بس یہی فرق ہے!

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

12مارچ 2006 : عراق کے شہر ال محمدیہ میں ایک فوجی چوکی پر تعینات چھ امریکی فوجی بیٹھے شراب پی رہے ہیں‘ان کا تعلق امریکی فوج کی پانچ سو دو انفنٹری رجمنٹ سے ہے ‘انہیں اس بات کی فکر ہے کہ دو سو گز پرے ایک گھر میں چودہ برس کی بچی عبیرقاسم ا ل حمزہ کو کیسے ریپ کیا جائے، کچھ دیر سوچ بچار کے بعد ان میں سے پانچ فوجی اٹھتے ہیں اور عبیرکے گھر کی جانب چلنا شروع کر دیتے ہیں، انہوں نے وردیاں نہیں پہن رکھیں،ایک فوجی گھر کے باہر رک جاتا ہے جبکہ پانچ اندر گھس کر عبیر اور اس کے گھر والوں کو علیحدہ علیحدہ کمروں میں بند کر دیتے ہیں ،ان کا رنگ لیڈر سٹیون ڈیل گرین ہے جوعبیر کے والدین اور چھ سالہ بہن حدیل قاسم حمزہ کو قتل کر دیتا ہے ،جبکہ اس دوران اس کے دو ساتھی جیمز بارکر اور پال کورٹیزچودہ سالہ عبیر کو ریپ کرتے ہیں‘قتل کرنے کے بعد سٹیون اعلان کرتا ہے کہ اس نے سب کو مار دیا ہے اور پھر وہ بھی عبیر کو ریپ کرنے کے بعد اس کے سر میں گولی مار کر اسے ہلاک کر دیتا ہے ،اس کے بعد عبیر کی لاش کو آگ لگائی جاتی ہے جس سے بچی کا نچلا دھڑ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے ۔
16مئی 2006:سٹیون گرین کی شخصیت میں ’’غیرسماجی رویے ‘‘کی شناخت کے بعد اسے باعزت طور پر امریکی فوج سے برخاست کر دیا جاتا ہے، اس وقت تک سٹیون کے جرم کے متعلق کسی کو معلومات نہیں تھیں۔
30جون2006:ایف بی آئی سٹیون کو شمالی کیرولینا سے اس وقت گرفتار کرتی ہے جب وہ اپنے ایک ساتھی فوجی کے جنازے میں شرکت کے بعد گھر واپس جارہا تھا۔
3جولائی 2006 : امریکی وفاقی عدالت سٹیون پر باضابطہ طور پر عبیر کو ریپ کرنے،اسے اور اس کے والدین اور چھ سالہ بہن کو قتل کرنے کی فرد جرم عائد کرتی ہے ۔
10جولائی 2006 : دیگر چار فوجیوں پر امریکی فوج فرد جرم عائد کرتی ہے کیونکہ وہ اس وقت حاضر سروس فوجی ہیں جبکہ چھٹے فوجی پر اس واقعے کی منصوبہ بندی کی اطلاع نہ دینے کا چارج لگایا جاتا ہے ۔
7مئی 2009:کینٹکی کی وفاقی عدالت سٹیون کو ریپ اور قتل کا مجرم قرار دیتی ہے،استغاثہ اس جرم کی پاداش میں پھانسی کا مطالبہ کر تا ہے مگر جیوری کے ممبران کے متفق نہ ہونے کی وجہ سے سٹیون کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے جس میں پیرول پر رہائی ممکن نہیں ،سٹیون کو ایری زونا جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔
اگست 2011:سٹیون سزا کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے یہ موقف اپناتا ہے کہ اس پر مقدمہ صرف فوجی عدالت میں چلایا جا سکتا ہے ،اس دوران ایک انٹرویو میںاس کا یہ بیان سامنے آتا ہے کہ وہ عراقیوں کو انسان نہیں سمجھتا تھا،سٹیون کی اپیل خارج کر دی جاتی ہے۔
15فروری 2014 : آج سے آٹھ روز قبل سٹیون جیل میں خود کشی کرکے خود کو ختم کر لیتا ہے ۔
اس واردات کے دیگر مجرمان میں سے جیمز بارکر کو نوے سال قید سنائی جاتی ہے ‘وعدہ معاف گواہ بننے کی وجہ سے جیمز پھانسی سے بچ جاتا ہے جبکہ کورٹ مارشل کے نتیجے میں پال کورٹیز کو سو برس اورجیسی سپیلمن کو ایک سو دس برس قید کی سزا سنائی جاتی ہے،پال کی پیرو ل پر رہائی بیس سال بعد ممکن ہے اور جیسی کی پیرول پر رہائی دس برس بعد ہو سکتی ہے ۔یہ تینوں مجرم اس وقت کینسس کی ’’ڈسپلنری بیرک‘‘میں ہیں۔ان امریکی درندوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہم کچھ دیر کے لئے پاکستان واپس آتے ہیں۔9اکتوبر 2012 کو سوات میں سکول جانے والی بچیاں وین میں سوار ہیں، اچانک ایک نقاب پوش شخص ظاہر ہوتا ہے اوران بچیوں پر پستول تان کر پوچھتا ہے’’تم میں سے ملالہ کون ہے ؟بولو‘ ورنہ میں تم سب کو گولی مار دوں گا ؟‘‘ ملالہ یوسفزئی بول اٹھتی ہے ’’میں ہوں ملالہ!‘‘وہ شخص ملالہ کے چہر ے پر گولی مار کے اسے شدید زخمی کردیتا ہے ۔
طالبان ببانگ دہل اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ دوبارہ ملالہ پر حملہ کریں گے ۔ اس واقعے کاپاکستان میں دو قسم کا رد عمل سامنے آتا ہے ‘ایک طرف وہ لوگ تھے جو کسی بھی قسم کی ’’اگر مگر‘چونکہ چنانچہ‘‘ کے بغیر ملالہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے اوردوسری طرف وہ لوگ تھے جو نیم دلی کے ساتھ ملالہ پر حملے کی مذمت تو کرتے تھے مگر ابھی ان کے مذمتی الفاظ منہ میں ہی ہوتے کہ وہ ملالہ پر حملے کی تاویلیں تراشنا شروع کر دیتے،اسے سازش قرار دیتے تاکہ شمالی وزیرستان پر حملے کی فضا تیار کی جاسکے، یہ وہی لوگ تھے جن کے نزدیک اس وقت طالبان کے اقبالی بیان کے کوئی اہمیت نہیں تھی (آج وہی لوگ بم دھماکوں سے طالبان کے اظہار لا تعلقی کو آفاقی سچ تسلیم کرنے میں ایک لمحے کی دیر نہیں کرتے)‘حتی ٰ کہ ان میں سے بعض نے تو یہ تھیوریاں بھی ایجاد کیں کہ ملالہ کو سرے سے گولی ہی نہیں لگی ۔اس ضمن میں سب سے بڑا لطیفہ اس وقت سامنے آیا جب ایک انگریزی اخبار میں ان سازشی تھیوریاں پر ایک طنزیہ کالم لکھا گیا جس کے پہلی لائن یہ تھی کہ ’’The following article is a work of satire and fiction‘‘مگر یار لوگوں نے کالم کے مندرجات کو صدق دل سے سچ مان کر ایک دوسرے کو ان کمنٹس کے ساتھ فارورڈ کیا کہ ’’دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ سازش ہے ‘‘!
ملالہ اور عبیر کے واقعات سے کم از کم ایک نتیجہ تو ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ سفاکی اور بربریت کی جو داستان امریکی درندوں نے رقم کی اس کا جواز امریکہ میں کسی نے پیش نہیں کیا،ان کے معاشرے میں سے کسی نے اٹھ کر یہ نہیں کہا کہ امریکی فوج تو وہاں فاتح تھی لہٰذا اسے حق حاصل تھا کہ عراقیوں کے ساتھ اپنی مرضی کا سلوک کرتی‘کسی نے یہ نہیں کہا کہ دراصل یہ امریکی فوجیوں کے خلاف عراقیوں کی ایک سازش تھی ورنہ کوئی امریکی ایسی حرکت نہیں کر سکتا ،کسی نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان میں تو تین سال کی بچی کا ریپ ہو جاتا ہے امریکیوں نے چودہ سال کی بچی کا کیا تو کیا فرق پڑتا ہے ،ان بد بخت فوجیوں کے گھر والوں ‘دوست ‘رشتہ داروں ‘کولیگس میں سے بھی کسی نے ان کے اقدام کا یہ کہہ کر جواز فراہم نہیں کیا کہ ہم اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں مگر امریکی فوجی بہر حال ہمارے اپنے ہیں لہٰذاانہیں سو سو سال کی قید دینا ظلم ہے ‘کسی نے یہ نہیں کہا کہ جو امریکی فوجیوں نے کیا وہ پروٹسٹنٹ یا کیتھولک فرقے کی تعلیمات کی رو سے درست تھا اور اگر آئندہ بھی کسی فوجی کو یہ موقع ملے تو وہ ایسا ہی کرے ،کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ ان امریکی فوجیوں کو سزا دینے سے تو ہم اپنا جرم دنیا کے سامنے تسلیم کر لیں گے اوریوں ملک کی بہت بد نامی ہوگی، کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ اس واقعے کا مقصد دراصل امریکی فوجوں کی عراق سے جلد واپسی کی راہ ہموار کرنا تھا،کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ ان امریکی فوجیوں کو سزا دیتے وقت کیا عدالت کو دیگر سنگین جرائم میں ملوث فلاں فلاں لوگ نظر نہیں آئے ،پہلے انہیں سزا دی جاتی پھر ان فوجیوں کو پوچھا جاتا ،کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جو کچھ کرتے ہیں وہ ایک نظرئیے کی بنیاد پر کرتے ہیں،ان کا طریقہ کار غلط مگر مطالبہ جائز ہے ‘دراصل وہ امریکہ میں مسیحی نظام قائم کرنے کی جدو جہد کر رہے ہیںاورکسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ میڈیا اس واقعے کو اس لئے اچھال رہا ہے کیونکہ وہ ’’درہم خور‘‘ اور مسلم ممالک کا ایجنٹ ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *