اہم پیش رفت

Najam Sethi
بہت سی اہم پیش رفت لائق ِ تبصرہ ہیں۔پنجاب اسمبلی نے خواتین کو تشدد سے بچانے کے لئے بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، وفاقی حکومت نے پنجاب کے سابق گورنر ، سلمان تاثیر کے قاتل، ممتاز قادری کی رحم کی اپیل مسترد کردی۔ ممتاز قادری نے عدالت کے سامنے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ حکومت نے گوجرانوالہ نے میں گمنام دہشت گردوں کے خلاف بھارتی ایئربیس ، پٹھان کوٹ پر حملے کی ایف آئی آر درج کرادی۔ نیب نے نہ صرف حکمران، شریف خاندان کے خلاف 1990 کی دہائی میں کی گئی مبینہ بدعنوانی کی فائلیں کھول لی ہیں بلکہ وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کے موجودہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی نظر ڈالی جارہی ہے۔ بظاہر تو ان میں سے ہر ایک معاملہ اپنی جگہ الگ اہمیت رکھتا ہے، لیکن غور کرنے سے احساس ہوتا ہے کہ ان کے درمیان ایک نادیدہ ربط موجود ہے۔ یہ ربط ان معاملات کو ایک انتہائی شکل دیتا محسوس ہوتا ہے۔ پنجاب میں خواتین کے تحفظ کا بل کوئی معمولی اہمیت کا حامل نہیں۔منظور کئے جانے والا یہ بل گھریلو، جذباتی اور نفسیاتی تشدد اور مالی نقصان اور سائبر کرائم جیسے جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ بل مئی 2015ء میں پیش کیا گیا لیکن اسے ایوان میں اٹھائے گئے کچھ اعتراضات کی وجہ سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ حکمران جماعت کے کچھ ارکان بھی معترضین میں شامل تھے۔ اب ایسا لگتا ہے جیسے اسمبلی یکا یک خواب سے جاگی ہواور مذہبی پارٹیوں بشمول اسلامی نظریاتی کونسل کے احتجاج کے باوجود اس بل کو کسی ترمیم کے بغیر منظور کرلیا ۔ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ شریف برادران اُن معاملات کے بارے میں بہت حساس ہیں جو مذہبی قوتوں کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ اب ایسا کیا ہوگیا کہ اُنھوں نے ’’لبرل قانون سازی‘‘ کی جرات کرلی؟
ایسے ہی سوالات اُس وقت بھی ذہن میں ابھرے تھے جب پنجاب پولیس کے ساتھ ہونے والے مبینہ مقابلوں میں بہت سے نامی گرامی انتہا پسند اور دہشت گرد ہلاک ہونے لگے۔ اس سے پہلے کسی نے ان دہشت گرد وں کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ وزیر ِاعظم نواز شریف نے کھلے عامِ ، اسمبلی میں کھڑے ہوکر، شرمین عبید چنائے کی آسکر انعام یافتہ ڈاکو منٹری فلم، جس کا موضوع عزت کے نام پر قتل ہے، کی تعریف کی۔ اس کے بعد ممتاز قادری کو عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ، اور اس پر بھی وزیر ِاعظم کا لہجہ معذرت خواہانہ ہرگز نہ تھا۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں مذہبی طبقے کا مشتعل ہوجانا لازمی امر تھا۔ مبصرین کا اندازہ تھا کہ اشتعال و احتجاج کہیں پھیل نہ جائے لیکن نماز جنازہ کے بعد احتجاج کو طول نہیں ملا۔ دفاع پاکستان کونسل والے کہیں دکھائی تک نہ دئیے،ورنہ جب بھی ’’اسلام خطرے میں ‘‘ ہوتا تھا، یہ طبقات سڑکوں پر ہوتے تھے۔ درحقیقت گوجرانوالہ میں پٹھان کوٹ حملے کی ایف آئی آر کا اندراج کا مقصد جہادی گروہوں کو اشتعال دلانا تھا،لیکن ان کے مریدکے اور بہاولپور ہیڈکوارٹرز میں ایک پتہ تک نہ کھڑکا۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک صفحے پر ہیں تو دوسری طرف انتہا پسندوں کو بھی پیغام پہنچ گیا ہے کہ ایسی پیش رفت کو متنازع بنانے سے گریز کیا جانا ہی بہتر ہوگا۔ ایسی یقین دہانی کے بغیر شریف برادران اس خطرناک وادی میں قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ تاہم اس پیش رفت، خاص طور پر گوجرانوالہ مقدمے ، کا مطلب یہ کہ ریاست دبے لفظوں میں اعتراف کررہی ہے کہ کچھ جہادیوں نے بارڈر عبور کرکے یہ کارروائی کی ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ لگنے والے الزام پر غصے میں ہے کہ ان جہادیوں کی وجہ سے پاکستان کے قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف انڈیا کا نہیں بلکہ وسیع تر عالمی برادری کا ہے جسے پاکستان ناراض نہیں کرسکتا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کی بطور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر تقرری نے بھارت، افغانستان اور عالمی برداری کو اہم پیغام دیا تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ماضی میں ملٹری ملا الائنس کے التباسات سے آگے بڑھنے کے لئے کمر بستہ ہے۔ اس دوران پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں بھی ملک کے استحکام کی خاطراس تبدیلی کاساتھ دے رہی ہیں۔
ا س سے پہلے پوری دنیا میں اسلامی پرچم لہرانے کے رومانوی عزم کا ہمیں اور کوئی فائدہ تو نہ ہوا سوائے یہ پاکستان میںمذہبی بنیاد پرستی کی جڑیں گہری ہوتی چلی گئیں۔ 1980 کی دہائی کے مجاہدین نے 1990 کی دہائی میں طالبان اور آخر کار 2000کی دہائی میں داعش کا روپ دھار لیا۔ اب یہ انتہا پسند نیشن اسٹیٹ کے تصور کو ختم کرکے نام نہاد عالمی اسلامی خلافت قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اب ہماری فوج بھی اس حقیقت کو سمجھ گئی ہے کہ پاکستانی طالبان ہی ملک کو درپیش حقیقی خطرہ ہیں۔ یہ بات سب سے پہلے جنرل کیانی صاحب نے تسلیم کی تھی۔ اس دوران فوج کے افغانستان کے حوالے سے تصورات بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ افغانستان میں افغان قوم پرستی کو ملنے والا استحکام پاکستان کے لئے وہاں اسٹرٹیجک گہرائی تلاش کرنا ناممکن بنا دیتا ہے۔اسی طرح اسٹیبلشمنٹ افغان طالبان کے حوالے سے بھی حقیقت پسندی سے سوچ رہی ہے۔ اب کابل تک جانے کا راستہ راولپنڈی کی بجائے اسلام آبادسے شروع ہوگا۔ جنرل راحیل شریف نے نیب کو مہمیز دی ہے کہ وہ احتساب کرتے ہوئے کسی کا لحاظ نہ کرے۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا یہ پیش رفت دیر پا ثابت ہوتے ہوئے مثبت نتائج تک لے جائے گی یایہ راستے میں ہی دم توڑ دےگی۔ بہت سے معاملات کا دارومدار اگلے آرمی چیف کے چنائو پر بھی ہوگا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *