غلط فہمی کا اخلاقی بحران

اسلام آباد میں آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو میاں بیوی نے تشدد کرکے مار ڈالا۔ اس پر ’’بےلگام سوشل میڈیا‘‘ نے طوفان کھڑا کر دیا کہ زہرہ شاہ کو انصاف دو۔ آج کی بات نہیں، ان حالوں ہم کو برسوں گزرے ہیں۔ ہم نے کم سن زینب کے لئے انصاف مانگا۔ نقیب محسود کیلئے انصاف مانگا۔ ساہیوال کے بےگناہوں کیلئے انصاف مانگا۔ مشال خان کیلئے انصاف مانگا۔ پروین رحمٰن اور راشد رحمٰن کیلئے انصاف مانگا۔ سبین محمود کیلئے انصاف مانگا۔ سمیعہ سرور کیلئے انصاف مانگا۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں انصاف مانگا، وکیل کے ہاتھوں مرنے والی شازیہ مسیح کیلئے انصاف مانگا۔ ڈیرہ بگٹی میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے لئے انصاف مانگا۔ مختاراں مائی کے لئے انصاف مانگا۔ کوہستان کی پانچ بیٹیوں کے لئے انصاف مانگا۔ زندہ درگور کی جانے والی بلوچ بہنوں کے لئے انصاف مانگا۔ وینا حیات کے لئے انصاف مانگا۔ نواب پور میں انصاف مانگا۔ نابینا صفیہ بی بی کے لئے انصاف مانگا۔ شبنم ڈکیتی میں انصاف مانگا۔ پپو قتل کیس میں انصاف مانگا۔ بہتر برس پر پھیلی انصاف کی اس دہائی میں گنتی کے ان نمونوں پر غور کیجئے۔ کچھ معاملات میں شخصی انصاف کر دیا گیا، کچھ مقدمات میں مدعی ادھر ادھر ہو گئے اور کچھ واقعات میں معلوم ہوا کہ جرم ہوا ہی نہیں تھا محض ’غلط فہمی‘ تھی۔ اس مختصر فہرست کے مآل پر نظر ڈالیے اور نتائج کو دو خانوں میں بانٹتے جائیے۔ انصاف کی فائل پوری کی گئی یا انصاف قومی مفاد کی چادر میں منہ لپیٹ کے نکل گیا۔ آپ خود ہی جان لیں گے کہ ہمارا اجتماعی بحران نہ تو سیاسی ہے اور نہ معاشی۔ ہمارا بحران محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ہم فرد کے لئے انصاف مانگتے رہے، ہمیں قوم کے لئے انصاف مانگنا چاہئے تھا۔ ہم نے ناانصافی کے واقعات پر توجہ مرکوز رکھی لیکن انصاف کے بنیادی سوال پر توجہ نہیں دی۔

استاد محترم آئی اے رحمٰن کے لئے درازیٔ عمر کی دعا دل سے نکلتی ہے۔ کوئی پچیس برس پہلے پشاور کے امین ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے فرمایا کہ ’ہمارا انگریز سے آخر کیا جھگڑا تھا؟ بات یہ تھی کہ جب ہم آپس میں لڑتے تھے تو وہ انصاف کر دیتا تھا۔ جب ہم انگریز سرکار کی قومی ناانصافی اور معاشی استحصال پر انگلی اٹھاتے تھے تو ہمیں بغاوت کا مجرم قرار دیتا تھا‘۔ انصاف محض لین دین اور مال مویشی کا جھگڑا تو نہیں، انصاف اختیار کی اعلیٰ ترین سیڑھی پر انسانی جان کے تحفظ، فرد کی تکریم اور شہری کے مفاد کی ضمانت کو کہتے ہیں۔ ریاست کے بالادست ترین زینے پر دھند چھا جائے تو انصاف ہی نہیں، عقل اور شعور بھی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم نے جن واقعات کی فہرست سازی کی، وہ تو اجتماعی جرائم کی آندھی میں ٹپکے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کورونا اسلئے زیادہ وحشت ناک ہے کہ نادیدہ غنیم ہے۔ قومی جرائم کا المیہ اس سے بھی دوچند ہے کہ ہم مجرم کو پہچانتے ہیں اور ہمارے پاؤں میں اس پیمان کی زنجیر ہے کہ دامن چھڑانا ہے، تار تار کرنا مقصود نہیں۔ اہلِ وطن سے محبت قوم کیلئے انصاف کے مطالبے کی ان کہی شرط ہے۔ محبت کی یادداشت اور نفرت کے کینے میں فرق ہے۔ آئیے کچھ غلط فہمیوں پر ایک نظر ڈالیں۔

برادر مکرم ڈاکٹر صفدر محمود فرماتے ہیں کہ قائداعظم کی تقریر تو سنسر ہوئی ہی نہیں۔ سرکار، غلط فہمی ہی ہوئی ہوگی۔ یہ تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ایک سینئر عہدیدار (چوہدری محمد علی) نے تقریر کے بعض فقروں پر تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے پرنسپل انفارمیشن افسر (مجید ملک) سے انہیں نکلوانے کی بات کی تھی۔ اس پر ڈان کے الطاف حسین ڈٹ گئے۔ غلط فہمی یہی تھی کہ سینئر سرکاری اہل کار نے بابائے قوم کے فرمودات پر تحفظات ظاہر کرنے کی جسارت کیسے کی۔ غلط فہمی ہی ہوئی کہ غلام محمد کو گورنر جنرل کے منصب کا اہل سمجھ لیا۔ ایک غلط فہمی خواجہ ناظم الدین کو ہوئی کہ غلام محمد کو ہٹانے کے لئے ملکہ برطانیہ تک جا پہنچے۔ ایک غلط فہمی مولوی تمیز الدین کو ہوئی کہ گورنر جنرل کے خلاف عدلیہ سے استمداد کیا۔ ایک غلط فہمی سہروردی کو ہوئی کہ ون یونٹ کی مصنوعی مساوات کو وفاق پاکستان کی بقا کا نسخہ سمجھ بیٹھے۔ غلط فہمی تو اسکندر مرزا کو بھی ہوئی کہ محل کی سازش میں بندوق کے فیصلہ کن کردار کو بھول بیٹھے۔ غلط فہمی تو فاطمہ جناح کو ہوئی کہ اہلِ وطن کی بصیرت پر بھروسہ کیا۔ یہ نہیں سمجھا کہ 80000ووٹ خریدنا کیا مشکل ہوگا۔ غلط فہمی تو ایوب خان کو بھی ہوئی کہ معاہدہ تاشقند کے متن میں 8اگست کی تاریخ آئے گی تو دنیا ضرور پوچھے گی کہ جنگ تو 6ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔ جنوری 68کی علالت کے بعد حکمران تو وہی تھا جو صدارتی محل پر قبضے کی مشق کر سکتا تھا۔ غلط فہمی تو یحییٰ خان کو ہوئی کہ 21فروری کو تین ملین بنگالیوں کو مارنے کی دھمکی دینے کے بعد بھی مجیب سے مذاکرات کرنے ڈھاکہ جا پہنچے۔ غلط فہمی تو ذوالفقار علی بھٹو کو ہوئی کہ غلام جیلانی اپنے عہدے پر برقرار رہے گا تو گل حسن کی برطرفی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ عوام کے خوابوں پر کھڑی ہونے والی حکومت کو کوثر نیازی کے مشوروں سے بچانا ممکن نہیں ہوتا۔ غلط فہمی تو ضیاءالحق کو ہوئی کہ بیرونی ڈالر اور ریال سے جہاد کرنے والے افغانستان کو کالونی نہیں بنا سکیں گے۔ فرقے اور زبان کی بنیاد پر سیاسی بڈاوے کھڑے کرنے سے پیپلز پارٹی ختم نہیں ہو گی۔ غلط فہمی تو میاں طفیل محمد کو ہوئی کہ یحییٰ خان سے اسلامی آئین کی امید رکھی اور آٹھویں ترمیم میں قرار داد مقاصد والی شق سے حکومت الہٰیہ کی توقع باندھی۔ غلط فہمی تو بےنظیر بھٹو کو ہوئی کہ اشتراک اقتدار کی پٹاری سے جمہوریت کے انتقام کا معجزہ برآمد کرنا چاہا۔ غلط فہمی تو نواز شریف کو ہوئی کہ کارگل کے ہنگام میں 15ویں آئینی ترمیم کا نسخہ چلانا چاہا۔ لو بھیا، اب کالم کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں۔ مجھے بھی غلط فہمی ہوئی کہ ایک ہزار لفظوں میں 72برس اور بائیس کروڑ نفوس پر پھیلی غلط فہمی کا محاکمہ کر پاؤں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *