کسی کو بھی بلوچستان کی پروا نہیں

Ahmed Rashid (b. 1948 in Rawalpindi) durاحمدرشید

جس دوران سیاست دان، صحافی حضرات اور سفارت کار حکومت اور طالبان کے درمیان(نہ) ہونے والے مذاکرات پر نہایت شدومد سے بحث جاری رکھے ہوئے ہیں، کوئی بھی بلوچستان میں لڑی جانے والی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بھیانک اور طویل خانہ جنگی، جس میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دیتاہے، پر توجہ دینے اور وہاں متحارب گروہوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ سترہ جنوری کو وسطی بلوچستان کے شہر خصدار کے نزدیک ایک گاؤں توتک (Tutak) میں ایک قبر سے تیرہ افراد کی لاشیں ملیں۔ ان مسخ شدہ لاشوں میں سے صرف دو کی شناخت ممکن ہوسکی ہے... یہ دونوں وہ آدمی تھے جو چار ماہ پہلے ’’غائب‘‘ ہوگئے تھے۔ ڈان میں لکھنے والے صحافی ساحر بلوچ اس لرزہ خیز انکشاف پر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسی مزید قبریں، جہاں کئی افراد کو اجتماعی طور پردفن کیا گیا ہو،بھی مل سکتی ہیں۔ اس سے بلوچستان کے زخم گہرے ہوتے جائیں گے۔
بہت سے انتہا پسند گروہ،جیسا کہ لشکرِ جھنگووی، جو شیعہ مخالف ہے، طالبان اور کچھ ادارے، جیسا کہ ایف سی اس صوبے سے افراد، جن میں بلوچ قوم پرست ، انتہا پسند اور عام شہری شامل ہیں، کو اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان میں کچھ کی مسخ شدہ لاشیں بعض مقامات سے مل جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ان میں کچھ کسیز کو دیکھ رہی ہے لیکن نوازحکومت اس سلسلے کو روکنے میں بے بس دکھائی دیتی ہے۔کوئی بھی حتمی طور پر نہیں جانتا کہ اس صوبے سے کتنے افراد غائب ہوچکے ہیں... یہ تعداد چند سو سے چند ہزار تک ہوسکتی ہے۔ اب ان غائب شدہ افراد کے اہلِ خانہ حکومت کے سامنے اپنے نقصان کے اظہار اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کراچی سے اسلام آباد تک شدید سردی میں پیدل مارچ کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک کمزور معمر افراد، چادریں اُڑھے ہوئے عورتیں اور لڑکھڑاتے ہوئے بچے شدید سردی اور بارش میں لاہور میں داخل ہوئے۔ وہ لوگ گزشتہ چار ماہ سے کراچی سے پیدل چلتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔ یہ سب لوگ غائب شدہ افراد کے عزیز و اقارب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اُنہیں بتایا جائے کہ ان کے غائب شدہ افراد کہاں ہیں اور اُنہیں کس نے اٹھایا تھا؟
حکومت کا ان افراد کے حوالے سے موقف یہ ہے کہ وہ ان افراد کی موجودگی سے لاعلم ہے۔ اس صوبے میں اتنے زیادہ صحافیوں کو ہلاک کیاگیا کہ اب یہاں سے درست رپورٹس بمشکل پرنٹ میڈیا یا ٹی وی کو مل پاتیں ہیں۔ اب یہاں موجودصحافی زبان کھولنے سے ڈرتے ہیں، چنانچہ اس ’’غائب شدہ خانہ جنگی ‘‘ میں گمنام خون بہہ رہا ہے۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ عبدالمالک بلوچ ، جو صوبے کی کمزور حکومت کی قیادت کررہے ہیں، نے قوم پرستوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی اہمیت پر زور دیا لیکن وہ اس معاملے میں اُس وقت تک بے بس ہیں جب تک دفاعی ادارے اور وفاقی حکومت مل کر ریاست کی طرف سے ہونے والی کاروائیوں کور وکنے کا عندیہ نہ دیں اور جب تک علیحدگی پسند بات چیت پر آمادہ نہ ہوں۔
بلوچستان میں اب تک چھوٹی بڑی پانچ شورشیں بپا ہوچکی ہیں۔ موجودہ شورش 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب بلوچ علیحدگی پسندوں کے ایک گروہ نے چھاپا مار کاروائیاں کرنا شروع کردیں۔ بدقسمتی سے گزرنے والے سالوں کے دوران بلوچستان کے کچھ دھڑوں میں علیحدگی کا تصور مقبول ہورہاہے ۔ علیحدگی پسندوں کے زیادہ تر مرکزی رہنما جوبیرونی ممالک میں جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں، اب علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ماضی میں بلوچ شورش پسندصرف سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے تھے لیکن اب وہ تمام غیر بلوچ آباد کاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ وہ تمام اُن افراد کو بلوچستان سے نکال دینا چاہتے ہیں جو بلوچ نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔
اب مسلۂ یہ ہے کہ جب کوئی بلوچ قوم پرست رہنما یا کارکن ’’غائب ‘‘ کر دیا جاتا ہے، انتقاماً بہت سے نوجوان لڑکے علیحدگی پسندوں کے گروہ میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں۔جب بھی وہ سیکورٹی فورسز پرحملے کرتے ہیں، مزید افراد غائب ہوجاتے ہیں، پھر مزید افراد ان کے کیمپوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ختم نہ ہونے والا چکر کئی سالوں سے جاری ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اگرچہ طالبان سے بات چیت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے ملک میں بحث جاری ہے اور مذاکرات کے حامی، جن کی زیادہ ہے، اور مخالفین (آٹے میں نمک)اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں لیکن بلوچ قوم پرستوں کے حوالے سے ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے۔ ملک کا کوئی گروہ یا کوئی جماعت ان سے بات کرنے کی مخالفت نہیں کرتی لیکن اُنہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جاسکا ہے۔ کیا اس کی وجہ دفاعی اداروں کا رویہ ہے؟سیکرٹری جنرل ’’ہیومین رائٹس کمیشن پاکستان ‘‘ آئی اے رحمان کا کہنا ہے...’’طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کے بعد یہ بات بہت عجیب ، بلکہ احمقانہ ، لگتی ہے کہ بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ کوئی بات نہیں ہورہی ۔ اس سے ریاستِ پاکستان کو بے حد نقصان ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران بلوچ قوم پرستوں نے اتنے افراد ہلاک نہیں کیے جتنے طالبان نے کیے ہیں اور ان کی شورش پسندی کی سطح بہت کم درجے کی ہے۔ تاہم جب تک وفاقی حکومت، فوج اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی طر ف سے بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات پر کام شروع نہیں کیا جاتا ، بلوچستان کا مسلۂ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا اور قوم پرست قومی دھارے سے مزید دور ہوتے جائیں گے۔
اب نواز شریف حکومت نے طالبان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرکے اچھا کیا یا برا، آنے والے دنوں یہ بات واضح ہوجائے گی لیکن ایک بات طے ہے کہ بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ بھی یہی عمل دہرانا پڑے گا۔ فی الحال وفاقی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا کہ وہ بلوچ بھائیوں کے ساتھ بات چیت کرنے جارہی ہے۔درحقیقت اس وقت پاکستان بدترین تشدد کی زد میں ہے... طالبان کی دھشت گردی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بلوچستان لہورنگ جبکہ معیشت آخری دموں پر۔ کیا دنیاکی کسی اور قوم کا اتنا برا حال ہے؟ قہر یہ ہے ایک بھاری مینڈیٹ والی حکومت اسلام آباد میں موجود ہے اور اس کے سامنے کوئی سیاسی رکاوٹ موجود نہیں لیکن وہ کچھ کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ وقت تیز ی سے ہمارے ہاتھ سے سرک رہا ہے اور ابھی ہم نے فیصلہ کرنا کہ ’’پس چہ باید کرد‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *