گرل فرینڈ سے جنسی تعلقات حلال ہیں،مفتی عبدالقوی کا فتویٰ

دنیا پاکستان(اپنے نمائندے سے ) معروف عالم دین مفتی عبدالقوی صاحب نےاپنے ایک وڈیو بیان میں فرمایا ہے کہ نامحرم عورت کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا حلال ہۓ ، انہوں نے کہا کہ " بحیثیت طالب علم کے ، قرآن و سنت سے جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ یہ کہ آج اکیسویں صدی کے اندر جب ہم نے بدکرداری اور بداخلاقی کا دروازہ بند کرنا ہے تو قرآن و سنت کا خلاصہ یہ ہے کہ شادی ایک ہوگی اور نکاح متعدد ہوں گے-اور ہر وہ محترمہ جو کسی کی  "منکوحہ نہ ہو اور آپ کی محرم نہ ہو ، اس سے آپ جو نکاح کریں گے، جو معاہدہ کریں گے وہ شرعا" نکاح ہو گا اور حلال ہوگا-مفتی عبدالقوی صاحب کے بیان کی وڈیو بھی ذیل میں دی جارہی ہے-

گرل فرینڈ سے جنسی تعلقات حلال ہیں،مفتی عبدالقوی کا فتویٰ” پر بصرے

  • M Shoaib M Shahbaz
    مارچ 6, 2016 at 12:30 AM
    Permalink

    یہ مولوی نہیں خارجی ہے ان خارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

    Reply
  • مارچ 6, 2016 at 5:17 PM
    Permalink

    اس مولوی سے بندہ یہ پوچھے یہ فتوای اس نیں قرآن و سنت سے کہاں سے لیا ھے

    Reply
  • مارچ 6, 2016 at 9:35 PM
    Permalink

    سعودیہ مصر اردن وغیرہ میں نکاح مسیار، شام میں جہاد النکاح ،ایران عراق میں نکاح متعہ اسکی مثالیں ہو سکتی ہیں. واللہ عالم

    Reply
  • مارچ 6, 2016 at 11:32 PM
    Permalink

    Inhon ne kaha hai k nikah k bad halal hai to is main nayee ya hairat ki bat kia ha

    Reply
  • مارچ 7, 2016 at 4:01 PM
    Permalink

    دور حاضر کا بہترین فتوعیٰ ۔۔۔۔باقی علماکرام کو اسکی تقلید کرنا ہوگی

    Reply
  • مارچ 7, 2016 at 4:40 PM
    Permalink

    اس مولوی کو کہو کہ اپنے گھر کی عورتوں پر یہ فتوای ٹرائی کرے ۔، جاہل۔

    Reply
  • مارچ 7, 2016 at 8:55 PM
    Permalink

    وا جي واه موجه هي موجه

    Reply
  • مارچ 8, 2016 at 3:34 PM
    Permalink

    jhota hi yeh shitan ka karinda hi yeh QURAN E PAK mn saaf saaf kaha gia h k phopiyan khalaiyan haram hn tm par to yeh shitan ka cheela jhoot bol raha

    Reply
  • مارچ 8, 2016 at 7:25 PM
    Permalink

    Yeh molvi pagal hai sirf apni eyyashi k liye yeh fatwa fiya hai

    Reply
  • مارچ 9, 2016 at 4:23 AM
    Permalink

    پاكستان مين هر ناممكن كا امكان هـوگا، انگريزي اسلام كا مركز.

    Reply
  • مارچ 17, 2016 at 4:21 PM
    Permalink

    اور اگر ایسا ہی کچھ عورت بھی کرنا چاہے تو۔۔؟؟ یعنی ایک شادی شدہ عورت نامحرم اور غیرشادی شدہ لڑکوں کوں سے نکاح (جنسی تعلق قائم کرنے کے معاہدے) کرنا چاہے۔ اس کا حکم بیان نہیں کیا۔
    ویڈیو بہت مختصر ہے اور وہ بہت ہی غیر واضح ہے۔ جہاد النکاح کوئی چیز نہیں، متعہ سنی علما کے نزدیک حرام ہے۔ اور شیعہ علماء کے یہاں متعہ بھی کئی شرطیں رکھتا ہے۔ اس میں لڑکی کو بہت زیادہ تحفظ بھی دیا جاتا ہے۔اور زواج مسیار بھی درست معلوم نہیں ہوتا، یہ ابھی بہت ہی غیر معروف ہے کم از کم ہمارے ایشیائی ممالک میں اس کی مثالیں نہیں ملتیں، جنہوں نے اجازت دی ہوگی انہوں نے اس کے حدود و قیود بھی بیان کئے ہوںگے۔ درست بات یہ ہے کہ یہ بالکل واہیات بات ہے۔ جو یہ صاحب کہہ رہے ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *