئی اپنی کتاب عنایت کر دیجئے۔۔۔ اور وہاں وہ نہ صرف اردو بلکہ فارسی بھی جانتی ہے، بول سکتی ہے، پڑھ سکتی ہے‘‘۔میں نے بک سٹال سے سفرنامہ ’’سنولیک‘‘ اور اپنا ضخیم ناول ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ اٹھائے اور گاندھی صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔۔۔ وہ کہنے لگے، نہیں ایسے نہیں، ان پر سپریا کے لئے کچھ لکھ کر آٹوگراف دیجئے۔۔۔ چنانچہ اس فیسٹیول کے دوران میرے لئے یہ سب سے پُرفخر او ردرخشندہ وہ لمحہ تھا جب مہاتما گاندھی کے پوتے نے مجھ سے آٹوگراف حاصل کئے۔
فیسٹیول کے اختتام کے فوراً بعد ایک وسیع ہال میں میرے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام تھا جس کا موضوع تارڑ کی تحریروں میں ’’پرندے، پانی اور موت‘‘تھا۔۔۔ اس تقریب کے میزبان نہایت تخلیقی کہانی کار اور نوجوان دانشور عرفان جاوید تھے جنہوں نے کمال خوبی سے اس تقریب کو بے حد سلیقے سے نبھایا۔۔۔ اس کی تفصیل پھر کبھی سہی لیکن مجھے ان ہزاروں لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے نہایت تحمل اور محبت سے میری گفتگو سنی اور پھر بے حد پُرمغز اور سنجیدہ سوالات کئے۔۔۔ سامعین میں عبداللہ حسین، کشور ناہید، منیزہ ہاشمی، راحت سعید اور عاصمہ جہانگیر کی موجودگی باعث طمانیت تھی اور کچھ دیر راج موہن گاندھی بھی شریک محفل ہو گئے۔
اکثر اوقات ایسے ادبی میلوں میں، مَیں اور عبداللہ حسین اکڑھے سفر کرتے شریک ہوتے ہیں۔ ایک قدیمی دوست اور بڑے ناول نگار کی حیثیت میں وہ میرا اور مَیں ان کا خیال رکھتا ہوں اور برابر کے کمروں میں قیام کرتے ہیں۔ ()()()لگژری ہوٹل میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ چوتھی منزل پر ہیں اور مِرا کمرہ تیسری منزل پر واقع ہے تو عبداللہ حسین نے ہنگامہ کر دیا ’’بھئی میں گنٹھیا کا مریض ہوں، چلنے میں دشواری ہوتی ہے، میرے بائیں ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے اور دائیں ہاتھ سے تارڑ کے کندھے کا سہارا لیتا ہوں تب چل سکتا ہوں، تو اب میں چلوں گا کیسے۔۔۔ مجھے تارڑ کے برابر والا کمرہ چاہئے ورنہ‘‘۔
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس فیسٹیول کی درجنوں تقریبات کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے لئے ایک کتاب درکار ہے اس لئے میں ان میں سے چند تقریبات اور کچھ یادگار لمحوں کی مختصر جھلکیاں پیش کروں گا۔
ایک ناشتے کے دوران مَیں نے اس فیسٹیول کی پردھان محترمہ رضیہ سید سے کہا کہ : خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے۔۔۔ یہ جو اوپن ایئر وسیع افتتاحی سٹیج ہے یہاں صرف انگریزی میں لکھنے والوں کی تقریبات طے ہیں، چاہے ان میں سے کسی ایک نے بس ایک ہی ناول لکھ رکھا ہو جبکہ اردو لکھنے والے بڑے ادیبوں کے لئے ہوٹل کے کچھ مناسب اور کچھ مختصر ہال مخصوص ہیں اور وہاں اتنا ہجوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملتی۔۔۔ یہ زبان پرستی تو کچھ بھلی بات نہیں۔۔۔ کیا عبداللہ حسین، انتظار حسین، اسد محمد خان، کشور ناہید، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، حسن منظر وغیرہ اوپن ایئر سٹیج کے لائق نہیں ہیں۔ آپ کے کیِ نوٹ سپیکرز بھی بیشتر انگریزی میں لکھنے والے ہیں اور میں اردو کے چند بڑے ناموں کو بھی یہاں نہیں دیکھتا۔۔۔ مظہر اسلام ایسا کہانی کار، رشید امجد، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر خواجہ ذکریا، محمد کاظم، طاہرہ اقبال، خالد فتح محمد جیسے لوگ کہاں ہیں۔
عمر شاہد حامد نے ’’دی پرزنر‘‘نہیں ’’قیدی‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھا ہے جو پہلے ناول ہونے کی حیثیت سے اس کی تخلیقی قوت کی شاندار نمائندگی کرتا ہے۔۔۔ یہ کسی حد تک ایک سرگزشت ہے۔۔۔ عمر کے والد ایک سینئر بیوروکریٹ، کراچی میں پوسٹنگ کے دوران ایک سیاسی جماعت کے جاں نثاروں کی گولیوں سے چھلنی کر دیئے گئے۔ عمر نے سول سروس کا امتحان نمایاں حیثیت میں پاس کر کے پولیس کا محکمہ اختیار کیا اور کراچی میں پوسٹنگ کروانے کو ترجیح دی اور ۔۔۔ اپنے والد کے قاتلوں کی سرکوبی کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔۔۔ جی دار اور نڈر چودھری اسلم سے جینا اور نڈر ہونا سیکھا۔۔۔ زیرعتاب آ گئے اور انگلستان چلے گئے۔ ناول ’’قیدی‘‘ ان کی اپنی حیات ہے جس میں انہوں نے کراچی کے سیاسی اور مذہبی مافیا کو بے نقاب کیا ہے۔۔۔ عمر شاہد حامد میرے چھوٹے بیٹے سمیر کے سول سروس میں بیچ میٹ ہیں۔۔۔ میں نے سمیر سے پوچھا کہ عمر اس خطرناک ناول لکھنے کے باوجود کیسے کراچی فیسٹیول میں شریک ہو رہا ہے۔ اسے بوریوں سے ڈر نہیں لگتا تو اس نے کہا ’’ابو۔۔۔ وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں ہے‘‘۔۔۔ اس نے مجھ سے ذاتی طور پر درخواست کی کہ انکل آپ نے بہرصورت میرے ناول کی تقریب میں شرکت کرنی ہے چنانچہ میں شامل ہوا اور دعاگو ہوا کہ اللہ کرے اسے کوئی گزند نہ پہنچے۔
اور وہاں عظمیٰ بھی تھی جو میرے ہاتھوں میں پلی بڑھی، میری بیگم میمونہ کی سگی بھتیجی۔۔۔ میرے پسندیدہ ترین برادر نسبتی، پی آئی اے کے ڈائریکٹر، اسلم خان کی بیٹی۔۔۔ عظمیٰ اسلم خان جو اب انگریزی ناول نگاروں میں ایک بلند مقام رکھتی ہے اور اپنا نیا ناول مجھے پیش کرتی اس پر لکھتی ہے ’’پھوپھا جان کے لئے‘‘ نہ صرف اس کے اعزاز میں ایک تقریب ہوئی بلکہ اسے ’’پیس پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا۔۔۔ بھابھی مسرت، کب کی اپنے شوہر اسلم خان کی موت پر سوگ میں تھیں، اپنی بیٹی کی پذیرائی پر آبدیدہ ہو گئیں۔
عظمیٰ سٹیج پر سے اتری اور مجھ سے لپٹ گئی ’’ہیلو پھوپھا جان‘‘ اور میں ایک پُرفخر پھوپھا جان ہو گیا۔
اس شب سمندر میں اُگے ہوئے مین گرو گھنے جنگلات روشن ہو گئے، جیسے گہرے سرسبز بادل ہوں جو سمندر پر اتر گئے ہوں اور ان میں سے چند پرندے اڑے اور وہ برف سفید تھے۔ میں نے فہمیدہ ریاض سے مخاطب ہو کر کہا ’’فہمیدہ۔۔۔ دیکھو سرسبز بادلوں کی گھناوٹ میں سے سفید پرندے نمودار ہوئے ہیں تو وہ کہنے لگی ’’تارڑ۔۔۔ تمہیں ہر جانب پرندے نظر آ جاتے ہیں، مجھے نظر نہیں آئے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *